كِتَاب الصَّلَاةِ کتاب: نماز کے احکام و مسائل 82. باب فِي الرَّجُلِ يُصَلِّي فِي قَمِيصٍ وَاحِدٍ باب: آدمی ایک کرتے (قمیص) میں نماز پڑھے تو کیسا ہے؟
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں شکاری ہوں، کیا میں ایک کُرتے (قمیض) میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اور اسے ٹانک لیا کرو (بٹن لگا لیا کرو)، خواہ کسی کانٹے سے ہی سہی“۔
تخریج الحدیث: «سنن النسائی/القبلة 15 (766)، (تحفة الأشراف: 4533)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/49، 54) (حسن)»
وضاحت: ظاہر ہے کہ اس سے مراد عرب کی خاص لمبی قمیص ہے۔ اگر اس کے نیچے شلوار یا چادر نہ بھی ہو تو نماز جائز ہے، بشرطیکہ ستر پوری طرح ڈھکا ہوا ہو، اگر ستر کھلنے کا اندیشہ ہو تو اسے باندھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
مشكوة المصابيح (760) صححه ابن خزيمة (777، 778 وسنده حسن) موسيٰ بن إبراھيم صرح بالسماع عند أحمد (4/49)
عبدالرحمٰن بن ابی بکر کہتے ہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے ایک کرتے میں ہماری امامت کی، ان کے جسم پر کوئی چادر نہ تھی، تو جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کرتے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ۱؎۔
تخریج الحدیث: «تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 2379)، وقد أخرجہ: وقد ورد بلفظ: ’’ثوب واحد‘‘ عند: صحیح البخاری/الصلاة 3 (353)، صحیح مسلم/الصلاة 52 (518)، مسند احمد (3/293، 294) (ضعیف)» (عبدالرحمن بن أبی بکر ملیکی ضعیف ہیں، یہ حدیث صحیحین میں ’’ایک کپڑا‘‘ کے لفظ سے موجود ہے)
وضاحت: ۱؎: صحیحین میں ”ایک قمیص یا کرتا“کی جگہ ”ایک کپڑا“ یا ”ایک تہبند“ کا لفظ ہے۔ قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف
إسناده ضعيف العامري: مجهول (تقريب: 8068) و محمد بن عبد الرحمٰن بن أبي بكر و أبوه ضعيفان ضعفھما الجمهور،انظر تقريب التهذيب (6065،3815 مجهول) وكتب المجروحين انوار الصحيفه، صفحه نمبر 35 |