كتاب السهو کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل 37. بَابُ: النَّهْىِ عَنِ الإِشَارَةِ، بِأُصْبُعَيْنِ وَبِأَىِّ أُصْبُعٍ يُشِيرُ باب: دو انگلیوں سے اشارہ کرنے کی ممانعت اور کس انگلی سے اشارہ کرے؟
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کر رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سے (اشارہ) کرو ایک سے“۔
تخریج الحدیث: «سنن الترمذی/الدعوات 105 (3557)، (تحفة الأشراف: 12865)، مسند احمد 2/420، 520 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (3557) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 330
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے پاس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے، اور میں (تشہد میں) اپنی انگلیوں ۱؎ سے (اشارہ کرتے ہوئے) دعا کر رہا تھا، تو آپ نے فرمایا: ”ایک سے (اشارہ) کرو ایک سے“، اور آپ نے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا۔
تخریج الحدیث: «سنن ابی داود/الصلاة 358 (1499)، (تحفة الأشراف: 3850) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے پہلے والی روایت میں، دو انگلیوں سے اشارہ کرنے کا ذکر ہے اس لیے اسے اقل جمع یعنی دو پر محمول کیا جائے گا، یا یہ مانا جائے کہ یہ دو الگ الگ واقعات ہیں، واللہ اعلم۔ قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1499) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 331
|