قرآن مجيد

سورة الشعراء
اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کیجئیے۔

نمبر آیات تفسیر

101
اور نہ کوئی دلی دوست۔

102
تو کاش کہ ہمارے لیے واپس جانے کا ایک موقع ہو، توہم مومنوں میں سے ہو جائیں۔

103
بے شک اس میں یقینا عظیم نشانی ہے اوران کے اکثر ایمان والے نہیں تھے۔

104
اور بے شک تیرا رب، یقینا وہی سب پر غالب، نہایت رحم والا ہے۔

105
نوح کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا۔

106
جب ان سے ان کے بھائی نوح نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں؟

107
بے شک میں تمھارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں۔

108
پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔

109
اور میں اس پر تم سے کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا، میری اجرت تو رب العالمین ہی کے ذمے ہے۔

110
پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔

111
انھوں نے کہا کیا ہم تجھ پر ایمان لے آئیں، حالانکہ تیرے پیچھے وہ لوگ لگے ہیں جوسب سے ذلیل ہیں۔

112
اس نے کہا اور مجھے کیا علم کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں۔

113
ان کا حساب تو میرے رب ہی کے ذمے ہے، اگر تم سمجھو۔

114
اور میں ایمان والوں کو کسی صورت نکال دینے والا نہیں ہوں۔

115
میں نہیں ہوں مگر ایک کھلم کھلا ڈرانے والا۔

116
انھوں نے کہا اے نوح! یقینا اگر تو باز نہ آیا تو ہر صورت سنگسار کیے گئے لوگوں سے ہوجائے گا۔

117
اس نے کہا اے میرے رب! بے شک میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا۔

118
پس تو میرے درمیان اور ان کے درمیان فیصلہ کر دے،کھلا فیصلہ اور مجھے اور میرے ساتھ جو ایمان والے ہیں، انھیں بچالے۔

119
تو ہم نے اسے اور ان کو جو اس کے ساتھ بھری ہوئی کشتی میں تھے، بچا لیا۔

120
پھر اس کے بعد باقی لوگوں کو غرق کر دیا۔

121
بے شک اس میں یقینا عظیم نشانی ہے اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔

122
اور بلاشبہ تیرا رب، یقینا وہی سب پر غالب، نہایت رحم والا ہے۔

123
عاد نے رسولوں کو جھٹلایا۔

124
جب ان سے ان کے بھائی ہود نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟

125
بے شک میں تمھارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں۔

126
پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔

127
اور میں اس پر تم سے کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا، میری اجرت تو رب العالمین ہی کے ذمے ہے۔

128
کیا تم ہر اونچی جگہ پر ایک یادگار بناتے ہو؟ اس حال میں کہ لاحاصل کام کرتے ہو۔

129
اور بڑی بڑی عمارتیں بناتے ہو، شاید کہ تم ہمیشہ رہو گے۔

130
اور جب تم پکڑتے ہو تو بہت بے رحم ہو کر پکڑتے ہو۔

131
پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔

132
اور اس سے ڈرو جس نے ان چیزوں سے تمھاری مدد کی جنھیں تم جانتے ہو۔

133
اس نے چوپاؤں اور بیٹوں کے ساتھ تمھاری مدد کی۔

134
اور باغوں اور چشموں کے ساتھ۔

135
یقینا میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

136
انھوں نے کہا ہم پر برابر ہے کہ تو نصیحت کرے، یا نصیحت کرنے والوں میں سے نہ ہو۔

137
نہیں ہے یہ مگر پہلے لوگوں کی عادت۔

138
اور ہم قطعاً عذاب دیے جانے والے نہیں۔

139
پس انھوں نے اسے جھٹلا دیا تو ہم نے انھیں ہلاک کر دیا، بے شک اس میں یقینا عظیم نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔

140
اور بلاشبہ تیرا رب، یقینا وہی سب پر غالب، نہایت رحم والا ہے۔

141
ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا۔

142
جب ان سے ان کے بھائی صالح نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟

143
بے شک میں تمھارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں۔

144
پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔

145
اور میں اس پر تم سے کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا، میری اجرت تو رب العالمین ہی کے ذمے ہے۔

146
کیا تم ان چیزوں میں جو یہاں ہیں، بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے۔

147
باغوں اور چشموں میں۔

148
اور کھیتوں اور کھجوروں میں، جن کے خوشے نرم و نازک ہیں۔

149
اور تم پہاڑوں سے تراش کر گھر بناتے ہو، اس حال میں کہ خوب ماہر ہو۔

150
پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