وحدثني، عن مالك، عن يحيى بن سعيد، انه قال: سمعت سعيد بن المسيب، يقول:" الا اخبركم بخير من كثير من الصلاة والصدقة"، قالوا: بلى، قال: " إصلاح ذات البين، وإياكم والبغضة فإنها هي الحالقة" وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرٍ مِنْ كَثِيرٍ مِنَ الصَّلَاةِ وَالصَّدَقَةِ"، قَالُوا: بَلَى، قَالَ: " إِصْلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْبِغْضَةَ فَإِنَّهَا هِيَ الْحَالِقَةُ"
سعید بن مسیّب نے کہا: کیا میں نہ بتاؤں تم کو وہ چیز جو بہت سی نمازوں اور صدقہ سے بہتر ہے؟ لوگوں نے کہا: بتاؤ۔ سعید نے کہا: ایک دوسرے کے بیچ صلح کرا دینا، اور بچو تم بغض اور عدوات سے، یہ خصلت مونڈنے والی ہے نیکیوں کو۔
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه وابن عبدالبر فى «التمهيد» برقم: 145/23، فواد عبدالباقي نمبر: 47 - كِتَابُ حُسْنِ الْخَلُقِ-ح: 7»