وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «من ذرعه القيء فلا قضاء عليه ومن استقاء فعليه القضاء» . رواه الخمسة واعله احمد وقواه الدارقطني.وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «من ذرعه القيء فلا قضاء عليه ومن استقاء فعليه القضاء» . رواه الخمسة وأعله أحمد وقواه الدارقطني.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جسے قے آ جائے تو اس پر (روزہ کی) قضاء نہیں اور جو جان بوجھ کر قے کرے اس پر قضاء ہے۔“ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور امام احمد نے اس کو معلول کہا ہے اور امام دارقطنی نے اسے قوی کہا ہے۔
हज़रत अबु हुरैरा रज़िअल्लाहुअन्ह से रिवायत है कि रसूल अल्लाह सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम ने फ़रमाया “जिसे उल्टी आ जाए तो उस पर (रोज़े की) क़ज़ा नहीं और जो जान बोझ कर उल्टी करे उस पर क़ज़ा है ।” इसे पांचों ने रिवायत किया है और इमाम अहमद ने इस को मअलूल कहा है और इमाम दरक़ुतनी ने इसे मज़बूत कहा है ।
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصوم، باب الصائم يستقيء عمدًا، حديث:2380، والترمذي، الصوم، حديث:720، وابن ماجه، الصيام، حديث:1676، وأحمد:2 /498، والنسائي في الكبرٰي:2 /215، حديث:3130، والدارقطني: 2 /184، وقال: "رواته ثقات كلهم".* هشمام بن حسان مدلس وعنعن، وأخرج البيهقي:4 /219 بإسناد صحيح عن ابن عمر قال: "من ذرعه القيء فلا قضاء عليه ومن استقاء فعليه القضاء".»
Abu Hurairah (RAA) narrated that The Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Whoever is overcome and vomits is not to make up for the day, but whoever vomits intentionally must make up the day.” Related by the five Imams.
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 545
لغوی تشریح 545: ذَرعَہُ القَیئُ قے غالب آ جائے، یعنی جو زور سے، بغیر ارادہ اور قصد کے قے آئے۔ أِستَقَاءَ جو قصدًا اور ارادتًا خود قے کرے۔
فوائد و مسائل 545: ➊ مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سندًا ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح کہا ہے۔ علاوہ ازیں ہمارے فاضل محقق نے سنن ابی داؤد کی تحقیق میں لکھا ہے کہ یہ روایت حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مصنف ابنِ ابی شیبہ (38/3، حدیث: 9188) میں صحیح سند سے مروی ہے، لہٰذا مذکورہ روایت سندًا ضعیف اور معنًا صحیح ہے۔ دیکھیے: (سنن ابوداؤد (اردو) طبع دارالسلام، حدیث: 2380 کی تحقیق و تخریج) مزید سندی اور تحقیقی بحث کے لیے دیکھیے: [الموسوعه الحديثية مسند الأمام أحمد: 284۔ 16، والأرواء، رقم: 923] ➋ اگر روزے دار کو ازخود قے آ جائے تو اس پر قضا نہیں اور اگر جان بوجھ کر قے کرے تو اس پر قضا ہے۔ امام شافعی، امام سفیان ثوری، امام احمد اور امام اسحٰق رحمہم اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین بھی اسی کے قائل ہیں۔ دیکھیے: [جامع الترمذي، بعد حديث: 716]
بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 545
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2380
´روزہ دار قصداً قے کرے اس کے حکم کا بیان۔` ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کو قے ہو جائے اور وہ روزے سے ہو تو اس پر قضاء نہیں، ہاں اگر اس نے قصداً قے کی تو قضاء کرے۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حفص بن غیاث نے بھی ہشام سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2380]
فوائد ومسائل: یہ روایت معنی صحیح ہے، اسی لیے بعض حضرات نے اسے صحیح کہا ہے۔
سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2380
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1676
´روزہ دار قے کر دے تو اس کے حکم کا بیان۔` ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے خود بہ خود قے آ جائے اس پر روزے کی قضاء نہیں، اور جس نے جان بوجھ کر قے کی تو اس پر روزے کی قضاء ہے۔“[سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1676]
