مسنَد الشَّامِیِّینَ 488. تَمَام حَدِیثِ عَمرِو بنِ امَیَّةَ الضَّمرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حكم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة جعفر بن عمرو
حضرت عمروبن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں اور عمامے پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حكم دارالسلام: حديث صحيح، محمد بن مصعب تكلم فيه، لكنه توبع
حضرت عمروبن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حكم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 204
حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حكم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 204
حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عضو کا گوشت تناول فرمایا: پھر نیا وضو کئے بغیر ہی نماز پڑھ لی۔
حكم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5422، فليح اختلف فيه، لكنه توبع
حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بکری کے شانے کا گوشت نوچ کر کھا رہے ہیں، پھر نماز کے لئے بلایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری رکھ دی اور نیا وضو نہیں کیا۔
حكم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 675، م: 355
حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بکری کے شانے کا گوشت نوچ کر کھا رہے ہیں، پھر نماز کے لئے بلایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری رکھ دی اور نیا وضو نہیں کیا۔
حكم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2923، م: 355
حضرت عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کے وقت سوتے رہے اور طلوع آفتاب تک کوئی بھی بیدار نہ ہوسکا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلنم نے (اسے قضاء کرتے ہوئے) پہلے دو سنتیں پڑھیں، پھر نماز کھڑی کر کے نماز فجر پڑھائی۔
حكم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، فيه علتان: جهالة الزبرقان، والانقطاع بين زبرقان وعمه عمرو بن أمية
حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تنہا انہیں قریش کی طرف جاسوس بنا کر بھیجا (دشمنوں نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو شہید کر کے ان کی نعش کو لکڑی سے ٹانگ رکھا تھا) میں حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کی اس لکڑی کے پاس پہنچا، مجھے قریش کے جاسوسوں کا خطرہ تھا اس لئے میں جلدی سے اوپر چڑھ کر حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو کھولا، وہ زمین پر گرپڑے اور میں کچھ دور جا گرا، جب میں پلٹ کر حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو وہ نظر نہ آئے، ایسا لگتا تھا کہ زمین انہیں نگل گئی ہے، یہی وجہ ہے اب تک حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
حكم دارالسلام: إسناده ضعيف لعدة علل
|