قرآن مجيد

سورة الشعراء
اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کیجئیے۔

نمبر آیات تفسیر

51
بے شک ہم لالچ رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمارے لیے ہماری خطائیں معاف کرے گا، اس لیے کہ ہم سب سے پہلے ایمان لانے والے بنے ہیں۔

52
اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ میرے بندوں کو رات کو لے چل، یقینا تمھارا پیچھا کیا جائے گا۔

53
تو فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے بھیج دیے۔

54
کہ بے شک یہ لوگ تو ایک تھوڑی سی جماعت ہیں۔

55
اور بلاشبہ یہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں۔

56
اور بے شک ہم یقینا سب چوکنے رہنے والے ہیں۔

57
تو ہم نے انھیں باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔

58
اور خزانوں سے اور عمدہ جگہ سے۔

59
ایسے ہی ہوا اور ہم نے ان کا وارث بنی اسرائیل کو بنا دیا۔

60
تو انھوں نے سورج نکلتے ان کا پیچھا کیا۔

61
پھر جب دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا بے شک ہم یقینا پکڑے جانے والے ہیں۔

62
کہا ہرگز نہیں! بے شک میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ مجھے ضرور راستہ بتائے گا۔

63
تو ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی سمندر پر مار، پس وہ پھٹ گیا تو ہر ٹکڑا بہت بڑے پہاڑ کی طرح ہوگیا۔

64
اور وہیں ہم دوسروں کو قریب لے آئے۔

65
اور ہم نے موسیٰ کو اور جو اس کے ساتھ تھے، سب کو بچالیا۔

66
پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔

67
بے شک اس میں یقینا عظیم نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔

68
اور بے شک تیرا رب، یقینا وہی سب پر غالب، بے حد رحم والا ہے۔

69
اور ان پر ابراہیم کی خبر پڑھ۔

70
جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تم کس چیز کی عبادت کرتے ہو؟

71
انھوں نے کہا ہم عظیم بتوں کی عبادت کرتے ہیں، پس انھی کے مجاور بنے رہتے ہیں۔

72
کہا کیا وہ تمھیں سنتے ہیں، جب تم پکارتے ہو؟

73
یا تمھیں فائدہ دیتے، یا نقصان پہنچاتے ہیں؟

74
انھوں نے کہا بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا کہ وہ ایسے ہی کرتے تھے۔

75
کہا تو کیا تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے۔

76
تم اور تمھارے پہلے باپ دادا۔

77
سو بلاشبہ وہ میرے دشمن ہیں، سوائے رب العالمین کے۔

78
وہ جس نے مجھے پیدا کیا، پھر وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔

79
اور وہی جو مجھے کھلاتا ہے اور مجھے پلاتا ہے۔

80
اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔

81
اور وہ جو مجھے موت دے گا، پھر مجھے زندہ کرے گا۔

82
اور وہ جس سے میں طمع رکھتا ہوں کہ وہ جزا کے دن مجھے میری خطا بخش دے گا۔

83
اے میرے رب! مجھے حکم عطا کر اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا۔

84
اور پیچھے آنے والوں میں میرے لیے سچی ناموری رکھ۔

85
اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں سے بنا۔

86
اور میرے باپ کو بخش دے، یقینا وہ گمراہوں میں سے تھا۔

87
اور مجھے رسوا نہ کر، جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔

88
جس دن نہ کوئی مال فائدہ دے گا اور نہ بیٹے۔

89
مگر جو اللہ کے پاس سلامتی والا دل لے کر آیا۔

90
اور متقی لوگوں کے لیے جنت قریب لائی جائے گی۔

91
اور گمراہ لوگوں کے لیے بھڑکتی آگ ظاہر کر دی جائے گی۔

92
اور ان سے کہا جائے گا کہاں ہیں وہ جنھیں تم پوجتے تھے؟

93
اللہ کے سوا۔ کیا وہ تمھاری مدد کرتے ہیں، یا اپنا بچاؤ کرتے ہیں؟

94
پھر وہ اور تمام گمراہ لوگ اس میں اوندھے منہ پھینک دیے جائیں گے۔

95
اور ابلیس کے تمام لشکر بھی۔

96
وہ کہیں گے جب کہ وہ اس میں جھگڑ رہے ہوں گے۔

97
اللہ کی قسم! بے شک ہم یقینا کھلی گمراہی میں تھے۔

98
جب ہم تمھیں جہانوں کے رب کے برابر ٹھہراتے تھے۔

99
اور ہمیں گمراہ نہیں کیا مگر ان مجرموں نے۔

100
اب نہ ہمارے لیے کوئی سفارش کرنے والے ہیں۔