قرآن مجيد

سورة الشعراء
اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کیجئیے۔

نمبر آیات تفسیر

201
وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے، یہاں تک کہ وہ دردناک عذاب دیکھ لیں۔

202
پس وہ ان پر اچانک آپڑے اور وہ سوچتے بھی نہ ہوں۔

203
تو وہ کہیں کیا ہم مہلت دیے جانے والے ہیں۔

204
تو کیا وہ ہمارا عذاب ہی جلدی مانگتے ہیں۔

205
پس کیا تو نے دیکھا اگر ہم انھیں کئی سال فائدہ دیں۔

206
پھر ان کے پاس وہ چیز آجا ئے جس کا وہ وعدہ دیے جاتے تھے۔

207
تو وہ فائدہ جو وہ دیے جاتے تھے، ان کے کس کام آئے گا؟

208
اور ہم نے کوئی بستی تباہ نہیں کی مگر اس کے لیے کئی ڈرانے والے تھے۔

209
یاد دہانی کے لیے اور ہم ظالم نہ تھے۔

210
اور اسے لے کر شیاطین نہیں اترے۔

211
اور نہ یہ ان کے لائق ہے اور نہ وہ یہ کر سکتے ہیں۔

212
بلاشبہ وہ تو سننے ہی سے الگ کیے ہوئے ہیں۔

213
سو تو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو مت پکار، ورنہ تو عذاب دیے جانے والوں سے ہوجائے گا۔

214
اور اپنے سب سے قریب رشتہ داروں کو ڈرا۔

215
اور اپنا بازو اس کے لیے جھکا دے جو ایمان والوں میں سے تیرے پیچھے چلے۔

216
پھر اگر وہ تیری نافرمانی کریں تو کہہ دے کہ بے شک میں اس سے بری ہوں جو تم کرتے ہو۔

217
اور اس سب پر غالب، نہایت رحم والے پر بھروسا کر۔

218
جو تجھے دیکھتا ہے، جب تو کھڑا ہوتا ہے۔

219
اور سجدہ کرنے والوں میں تیرے پھرنے کو بھی۔

220
بے شک وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والاہے۔

221
کیا میں تمھیں بتاؤں شیاطین کس پر اترتے ہیں۔

222
وہ ہر زبردست جھوٹے، سخت گناہ گار پر اترتے ہیں۔

223
وہ سنی ہوئی بات لا ڈالتے ہیں اور ان کے اکثر جھوٹے ہیں۔

224
اور شاعر لوگ، ان کے پیچھے گمراہ لوگ لگتے ہیں۔

225
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں سر مارتے پھرتے ہیں۔

226
اور یہ کہ وہ کہتے ہیں جو کرتے نہیں۔

227
مگر وہ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اور اللہ کو بہت یاد کیا اور انتقام لیا، اس کے بعد کہ ان پر ظلم کیا گیا اور عنقریب وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا، جان لیں گے کہ وہ لوٹنے کی کون سی جگہ لوٹ کر جائیں گے۔