كتاب الطهارة وسننها کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل 9. بَابُ: مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا دَخَلَ الْخَلاَءَ باب: قضائے حاجت کے وقت کیا دعا پڑھے؟
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ پاخانہ جنوں کے حاضر ہونے کی جگہیں ہیں، لہٰذا جب کوئی پاخانہ میں جائے تو کہے: «اللهم إني أعوذ بك من الخبث والخبائث» یعنی: ”اے اللہ! میں ناپاک جنوں اور جنیوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں“ ۱؎۔
تخریج الحدیث: «سنن ابی داود/الطہارة 3 (6)، (تحفة الأشراف: 3685)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/369، 373) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: پاخانہ میں داخل ہونے، اور میدان میں کپڑا اوپر کرنے سے قبل یہ دعا پڑھے۔ قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
اس سند سے زید بن ارقم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگے انہوں نے یہی سابقہ حدیث ذکر کی، زید بن ارقم کی یہ حدیث دوسری دو سندوں سے بھی مروی ہے“۔
تخریج الحدیث: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3681) وانظر ماقبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنوں اور بنی آدم (انسانوں) کی شرمگاہوں کے درمیان پردہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص پاخانہ میں داخل ہو تو «بسم اللہ» کہے“۔
تخریج الحدیث: «سنن الترمذی/الجمعة 73 (606)، (تحفة الأشراف: 10312) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف
إسناده ضعيف ترمذي (606) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 386
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانہ میں داخل ہوتے تو فرماتے: «أعوذ بالله من الخبث والخبائث» یعنی: ”میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ناپاک جنوں اور جنیوں کے شر سے“۔
تخریج الحدیث: «صحیح مسلم/الحیض32 (375)، سنن النسائی/الطہارة 18 (19)، (تحفة الأشراف: 997)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 9 (142)، الدعوات 15 (6322)، سنن ابی داود/الطہارة 3 (4)، سنن الترمذی/الطہارة 4 (5)، مسند احمد (3/101، 282)، سنن الدارمی/الطہارة 10 (696) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص پاخانہ میں داخل ہو تو اس دعا کے پڑھنے میں کوتاہی نہ کرے: «اللهم إني أعوذ بك من الرجس النجس الخبيث المخبث الشيطان الرجيم» یعنی: ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ناپاک، گندے، برے بدکار راندے ہوئے شیطان کے شر سے“۔
تخریج الحدیث: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4914، ومصباح الزجاجة: 121) (ضعیف)» (اس میں عبیداللہ بن زحر، علی بن یزید اور القاسم ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 2189)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف
إسناده ضعيف علي بن يزيد:ضعيف والحديث ضعفه البوصيري انوار الصحيفه، صفحه نمبر 386
اس سند سے ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں: «من الرجس النجس» کے الفاظ مذکور نہیں ہیں، بلکہ «من الخبيث المخبث الشيطان الرجيم» ہے۔
|