كِتَابُ الرَّهْنِ کتاب: گروی رکھنے کے بیان میں 38. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُؤَنَّثِ مِنَ الرِّجَالِ وَمَنْ أَحَقُّ بِالْوَلَدِ جو مرد عورت کی مثل ہو (یعنی شہوت نہ رکھتا ہو) اس کا بیان اور لڑکے کا کون حقدار ہے ماں یا باپ
حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ ایک مخنّث (جو خلقی نامرد تھا نام اس کا ہیت تھا) سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا، اس نے عبداللہ بن امیہ سے کہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سن رہے تھے: اے عبداللہ! اگر کل اللہ جل جلالہُ تمہارے ہاتھ سے طائف کو فتح کرا دے تو تم غیلان کی بیٹی کو ضرور لینا، جب وہ سامنے آتی ہے تو اس کے پیٹ پر چار بٹیں معلوم ہوتی ہیں، اور جب پیٹھ موڑ کر جاتی ہے تو چار کی آٹھ بٹیں معلوم ہوتی ہیں (دونوں جانب پہلو سے)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ لوگ تمہارے پاس نہ آیا کریں۔“
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح،وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 4324، 5235، 5887، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2180، وأبو داود فى «سننه» برقم:4929، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 9245، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1902، وأحمد فى «مسنده» برقم: 27023، فواد عبدالباقي نمبر: 37 - كِتَابُ الْوَصِيَّةِ-ح: 5»
حضرت یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ میں نے قاسم بن محمد سے سنا، کہتے تھے: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک انصاری عورت تھی، اس سے ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام عاصم بن عمر رکھا تھا، پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو چھوڑ دیا، اور مسجدِ قبا میں آئے، وہاں عاصم کو لڑکوں کے ساتھ کھیلتا ہوا پایا مسجد کے صحن میں، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کا بازو پکڑ کر اپنے جانور پر سوار کر لیا، لڑکے کی نانی نے یہ دیکھ کر ان سے جھگڑا کیا اور اپنا لڑکا طلب کیا، پھر دونوں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا بیٹا ہے، عورت نے کہا: میرا بچہ ہے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے: چھوڑ دو بچے کو اور دے دو اس کی نانی کو۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ چپ ہو رہے اور کچھ تکرار نہ کی۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اسی حدیث پر عمل ہے۔ تخریج الحدیث: «موقوف ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15765، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 4775، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12602، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 2269، فواد عبدالباقي نمبر: 37 - كِتَابُ الْوَصِيَّةِ-ح: 6»
|