اردو حاشہ: فوائد و مسائل: (1) مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔ جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ علاوہ ازیں ہمارے فاضل محقق نے سنن ابو داؤد کی تحقیق میں لکھا ہے۔ کہ یہ مسئلہ حضرت ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ابن ابی شیبہ (38/3 حدیث: 9188) میں صحیح سند کے ساتھ مروی ہے۔ لہٰذا یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔ اور معناً صحیح ہے۔ دیکھئے: سنن ابوداؤد، حدیث: 2380 کی تحقیق وتخریج تفصیل کےلئے دیکھئے: (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد: 284/16، والإرواء، رقم: 923)
(2) اس باب کی دونوں روایتوں میں باہم تعارض محسوس ہوتا ہے۔ لیکن اگر پہلی حدیث کو نفلی روزے پر محمول کرلیا جائے تو تعارض رفع ہوجاتا ہے۔
(3) روزے کے دوران میں قے کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اگر کسی وجہ سے قے کرنی پڑے تو اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ خواہ روزہ فرضی ہو یا نفلی تاہم فرضی روزے کی قضا دینا ضروری ہے۔
سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1676
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 720
´جان بوجھ کر قے کر دینے والے کے حکم کا بیان۔` ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے قے آ جائے اس پر روزے کی قضاء لازم نہیں ۱؎ اور جو جان بوجھ کر قے کرے تو اسے روزے کی قضاء کرنی چاہیئے“۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 720]
اردو حاشہ: 1؎: کیونکہ اس میں روزے دار کی کوئی غلطی نہیں۔
2؎: اکثر لوگوں کی رائے ہے کہ اس میں کفارہ نہیں صرف قضاء ہے۔
سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 720
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، ابوداود 2380
کیا قے (یعنی اُلٹی) آنے سے روزے کی قضا ہے؟
جس شخص کو روزے کی حالت میں خود بخود قے (اُلٹی) آجائے تو اس پر روزے کی قضا نہیں ہے لیکن اگر کوئی شخص روزہ کی حالت میں جان بوجھ کر قے کرے تو اس پر قضا ہے۔
ایک حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَنْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ وَهُوَ صَائِمٌ فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ‘ وَمَنِ اسْتَقَاءَ عَمْدًا فَلْيَقْضِ» جسے خود بخود قے آ جائے اور وہ روزے سے ہو تو اُس پر کوئی قضا نہیں ہے اور اگر جان بوجھ کر قے کرے تو اس پر (روزے کی) قضا ہے۔ [سنن ابي داود: 2380، سنن ابن ماجه: 1676]
اس روایت کو امام بخاری نے ”ضعیف“ لیکن ترمذی (720) ابن خزیمہ (1960، 1961) ابن حبان (الموارد: 907) حاکم (1/426، 427) اور ذہبی نے ”صحیح“ کہا ہے۔
ہماری تحقیق میں یہ روایت ضعیف ہے اور وجۂ ضعف صرف یہ ہے کہ اس میں ہشام بن حسان ”مدلس“ ہیں۔ دیکھئے [الفتح المبين فى تحقيق طبقات المدلسين 110/ 3، ص 65] اور کسی سند میں سماع کی تصریح موجود نہیں ہے۔
لیکن پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جو شخص روزے کی حالت میں جان بوجھ کر قے (اُلٹی) کرے تو اس پر قضا ضروری ہے اور جسے خود بخود قے آ جائے تو اس پر کوئی قضا نہیں ہے۔ “[موطأ امام مالك ح 1 ص 304 ح 675 وسنده صحيح]
ایک اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «من ذرعه القئ فلا قضاء عليه و من استقاء فعليه القضاء»[السنن الكبريٰ للبيهقي 4/ 219 وسنده حسن]
اس کا مفہوم وہی ہے جو اوپر گزر چکا ہے۔
حافظ ابن المنذر نے اس مسئلے پر بھی سوائے حسن بصری کے ایک قول کے، اجماع نقل کیا ہے۔ [كتاب الاجماع ص 15، فقره: 125]
عرض ہے کہ اس اجماع کے خلاف حسن بصری کا قول اُن سے صحیح سند کے ساتھ ثابت نہیں ہے بلکہ صحیح سند کے ساتھ تو یہ ثابت ہے کہ امام حسن بصری نے فرمایا: جب روزہ دار کو خود بخود قے آ جائے تو روزہ نہ توڑے اور اگر جان بوجھ کر قے کرے تو اس کا روزہ ٹوٹ گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه 3/38ح 9190 وسنده صحيح]
خلاصہ یہ کہ یہ تینوں مسئلے ضعیف روایتوں سے نہیں بلکہ اجماع اور صحیح آثارِ صحابہ ومَن بعدھم سے ثابت ہیں۔ والحمد للہ
اصل مضمون کے لئے دیکھیں: محدّث العَصر حَافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب ”تحقیقی اور علمی مقالات“ جلد 2 صفحہ 279 اور ماہنامہ الحدیث شمارہ 53 صفحہ 29 مضمون ”ضعیف روایات اور اُن کا حکم“
تحقیقی و علمی مقالات للشیخ زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 279