اخبرنا وكيع، حدثتني ام غراب جدة علي بن غراب , عن امراة يقال لها عقيلة، عن سلامة بنت الحر اخت خرشة بنت الحر قالت: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ((ياتي على الناس زمان يمكثون ساعة لا يجدون إماما يصلي بهم)).أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ غُرَابٍ جَدَّةُ عَلِيِّ بْنِ غُرَابٍ , عَنِ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا عَقِيلَةُ، عَنْ سَلَّامَةَ بِنْتِ الْحُرِّ أُخْتِ خَرَشَةَ بِنْتِ الْحُرِّ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَمْكُثُونَ سَاعَةً لَا يَجِدُونَ إِمَامًا يُصَلِّي بِهِمْ)).
سیدہ سلامہ بنت الحر رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”لوگوں پر ایک ایسا وقت بھی آئے گا کہ وہ ایک وقت تک کھڑے رہیں گے لیکن وہ کوئی امام نہیں پائیں گے کہ وہ انہیں نماز پڑھائے۔“
تخریج الحدیث: «سنن ابوداود، كتاب الصلاة، باب كراهية التدافع على الامامة، رقم: 581. سنن ابن ماجه، كتاب الاقامة، باب ما يجب على الامام، رقم: 982. قال الشيخ الالباني: ضعيف. مسند احمد: 381/6.»
اخبرنا عبد الرزاق بن همام بن نافع الصنعاني، قال: سمعت ابي يحدث، عن بعض العلماء قال: ((اقيمت الصلاة فتدافع قوم الإمامة، فلم يزل يقول هذا لهذا تقدم، وهذا لهذا تقدم حتى خسف بهم)).أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامِ بْنِ نَافِعٍ الصَّنْعَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ بَعْضِ الْعُلَمَاءِ قَالَ: ((أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَتَدَافَعَ قَوْمٌ الْإِمَامَةَ، فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ هَذَا لِهَذَا تَقَدَّمْ، وَهَذَا لِهَذَا تَقَدَّمْ حَتَّى خُسِفَ بِهِمْ)).
عبدالرزاق بن ہمام بن نافع الصنعانی نے بیان کیا: میں نے اپنے والد کو بعض علماء سے بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا: نماز کے لیے اقامت ہو جائے گی، لوگ ایک دوسرے کو امامت کے لیے آگے بڑھائیں گے، پس یہ اسے کہے گا: آگے بڑھو اور وہ اسے کہے گا کہ آگے بڑھو، حتیٰ کہ انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