1703. اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کم مالدار شخص کے صدقے کو افضل اس وقت قرار دیا ہے جبکہ وہ مال اس کے اہل و عیال کی ضروریات سے زائد ہو، نہ کہ وہ صدقہ جو دور کے لوگوں پر کیا جائے اور اپنے اہل و عیال کو بھوکا چھوڑ دے
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، کونسا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کم مالدار شخص کا محنت سے کما کر کیا ہوا صدقہ افضل ہے اور سب سے پہلے ان لوگوں پرخرچ کرو جن کا نفقہ تمہارے ذمے ہے۔“
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص ضرورتمند اور محتاج ہو تو سب سے پہلے اپنی جان پر خرچ کرے۔ پھر اگر مال بچ جائے تو اپنے گھر والوں پر خرچ کرے، اگر پھر بھی مال بچ جائے تو اسے اپنے قرابتدار رشتہ داروں پر خرچ کرے، اسکے بعد بھی مال زیادہ موجود ہو تو اسے ادھر اُدھر محتاج لوگوں میں تقسیم کردے۔“
ولمزه، والزجر عن رمي المتصدق بالكثير من الصدقة بالرياء والسمعة، إذ الله- عز وجل- هو العالم بإرادة المراد، ولا إرادة مما تكنه القلوب، ولم يطلع الله العباد على ما في ضمائر غيرهم من الإرادة وَلَمْزِهِ، وَالزَّجْرِ عَنْ رَمْيِ الْمُتَصَدِّقِ بِالْكَثِيرِ مِنَ الصَّدَقَةِ بِالرِّيَاءِ وَالسُّمْعَةِ، إِذِ اللَّهُ- عَزَّ وَجَلَّ- هُوَ الْعَالِمُ بِإِرَادَةِ الْمُرَادِ، وَلَا إِرَادَةَ مِمَّا تُكِنُّهُ الْقُلُوبُ، وَلَمْ يُطْلِعِ اللَّهُ الْعِبَادَ عَلَى مَا فِي ضَمَائِرِ غَيْرِهِمْ مِنَ الْإِرَادَةِ
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم مزدوری کیا کرتے تھے۔ تو جب کوئی شخص بہت بڑا صدقہ لیکر آتا تو کہا جاتا کہ یہ تو ریا کار ہے اور اگر کوئی شخص نصف صاع صدقہ لیکر آتا تو کہہ دیا جاتا کہ بیشک اللہ تعالیٰ اس شخص کے نصف صاع سے غنی ہے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی «الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ» [ سورة التوبة: 79 ]”جو لوگ طعن کرتے ہیں کھلے دل سے خیرات کرنے والے مؤمنوں پر، (ان کے) صدقات کے بارے میں اور ان پر بھی جو اپنی (تھوڑی سی) محنت مزدوری کے سوا کچھ نہیں رکھتے۔“
1705. ایسا مریض جسے زندگی کی امید نہ ہو بلکہ موت سے خوفزدہ ہو اس کے صدقہ پر صحت مند، مال کی حرص رکھنے والے، فاصلہ محتاجی سے ڈرنے والے اور طویل عمر کی امید رکھنے والے شخص کے صدقہ کی فضیلت کا بیان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، کونسا صدقہ اجر و ثواب میں عظیم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھارا اس حال میں صدقہ کرنا کہ تم صحت مند ہو۔ مال کا طمع رکھتے ہو، فقر و فاقہ کا تمہیں ڈر ہو اور تمہیں زندگی کی امید۔ ہو اس وقت کا انتظار نہ کرو حتّیٰ کہ جب جان حلق میں پہنچ جائے تو تم کہو کہ فلاں کے لئے اتنا مال ہے۔ فلاں شخص کو اتنا مال دیدو، وہ تواب دوسروں کا ہوہی چکا ہے۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں یہ الفاظ ”کہ وہ تو اب دوسروں کا ہو چکا ہے۔“ یہ مسئلہ اسی قسم کا ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب وقت قریب ہو جائے تو یہ کہنا جائز ہے کہ وقت ہوچکا ہے اور ”دَخَلَ اْلوَقْتُ“(وقت ہوگیا) اس وقت کہتے ہیں جب وقت قریب ہوجائے اور یہ مال دوسروں کا ہوچکا ہے اگرچہ ابھی وقت نہیں ہوا۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ یہ مال اب دوسروں کا ہوچکا ہے۔ اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ اب اس شخص کی موت قریب آچکی ہے کیونکہ جان حلق میں اٹکی ہوئی ہے تو یہ مال اب دوسروں کا ہو جائیگا۔ یہ مطلب نہیں کہ اس کی جان نکلنے سے پہلے ہی یہ مال دوسروں کا ہو جائیگا۔ اسی قسم سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان ہے کہ بلا شبہ فلاں شخص اس کا وارث ہے۔
