صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
کتاب صحيح البخاري تفصیلات

صحيح البخاري
کتاب: اخلاق کے بیان میں
The Book of Al-Adab (Good Manners)
29. بَابُ إِثْمِ مَنْ لاَ يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَايِقَهُ:
29. باب: اس شخص کا گناہ جس کا پڑوسی اس کے شر سے امن میں نہ رہتا ہو۔
(29) Chapter. The sin of that person whose neighbour does not feel safe from his evil.
حدیث نمبر: Q6016
Save to word اعراب English
{يوبقهن} يهلكهن. {موبقا} مهلكا.{يُوبِقْهُنَّ} يُهْلِكْهُنَّ. {مَوْبِقًا} مَهْلِكًا.
‏‏‏‏ قرآن مجید میں جو لفظ «يوبقهن» ہے اس کے معنی ان کو ہلاک کر ڈالے۔ «موبقا» کے معنی ہلاکت۔

حدیث نمبر: 6016
Save to word اعراب English
(مرفوع) حدثنا عاصم بن علي، حدثنا ابن ابي ذئب، عن سعيد، عن ابي شريح، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال:" والله لا يؤمن والله لا يؤمن والله لا يؤمن" قيل: ومن يا رسول الله؟ قال:" الذي لا يامن جاره بوايقه"، تابعه شبابة، واسد بن موسى، وقال : حميد بن الاسود، وعثمان بن عمر، وابو بكر بن عياش، وشعيب بن إسحاق، عن ابن ابي ذئب، عن المقبري عن ابي هريرة.(مرفوع) حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ" قِيلَ: وَمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الَّذِي لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَايِقَهُ"، تَابَعَهُ شَبابةُ، وَأَسَدُ بْنُ مُوسَى، وَقَالَ : حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، وَشُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
ہم سے عاصم بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے سعید نے بیان کیا، ان سے ابوشریح نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا واللہ! وہ ایمان والا نہیں۔ واللہ! وہ ایمان والا نہیں۔ واللہ! وہ ایمان والا نہیں۔ عرض کیا گیا کون: یا رسول اللہ؟ فرمایا وہ جس کے شر سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو۔ اس حدیث کو شبابہ اور اسد بن موسیٰ نے بھی روایت کیا ہے اور حمید بن اسود اور عثمان بن عمر اور ابوبکر بن عیاش اور شعیب بن اسحاق نے اس حدیث کو ابن ابی ذئب سے یوں روایت کیا ہے، انہوں نے مقبری سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے۔

Narrated Abu Shuraih: The Prophet said, "By Allah, he does not believe! By Allah, he does not believe! By Allah, he does not believe!" It was said, "Who is that, O Allah's Apostle?" He said, "That person whose neighbor does not feel safe from his evil."
USC-MSA web (English) Reference: Volume 8, Book 73, Number 45


   صحيح البخاري6016لا يؤمن قيل ومن يا رسول الله قال الذي لا يأمن جاره بوايقه
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6016 کے فوائد و مسائل
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6016  
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے پڑوسی کی عظمت کا پتا چلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ایسے انسان کے ایمان کی نفی کی ہے جس کی اذیتوں اور تکلیفوں نے پڑوسی کی ناک میں دم کر رکھا ہو، اگرچہ ایمان کی نفی سے مراد کمالِ ایمان کی نفی ہے، یعنی وہ شخص کامل ایمان والا نہیں ہے کیونکہ یہ ایک معصیت اور نافرمانی ہے اور معصیت کا مرتکب دائرۂ ایمان سے خارج نہیں ہوتا۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے اپنے پڑوسی کی شکایت کی، آپ نے فرمایا:
جاؤ، صبر کرو۔
وہ پھر آپ کے پاس آیا یا تین مرتبہ آیا تو آپ نے فرمایا:
جا، اپنا سامان راستے میں رکھ دو۔
چنانچہ وہ گیا اور اپنا سازوسامان راستے میں رکھ دیا۔
لوگ اس سے پوچھنے لگے تو اس نے انھیں اپنے پڑوسی کے کردار سے آگاہ کیا۔
لوگ اس پڑوسی کو طعن وملامت کرنے لگے:
اللہ اس کے ساتھ ایسا کرے، ایسا کرے، چنانچہ وہ ہمسایہ اس کے پاس آیا اور کہنے لگا:
اپنے گھر واپس چلے جاؤ، آئندہ میری طرف سے کوئی ناپسندیدہ حرکت نہیں دیکھو گے۔
(سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 5153)
اس حدیث میں ہمسائے کی اذیتوں اور تکلیفوں سے علاج کا طریقہ بتایا گیا ہے۔
واللہ المستعان
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6016   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2024 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.