كِتَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ کتاب: باجماعت نماز کے بیان میں 6. بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْقَائِمِ عَلَى صَلَاةِ الْقَاعِدِ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان بیٹھ کر پڑھنے سے
سیدنا عبداللہ بن عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹھ کر نماز پڑھنے میں آدھا ثواب ہے بہ نسبت کھڑے ہو کر پڑھنے کے۔“
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 735، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1237، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1660، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 1365، 1372، وأبو داود فى «سننه» برقم: 950، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1424، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1229، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 4666، 13519، وأحمد فى «مسنده» برقم: 6623، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 4122، 4123، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 4667، والطبراني فى «الصغير» برقم: 954، شركة الحروف نمبر: 288، فواد عبدالباقي نمبر: 8 - كِتَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ-ح: 19»
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب آئے ہم مدینہ میں تو بخار وبائی بہت سخت ہو گیا ہم کو۔ پس آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس اور وہ نفل نمازیں بیٹھ کر پڑھ رہے تھے۔ سو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”جو بیٹھ کر پڑھے گا اس کو کھڑے ہو کر پڑھنے والے کا آدھا ثواب ملے گا۔“
تخریج الحدیث: «ضعيف، هكذا روى هذا الحديث عن مالك جماعة الرواة فيما علمت بهذا الإسناد مرسلا وروى فيه عن ابن أبى زائدة عن مالك عن الزهري عن سالم عن أبيه ولا يصح التمهيد لما فى الموطأ من المعاني والأسانيد:(45/12)
شیخ سلیم ہلالی کہتے ہیں کہ اس سیاق کے ساتھ یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ زہری اور عبداللہ بن عمرو کے درمیان سند منقطع ہے، البتہ اس میں موجود فرمان نبوی ﷺ دوسری سندوں سے ثابت ہے جیسا کہ گزشتہ روایت میں گزرا ہے۔، شركة الحروف نمبر: 289، فواد عبدالباقي نمبر: 8 - كِتَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ-ح: 20» |