كِتَاب الصَّلَاةِ کتاب: نماز کے احکام و مسائل 56. باب فِي الْجَمْعِ فِي الْمَسْجِدِ مَرَّتَيْنِ باب: مسجد میں دو مرتبہ جماعت کرنے کا بیان۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اکیلے نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا: ”کیا کوئی نہیں ہے جو اس پر صدقہ کرے، یعنی اس کے ساتھ نماز پڑھے“۔
تخریج الحدیث: «سنن الترمذی/الصلاة 50 (220)، (تحفة الأشراف: 4256)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/64، 85)، سنن الدارمی/الصلاة 98 (1408) (صحیح)»
وضاحت: جامع ترمذی میں درج ذیل حدیث کا عنوان ہے: جس مسجد میں ایک بار (باجماعت) نماز ہو چکی ہو اس میں جماعت کا بیان۔ درج ذیل صحیح حدیث سے دوسری جماعت کا جواز ثابت ہوتا ہے۔ چنانچہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ نماز میں شریک ہو گئے (ابن ابی شیبہ)۔ اکیلے نماز پڑھنے والے کو اپنا امام بنا لینا جائز ہے۔ اگرچہ دوسرے نے اپنی نماز پڑھ لی ہو۔ قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1146) صححه ابن خزيمة (1632 وسنده صحيح) |