قرآن مجيد

سورة الشعراء
اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کیجئیے۔

نمبر آیات تفسیر

151
اور حد سے بڑھنے والوں کا حکم مت مانو۔

152
وہ جو زمین میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔

153
انھوں نے کہا توُ تو انھی لوگوں سے ہے جن پر زبردست جادو کیا گیا ہے۔

154
تو نہیں ہے مگر ہمارے جیسا ایک آدمی، پس کوئی نشانی لے آ، اگر تو سچوں سے ہے۔

155
اس نے کہا یہ ایک اونٹنی ہے، اس کے لیے پانی پینے کی ایک باری ہے اور تمھارے لیے ایک مقرر دن کی باری ہے۔

156
اور اسے کسی برائی سے ہاتھ نہ لگانا، ورنہ تمھیں ایک بڑے دن کا عذاب پکڑلے گا۔

157
تو انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں، پھر پشیمان ہوگئے۔

158
تو انھیں عذاب نے پکڑ لیا۔ بے شک اس میں یقینا عظیم نشانی ہے اوران کے اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔

159
اور بلاشبہ تیرا رب، یقینا وہی سب پر غالب، نہایت رحم والا ہے۔

160
لوط کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا۔

161
جب ان کے بھائی لوط نے ان سے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟

162
بے شک میں تمھارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں۔

163
پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔

164
اور میں اس پر تم سے کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا، میری اجرت تو رب العالمین ہی کے ذمے ہے۔

165
کیا سارے جہانوں میں سے تم مردوں کے پاس آتے ہو۔

166
اور انھیں چھوڑ دیتے ہو جو تمھارے رب نے تمھارے لیے تمھاری بیویاں پیدا کی ہیں، بلکہ تم حد سے گزرنے والے لوگ ہو۔

167
انھوں نے کہا اے لوط! بے شک اگر تو باز نہ آیا تو یقینا تو ضرور نکالے ہوئے لوگوں سے ہو جائے گا۔

168
اس نے کہا بے شک میں تمھارے کام سے سخت دشمنی رکھنے والوں سے ہوں۔

169
اے میرے رب! مجھے اور میرے گھر والوں کو اس سے نجات دے جو یہ کرتے ہیں۔

170
تو ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو نجات دی۔

171
سوائے ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہنے والوں سے تھی۔

172
پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا۔

173
اور ہم نے ان پر بارش برسائی، زبردست بارش۔ پس ان لوگوں کی بارش بری تھی جنھیں ڈرایا گیا تھا۔

174
بے شک اس میں یقینا ایک نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان والے نہیں تھے۔

175
اور بلاشبہ تیرا رب، یقینا وہی سب پر غالب، نہایت رحم والا ہے۔

176
ایکہ والوں نے رسولوں کو جھٹلایا۔

177
جب ان سے شعیب نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟

178
بے شک میں تمھارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں۔

179
پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔

180
اور میں اس پر تم سے کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا، میری اجرت تو رب العالمین ہی کے ذمے ہے۔

181
ماپ پورا دو اور کم دینے والوں میں سے نہ بنو۔

182
اور سیدھی ترازو کے ساتھ وزن کرو۔

183
اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو اور زمین میں فساد کرتے ہوئے دنگا نہ مچاؤ۔

184
اور اس سے ڈرو جس نے تمھیں اور پہلی مخلوق کو پیدا کیا۔

185
انھوں نے کہا توُ تو انھی لوگوں سے ہے جن پر زبردست جادو کیا گیا ہے۔

186
اور تو نہیں ہے مگر ہمارے جیسا ایک بشر اور بے شک ہم تو تجھے جھوٹوں میں سے سمجھتے ہیں۔

187
سو ہم پر آسمان سے کچھ ٹکڑے گرا دے، اگر تو سچوں میں سے ہے۔

188
اس نے کہا میرا رب زیادہ جاننے والا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو۔

189
چنانچہ انھوں نے اسے جھٹلا دیا تو انھیں سائبان کے دن والے عذاب نے آپکڑا۔ یقینا وہ بہت بڑے دن کا عذاب تھا۔

190
بے شک اس میں یقینا ایک نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان والے نہیں تھے۔

191
اور بلاشبہ تیرا رب، یقینا وہی سب پر غالب، نہایت رحم والا ہے۔

192
اور بے شک یہ یقینا رب العالمین کا نازل کیا ہوا ہے۔

193
جسے امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے۔

194
تیرے دل پر، تاکہ تو ڈرانے والوں سے ہو جائے۔

195
واضح عربی زبان میں۔

196
اور بے شک یہ یقینا پہلے لوگوں کی کتابوں میں موجود ہے۔

197
اورکیا ان کے لیے یہ ایک نشانی نہ تھی کہ اسے بنی اسرائیل کے علماء جانتے ہیں۔

198
اور اگر ہم اسے غیر عرب لوگوں میں سے کسی پر نازل کرتے۔

199
پس وہ اسے ان پر پڑھتا تو بھی وہ اس پر ایمان لانے والے نہ ہوتے۔

200
اسی طرح ہم نے یہ بات مجرموں کے دلوں میں داخل کر دی۔