-" ثلاث مهلكات، وثلاث منجيات، فقال: ثلاث مهلكات: شح مطاع وهوى متبع وإعجاب المرء بنفسه. وثلاث منجيات: خشية الله في السر والعلانية والقصد في الفقر والغنى والعدل في الغضب والرضا".-" ثلاث مهلكات، وثلاث منجيات، فقال: ثلاث مهلكات: شح مطاع وهوى متبع وإعجاب المرء بنفسه. وثلاث منجيات: خشية الله في السر والعلانية والقصد في الفقر والغنى والعدل في الغضب والرضا".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین (برائیاں) ہلاک کرنے والی اور تین (نیکیاں) نجات دینے والی ہیں۔ تین ہلاک کر دینے والی برائیاں یہ ہیں: بخل جس کی پیروی کی جائے، خواہش نفس جس کے پیچھے چلا جائے اور بڑائی خور ہونا۔ تین نجات دینے والی نیکیاں یہ ہیں: خلوت و جلوت میں اللہ تعالیٰ کی خشیت، فقر و غنی میں میانہ روی اور غضب و رضا میں عدل۔“ یہ حدیث سیدنا انس بن مالک، سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا عبداللہ بن ابواوفی اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
-" ابن آدم إن اصابه البرد قال: حس، وإن اصابه الحر قال: حس".-" ابن آدم إن أصابه البرد قال: حس، وإن أصابه الحر قال: حس".
سیدہ خولہ بنت قیس بن فہد انصاریہ، جو بنو انصار سے تھیں، کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن تشریف لائے، میں نے ہانڈی پیش کی جس میں روٹی یا (ایک مخصوص) حلوا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے کے لیے ہانڈی میں اپنا ہاتھ ڈالا، (کھانا گرم ہونے کی وجہ سے) آپ کی انگلیاں جلنے لگیں، جس کی وجہ سے آپ نے ”ہائے“ کہا اور پھر فرمایا: ”جب ابن آدم کو کوئی چیز ٹھنڈی محسوس ہوتی ہے تو وہ ہائے کرتا ہے اور جب کوئی چیز گرم محسوس کرتا ہے تو بھی وہ ہائے کرتا ہے۔“
-" حلوة الدنيا مرة الآخرة، ومرة الدنيا حلوة الآخرة".-" حلوة الدنيا مرة الآخرة، ومرة الدنيا حلوة الآخرة".
ابوعبید شریح حضرمی سے روایت ہے کہ جب سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے کہا: اے اشعریوں کی جماعت! موجودہ لوگ غائب لوگوں تک میری بات پہنچا دیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا، ”دنیا کی لذت آخرت کی کڑواہٹ ہے اور دنیا کی تلخی آخرت کی لذت و شیری ہے۔“
-" قال الله تعالى: يا ابن آدم! قم إلي امش إليك، وامش إلي اهرول إليك".-" قال الله تعالى: يا ابن آدم! قم إلي أمش إليك، وامش إلي أهرول إليك".
ایک صحابی رسول بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے ابن آدم! تو میرے لیے کھڑا ہو، میں تیری طرف چل کر آؤں گا اور اگر تو میری طرف چل پڑے تو میں تری طرف دوڑ کر آؤں گا۔“
-" قال الله عز وجل: عبدي! انا عند ظنك بي، وانا معك إذا ذكرتني".-" قال الله عز وجل: عبدي! أنا عند ظنك بي، وأنا معك إذا ذكرتني".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے فرمایا: اے میرے بندے! میرے بارے میں جو تیرا گمان ہو گا میں اسی کے مطابق تجھ سے پیش آؤں گا اور جب تو میرا ذکر کرے گا تو میں تیرے ساتھ ہوں گا۔“
-" قال الله عز وجل: وعزتي لا اجمع لعبدي امنين ولا خوفين، إن هو امنني في الدنيا اخفته يوم اجمع فيه عبادي، وإن هو خافني في الدنيا امنته يوم اجمع فيه عبادي".-" قال الله عز وجل: وعزتي لا أجمع لعبدي أمنين ولا خوفين، إن هو أمنني في الدنيا أخفته يوم أجمع فيه عبادي، وإن هو خافني في الدنيا أمنته يوم أجمع فيه عبادي".
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا: مجھے میری عزت کی قسم! میں اپنے بندے پر دو امن جمع کرتا ہوں نہ دو خوف۔ یعنی اگر میرا بندہ دنیا میں (اپنی من مانیاں کر کے) مجھ سے امن میں رہا تو میں اسے بندوں کے حشر والے دن خوف دلاؤں گا اور اگر وہ دنیا میں مجھ سے ڈر گیا تو لوگوں کے جمع ہونے والے دن اسے امن عطا کروں گا۔“
-" قال رجل: والله لا يغفر الله لفلان، فقال الله: من ذا الذي يتالى علي ان لا اغفر لفلان، فإني قد غفرت لفلان، واحبطت عملك".-" قال رجل: والله لا يغفر الله لفلان، فقال الله: من ذا الذي يتألى علي أن لا أغفر لفلان، فإني قد غفرت لفلان، وأحبطت عملك".
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ فلاں آدمی کو نہیں بخشے گا، اللہ تعالیٰ نے کہا: کون ہے جو مجھ پر قسم اٹھاتا ہے کہ میں فلاں کو نہیں بخشوں گا۔ میں نے اس کو بخش دیا اور (اے قسم اٹھانے والے!) تیرے اعمال برباد کر دیے۔“
-" قال لي جبريل: لو رايتني وانا آخذ من حال البحر فادسه في فم فرعون مخافة ان تدركه الرحمة".-" قال لي جبريل: لو رأيتني وأنا آخذ من حال البحر فأدسه في فم فرعون مخافة أن تدركه الرحمة".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبریل نے مجھے کہا: کاش آپ مجھے اس وقت دیکھتے جب میں سمندر کی کالی مٹی لے کر فرعون کے منہ میں ٹھونس رہا تھا، اس ڈر سے کہ کہیں (اللہ کی) رحمت اس کو پا نہ لے۔“