سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
کتاب سنن ترمذي تفصیلات

سنن ترمذي
کتاب: نماز کے احکام و مسائل
The Book on Salat (Prayer)
143. باب مَا جَاءَ فِي ابْتِدَاءِ الْقِبْلَةِ
143. باب: قبلے کی ابتداء کا بیان۔
Chapter: What Has Been Related About The Beginning Of The Qiblah
حدیث نمبر: 341
Save to word اعراب
(مرفوع) حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، قال: كانوا ركوعا في صلاة الصبح. قال ابو عيسى: وحديث ابن عمر حديث حسن صحيح.(مرفوع) حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانُوا رُكُوعًا فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں وہ لوگ نماز فجر میں رکوع میں تھے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے۔

تخریج الحدیث: «صحیح البخاری/الصلاة 32 (403)، وتفسیر البقرة 14 (4488)، و16 (4490)، و17 (4491)، و8 (4492)، و19 (4493)، و20 (4494)، صحیح مسلم/المساجد 2 (526)، سنن النسائی/الصلاة 24 (494)، والقبلة 3 (746)، (تحفة الأشراف: 7154)، وکذا (7228)، موطا امام مالک/القبلة 4 (6)، مسند احمد (2/113) (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: یہ قباء کا واقعہ ہے اس میں اور اس سے پہلے والی روایت میں کوئی تعارض نہیں ہے، کیونکہ جو لوگ مدینہ میں تھے انہیں یہ خبر عصر کے وقت ہی پہنچ گئی تھی (جیسے بنو حارثہ کے لوگ) اور قباء کے لوگوں کو یہ خبر دیر سے دوسرے دن نماز فجر میں پہنچی۔

قال الشيخ الألباني: صحيح، صفة الصلاة // 57 //، الإرواء (290)

سنن ترمذی کی حدیث نمبر 341 کے فوائد و مسائل
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 341  
اردو حاشہ:
1؎:
یہ قباء کا واقعہ ہے اس میں اور اس سے پہلے والی روایت میں کوئی تعارض نہیں ہے،
کیونکہ جو لوگ مدینہ میں تھے انہیں یہ خبر عصر کے وقت ہی پہنچ گئی تھی (جیسے بنو حارثہ کے لوگ) اور قباء کے لوگوں کو یہ خبر دیر سے دوسرے دن نمازِ فجر میں پہنچی۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 341   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2024 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.