كتاب الفرائض عن رسول الله صلى الله عليه وسلم کتاب: وراثت کے احکام و مسائل 12. باب مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الْخَالِ باب: ماموں کی میراث کا بیان۔
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے ابوعبیدہ رضی الله عنہ کو لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اللہ اور اس کے رسول ولی (سر پرست) ہیں جس کا کوئی ولی (سر پرست) نہیں ہے اور ماموں اس آدمی کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہیں ہے“۔
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ام المؤمنین عائشہ اور مقدام بن معدیکرب رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج الحدیث: «سنن ابن ماجہ/الفرائض 9 (2737) (تحفة الأشراف: 10384) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2737)
قال الشيخ زبير على زئي: (2103) إسناده ضعيف / جه 2737
سفيان الثوري عنعن (تقدم: 746) والحديث الآتي (الأصل: 2104 بتحقيقي) يغني عنه
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ماموں اس آدمی کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہیں ہے“۔
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض لوگوں نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے اور اس میں عائشہ رضی الله عنہا کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا، ۳- اس مسئلہ میں صحابہ کرام کا اختلاف ہے، بعض لوگوں نے ماموں، خالہ اور پھوپھی کو وارث ٹھہرایا ہے۔ ذوی الارحام (قرابت داروں) کو وارث بنانے کے بارے میں اکثر اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، ۴- لیکن زید بن ثابت رضی الله عنہ نے بھی انہیں وارث نہیں ٹھہرایا ہے یہ میراث کو بیت المال میں رکھنے کے قائل ہیں۔ تخریج الحدیث: «تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: 16159) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح انظر ما قبله (2103)
|