فضل بن مبشر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو ایک ہی وضو سے کئی نماز پڑھتے دیکھا، تو میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ عرض کیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے، چنانچہ میں بھی ویسے ہی کرتا ہوں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے ۱؎۔
وضاحت: ۱؎: اگر وضو باقی ہے ٹوٹا نہیں ہے، تو ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھی جا سکتی ہیں۔
تخریج الحدیث: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2571، ومصباح الزجاجة: 211) (صحیح)» (اس حدیث کی سند میں الفضل بن مبشر ضعیف ہیں، لیکن سابقہ شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے)
Fadl bin Mubashshir said:
"I saw Jabir bin 'Abdullah performing every prayer with one ablution, and I said: 'What is this?' He said: 'I saw the Messenger of Allah doing this, and I am doing as the Messenger of Allah did.'"
USC-MSA web (English) Reference: 0
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف إسناده ضعيف قال البوصيري: ”ھذا إسناد ضعيف،الفضل بن مبشر ضعفه الجمھور“ وقال الحافظ: فيه لين (تقريب: 5416) والحديث السابق (الأصل: 510) يغني عنه انوار الصحيفه، صفحه نمبر 396
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث511
اردو حاشہ: (1) کسی عالم کو کوئی ایسا کام کرتے دیکھیں جو پہلے ہمیں معلوم نہ ہو تو عالم سے اس کے بارے میں پوچھ لینا یا دلیل دریافت کرنا احترام کے منافی نہیں۔
(2) عوام میں سے کوئی شخص اگر عالم کی کسی بات پر تنقید کرے تو عالم کو چاہیےکہ خفگی کا اظہار نہ کرے بلکہ مسئلے کی وضاحت کردے۔
(3) یہ روایت سند کے اعتبار سے ضعیف ہے لیکن معناً درست ہے جس طرح کہ سابقہ روایت میں گزرا ہے۔
سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 511