كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم کتاب: تفسیر قرآن کریم 16. باب وَمِنْ سُورَةِ الْحِجْرِ باب: سورۃ الحجر سے بعض آیات کی تفسیر۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک خوبصورت عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (عورتوں کی صفوں میں) نماز پڑھا کرتی تھی تو بعض لوگ آگے بڑھ کر پہلی صف میں ہو جاتے تھے تاکہ وہ اسے نہ دیکھ سکیں اور بعض آگے سے پیچھے آ کر آخری صف میں ہو جاتے تھے (عورتوں کی صف سے ملی ہوئی صف میں) پھر جب وہ رکوع میں جاتے تو اپنی بغلوں کے نیچے سے اسے دیکھتے، اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين» ”ہم خوب جانتے ہیں ان لوگوں کو جو آگے بڑھ جانے والے ہیں اور ان لوگوں کو بھی جو پیچھے ہٹ جانے والے ہیں“ (الحجر: ۲۴)، نازل فرمائی۔
جعفر بن سلیمان نے یہ حدیث عمرو بن مالک سے اور عمروبن مالک نے ابوالجوزاء سے اسی طرح روایت کی ہے، اور اس میں «عن ابن عباس» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اور اس میں اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ یہ نوح کی حدیث سے زیادہ صحیح و درست ہو۔ تخریج الحدیث: «سنن النسائی/الإمامة 62 (871)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 68 (1046) (تحفة الأشراف: 5364)، و مسند احمد (1/305) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (2472)، الثمر المستطاب / الصلاة
قال الشيخ زبير على زئي: (3122) إسناده ضعيف / ن 871، جه 1046
عمرو بن مالك النكري: ضعيف عن ابي الجوزاء وقال ابن عي في ابي الجوزاء ”حديث عنه عمرو بن مالك قدر عشرة احاديث غير محفوظة“ (الكامل 402/1)
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم کے سات دروازے ہیں، ان میں سے ایک دروازہ ان لوگوں کے لیے ہے جو میری امت یا امت محمدیہ پر تلوار اٹھائیں“ ۱؎۔
۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف مالک بن مغول کی روایت سے جانتے ہیں۔ تخریج الحدیث: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 6678) (ضعیف) (سند میں جنید مجہول الحال راوی ہیں)»
وضاحت: ۱؎: مولف نے یہ حدیث ارشاد باری تعالیٰ «لها سبعة أبواب» (الحجر: ۴۴) کی تفسیر میں لائے ہیں۔ قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (3530 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (4661) //
قال الشيخ زبير على زئي: (3123) إسناده ضعيف
قال أبوحاتم الززي: ”جنيد عن ابن عمر: مرسل“ (الجرح والتعديل 527/2)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورۃ الحمدللہ (فاتحہ)، ام القرآن ہے، ام الکتاب (قرآن کی اصل اساس ہے) اور «السبع المثانی» ہے (باربار دہرائی جانے والی آیتیں) ۱؎۔
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج الحدیث: «صحیح البخاری/تفسیر الحجر 3 (4704)، سنن ابی داود/ الصلاة 351 (…) (تحفة الأشراف: 13014) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث کو مؤلف نے ارشاد باری تعالیٰ: «ولقد آتيناك سبعا من المثاني والقرآن العظيم» (الحجر: ۸۷) کی تفسیر میں ذکر کیا ہے۔ قال الشيخ الألباني: صحيح، صحيح أبي داود (131)
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ابی بن کعب کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تو رات میں اور نہ ہی انجیل میں ام القرآن (فاتحہ) جیسی کوئی سورۃ نازل فرمائی ہے، اور یہ سات آیتیں ہیں جو (ہر رکعت میں پڑھی جانے کی وجہ سے) باربار دہرائی جانے والی ہیں، اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان تقسیم ہیں اور میرے بندے کے لیے وہ سب کچھ ہے جو وہ مانگے“۔
تخریج الحدیث: «انظر حدیث رقم 2875 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، التعليق الرغيب (2 / 216)
عبدالعزیز بن محمد نے علاء بن عبدالرحمٰن اور علاء نے اپنے باپ عبدالرحمٰن سے اور عبدالرحمٰن نے ابوہریرہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابی کے پاس گئے، اس وقت وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ (آگے) انہوں نے اسی کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔
عبدالعزیز بن محمد کی حدیث لمبی اور مکمل ہے اور یہ عبدالحمید بن جعفر کی روایت سے زیادہ صحیح ہے اور اسی طرح کئی ایک نے علاء بن عبدالرحمٰن سے روایت کی ہے۔ تخریج الحدیث: «تفرد بہ المؤلف وانظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: 14070) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، التعليق الرغيب (2 / 216)
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے قول «لنسألنهم أجمعين عما كانوا يعملون» ”ہم ان سے پوچھیں گے اس کے بارے میں جو وہ کرتے تھے“ (الحجر: ۹۲)، کے متعلق فرمایا: ”یہ پوچھنا «لا إله إلا الله» کے متعلق ہو گا“۔
۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے لیث بن ابی سلیم کی روایت ہی سے جانتے ہیں، ۳- عبداللہ بن ادریس نے لیث بن ابی سلیم سے، اور لیث نے بشر کے واسطہ سے انس سے ایسے ہی روایت کی ہے، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔ تخریج الحدیث: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 247) (ضعیف الإسناد) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف، اور بشر مجہول راوی ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: (3126) إسناده ضعيف
ليث: ضعيف (تقدم:218) وبشر: مجھول (تق:710)
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے“، پھر آپ نے آیت «إن في ذلك لآيات للمتوسمين» ”بیشک اس میں نشانیاں ہیں سمجھ داروں کے لیے ہے“ (الحجر: ۷۵)، تلاوت فرمائی۔
۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، بعض اہل علم نے اس آیت «إن في ذلك لآيات للمتوسمين» کی تفسیر یہ کی ہے کہ اس میں نشانیاں ہیں اصحاب فراست کے لیے۔ تخریج الحدیث: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 4217) (ضعیف) (سند میں عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں، ملاحظہ ہو: الضعیفة رقم: 1821)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف، الضعيفة (1821) // ضعيف الجامع الصغير (127) //
قال الشيخ زبير على زئي: (3127) ضعيف
عطية: ضعيف (تقدم: 477) وللحديث شواھد ضعيفة |