أَحَادِيثُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سیدنا علی ابن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے منقول روایات (زرہ کے مہر سے شادی اور رخصتی پر دعا کی روایت)
عبداللہ بن ابویجیح اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: مجھے ان صاحب نے بتایا جنہوں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے یہ سنا، سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے یہ ارادہ کیا، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کے لیے نکاح کا پیغام بھجواؤں پھر مجھے یاد آیا، میرے پاس تو کچھ ہے ہی نہیں۔ پھر مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور فضیلت کا خیال آیا، تو میں نے (سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے) نکاح کا پیغام دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس کوئی ایسی چیز ہے، جسے تم (مہر کے طور پر) اسے دو؟ میں نے عرض کی: جی نہیں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری حطمیہ زرہ کہاں ہے؟ جو میں نے فلاں موقع پر تمہیں دی تھی؟ میں نے عرض کیا: وہ میرے پاس ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے ہی لے آؤ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں وہ لے کر آیا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ زرہ دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری شادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ کر دی۔ جب ان کی رخصتی ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک میں تم دونوں کے پاس نہیں آتا اس وقت تک تم دونوں کوئی بات چیت نہ کرنا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ہم نے ایک چادر (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ایک کمبل اوڑھا ہوا تھا۔ جب ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو ہم اس میں داخل ہونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں اپنی جگہ پر رہو! پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوایا جس میں پانی موجود تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں دعا مانگی (یعنی اس پر کچھ پڑھ کر دم کیا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ہم پر چھڑک دیا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ (یعنی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک زیادہ محبوب ہیں، یا میں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میرے نزدیک تم سے زیادہ محبوب ہے اور تم میرے نزدیک اس سے زیادہ معزز ہو۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں راوی نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو کوفہ کے منبر پر یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا۔
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه أحمد 80/1، والبيهقي فى الصداق 234/7 وابوداود:2126»
|