نمبر | آیات | تفسیر |
101 |
اور نہ کوئی دلی دوست۔ | |
102 |
تو کاش کہ ہمارے لیے واپس جانے کا ایک موقع ہو، توہم مومنوں میں سے ہو جائیں۔ | |
103 |
بے شک اس میں یقینا عظیم نشانی ہے اوران کے اکثر ایمان والے نہیں تھے۔ | |
104 |
اور بے شک تیرا رب، یقینا وہی سب پر غالب، نہایت رحم والا ہے۔ | |
105 |
نوح کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا۔ | |
106 |
جب ان سے ان کے بھائی نوح نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں؟ | |
107 |
بے شک میں تمھارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں۔ | |
108 |
پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔ | |
109 |
اور میں اس پر تم سے کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا، میری اجرت تو رب العالمین ہی کے ذمے ہے۔ | |
110 |
پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔ | |
111 |
انھوں نے کہا کیا ہم تجھ پر ایمان لے آئیں، حالانکہ تیرے پیچھے وہ لوگ لگے ہیں جوسب سے ذلیل ہیں۔ | |
112 |
اس نے کہا اور مجھے کیا علم کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں۔ | |
113 |
ان کا حساب تو میرے رب ہی کے ذمے ہے، اگر تم سمجھو۔ | |
114 |
اور میں ایمان والوں کو کسی صورت نکال دینے والا نہیں ہوں۔ | |
115 |
میں نہیں ہوں مگر ایک کھلم کھلا ڈرانے والا۔ | |
116 |
انھوں نے کہا اے نوح! یقینا اگر تو باز نہ آیا تو ہر صورت سنگسار کیے گئے لوگوں سے ہوجائے گا۔ | |
117 |
اس نے کہا اے میرے رب! بے شک میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا۔ | |
118 |
پس تو میرے درمیان اور ان کے درمیان فیصلہ کر دے،کھلا فیصلہ اور مجھے اور میرے ساتھ جو ایمان والے ہیں، انھیں بچالے۔ | |
119 |
تو ہم نے اسے اور ان کو جو اس کے ساتھ بھری ہوئی کشتی میں تھے، بچا لیا۔ | |
120 |
پھر اس کے بعد باقی لوگوں کو غرق کر دیا۔ | |
121 |
بے شک اس میں یقینا عظیم نشانی ہے اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔ | |
122 |
اور بلاشبہ تیرا رب، یقینا وہی سب پر غالب، نہایت رحم والا ہے۔ | |
123 |
عاد نے رسولوں کو جھٹلایا۔ | |
124 |
جب ان سے ان کے بھائی ہود نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟ | |
125 |
بے شک میں تمھارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں۔ | |
126 |
پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔ | |
127 |
اور میں اس پر تم سے کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا، میری اجرت تو رب العالمین ہی کے ذمے ہے۔ | |
128 |
کیا تم ہر اونچی جگہ پر ایک یادگار بناتے ہو؟ اس حال میں کہ لاحاصل کام کرتے ہو۔ | |
129 |
اور بڑی بڑی عمارتیں بناتے ہو، شاید کہ تم ہمیشہ رہو گے۔ | |
130 |
اور جب تم پکڑتے ہو تو بہت بے رحم ہو کر پکڑتے ہو۔ | |
131 |
پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔ | |
132 |
اور اس سے ڈرو جس نے ان چیزوں سے تمھاری مدد کی جنھیں تم جانتے ہو۔ | |
133 |
اس نے چوپاؤں اور بیٹوں کے ساتھ تمھاری مدد کی۔ | |
134 |
اور باغوں اور چشموں کے ساتھ۔ | |
135 |
یقینا میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ | |
136 |
انھوں نے کہا ہم پر برابر ہے کہ تو نصیحت کرے، یا نصیحت کرنے والوں میں سے نہ ہو۔ | |
137 |
نہیں ہے یہ مگر پہلے لوگوں کی عادت۔ | |
138 |
اور ہم قطعاً عذاب دیے جانے والے نہیں۔ | |
139 |
پس انھوں نے اسے جھٹلا دیا تو ہم نے انھیں ہلاک کر دیا، بے شک اس میں یقینا عظیم نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔ | |
140 |
اور بلاشبہ تیرا رب، یقینا وہی سب پر غالب، نہایت رحم والا ہے۔ | |
141 |
ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا۔ | |
142 |
جب ان سے ان کے بھائی صالح نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟ | |
143 |
بے شک میں تمھارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں۔ | |
144 |
پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔ | |
145 |
اور میں اس پر تم سے کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا، میری اجرت تو رب العالمین ہی کے ذمے ہے۔ | |
146 |
کیا تم ان چیزوں میں جو یہاں ہیں، بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے۔ | |
147 |
باغوں اور چشموں میں۔ | |
148 |
اور کھیتوں اور کھجوروں میں، جن کے خوشے نرم و نازک ہیں۔ | |
149 |
اور تم پہاڑوں سے تراش کر گھر بناتے ہو، اس حال میں کہ خوب ماہر ہو۔ | |
150 |
پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔ |