كتاب الطهارة وسننها کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل 22. بَابُ: التَّبَاعُدِ لِلْبَرَازِ فِي الْفَضَاءِ باب: قضائے حاجت کے لیے میدان میں دور جانے کا بیان۔
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے تشریف لے جاتے تو دور جاتے ۱؎۔
تخریج الحدیث: «سنن ابی داود/الطہارة 1 (1)، سنن الترمذی/الطہارة 16 (20)، سنن النسائی/الطہارة 16 (17)، (تحفة الأشراف: 11540)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/244)، سنن الدارمی/الطہارة 4 (686) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مقصود اس سے پردہ ہے، جہاں سے اور جیسے بھی حاصل ہو جائے کافی ہے۔ قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ قضائے حاجت کے لیے الگ تھلگ ہوئے پھر واپس آئے، وضو کے لیے پانی مانگا اور وضو کیا۔
تخریج الحدیث: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1092، ومصباح الزجاجة: 137) (صحیح)» (سند میں ضعف ہے، اس لئے کہ عمر بن المثنی الاشجعی الرقی مستور اور عطاء خراسانی تدلیس و ارسال کرنے والے ہیں، اور ان کی روایت عنعنہ سے ہے، نیز ان کا سماع انس رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے، لیکن دوسرے طرق سے یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 33)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف
إسناده ضعيف قال البوصيري: ”ھذا إسناد ضعيف لضعف (عمر بن المثني) الأشجعي وقال أبو زرعة: عطاء لم يسمع من أنس“ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 388
یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے تشریف لے جاتے تو دور نکل جاتے۔
تخریج الحدیث: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11852، ومصباح الزجاجة: 138) (صحیح)» (یونس بن خباب ضعیف ہیں لیکن حدیث مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے آئی ہے، اس لئے صحیح ہے، کما تقدم (331) نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1159)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
عبدالرحمٰن بن ابوقراد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا، آپ قضائے حاجت کے لیے دور نکل گئے۔
تخریج الحدیث: «سنن النسائی/الطہارة 16 (16)، (تحفة الأشراف: 9733)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/ 443، 4/224) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے اس وقت تک نہ بیٹھتے جب تک کہ نظروں سے اوجھل نہ ہو جاتے۔
تخریج الحدیث: «سنن ابی داود/الطہارة 1 (2)، (تحفة الأشراف: 2659)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/المقدمة 4 (17) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف
إسناده ضعيف سنن أبي داود (2) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 389
بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تو دور نکل جاتے۔
تخریج الحدیث: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2029، ومصباح الزجاجة: 139) (صحیح)» (سند میں کثیر بن عبد اللہ ضعیف ہیں، لیکن سابقہ احادیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
|