إذ الله- عز وجل- نفى إدراك البر عمن لا ينفق مما يحب. قال الله- عز وجل-: [لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون] [آل عمران: 92] إِذِ اللَّهُ- عَزَّ وَجَلَّ- نَفَى إِدْرَاكَ الْبِرِّ عَمَّنْ لَا يُنْفِقُ مِمَّا يُحِبُّ. قَالَ اللَّهُ- عَزَّ وَجَلَّ-: [لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ] [آلِ عِمْرَانَ: 92]
کیونکہ اللہ تعالی نے اس شخص کو نیکی ملنے کی نفی کردی ہے جو اپنا پسندیدہ مال صدقہ نہیں کرتا۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے «لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ۚ وَمَا تُنفِقُوا مِن شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّـهَ بِهِ عَلِيمٌ» [ آل عمران: 92]”تم ہرگز نیکی نہ پا سکوگے جب تک ان چیزوں میں سے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو جنہیں تم پسند کرتے ہو۔“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی «لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» [ سورة آل عمران: 92 ] تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ آپ منبر پر تشریف فرما تھے۔ اُنہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، مجھے اپنے تمام باغات میں سے بیرحاء کا باغ سب سے زیادہ محبوب ہے۔ تو نبی کریم نے فرمایا: ”بیرحاء تو فنا ہونے والا مال ہے (جبکہ اس کا اجر باقی رہیگا) یا فرمایا کہ بیر حاء بڑا نفع بخش باغ ہے۔“ راوی کو اس میں شک ہے۔ تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میں اس باغ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا قرب چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اپنے قرابت داروں میں تقسیم کردو۔“ چنانچہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنے قرابت داروں کو اس باغ کے باغیچے تقسیم کر دیئے۔ میں نے جناب ثابت اور حمید بن انس کی روایت دوسری جگہ بیان کی ہے۔
إذ الله- عز وجل- قد فضلها على صدقة العلانية. قال الله- عز وجل-: [إن تبدوا الصدقات فنعما هي وإن تخفوها وتؤتوها الفقراء فهو خير لكم] [البقرة: 271]. إِذِ اللَّهُ- عَزَّ وَجَلَّ- قَدْ فَضَّلَهَا عَلَى صَدَقَةِ الْعَلَانِيَةِ. قَالَ اللَّهُ- عَزَّ وَجَلَّ-: [إِنْ تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ وَإِنْ تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ] [الْبَقَرَةِ: 271].
کیونکہ اللہ تعالی نے خفیہ صدقے کو اعلانیہ صدقے پر فضیلت دی ہے اللہ تعالی فرماتا ہے «إِن تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ ۖ وَإِن تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۚ» [ سورة البقرة: 271 ]”اگر تم اعلانیہ صدقہ کرو تو بھی اچھا ہے، اور اگر صدقات چھپا کر فقراء کو دو تو وہ تمھارے لئے بہت بہتر ہے۔“
سیدنا ابوذررضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”تین قسم کے افراد سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے۔ اور تین قسم کے لوگوں سے نفرت کرتا ہے۔ رہے وہ لوگ جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے تو ان میں سے پہلا وہ شخص ہے جو کسی قوم کے پاس آیا تو اس نے اللہ کے نام پر ان سے مانگا اور ان کے ساتھ اپنی رشتہ داری کی بنا پر نہ مانگا۔ تو ایک شخص ان لوگوں کے پیچھے گیا اور اس شخص کو چھپا کرمال دے آیا۔ اس کے عطیہ سے صرف اللہ تعالیٰ اور لینے والا شخص ہی آگاہ ہوتے ہیں۔ دوسرے وہ لوگ جو ساری رات سفر کرتے رہے حتّیٰ کہ جب سب چیزوں سے نیند انہیں محبوب ہوگئی تو وہ سب سواریوں سے اُتر کر سوگئے اور یہ شخص کھڑا ہوکر میرے سامنے گریہ زاری کرنے لگا اور میری آیات کی تلاوت کرنے لگا۔ تیسرا وہ شخص جوکسی جنگی لشکر میں تھا جب دشمن کے ساتھ آمنا سامنا ہوا تو لشکر والے شکست کھا گئے اور یہ شخص سینہ تان کر دشمن کے مقابلے میں آگیا حتّیٰ کہ قتل کردیا گیا یا اسے فتح نصیب ہوگئی۔ اور وہ تین افراد جن سے اللہ تعالیٰ نفرت کرتا ہے وہ بوڑھا زانی شخص، فقیر غرور و تکبر کرنے والا اور دولتمند ظالم ہیں۔“