معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہو ے سنا: ”جو مسلمان شخص اللہ کے راستے میں اونٹنی کا دودھ دوھنے کے درمیانی وقفہ کے برابر لڑا، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی“۱؎۔
وضاحت: ۱؎: اونٹنی کا دددھ دوھنے کے درمیانی وقفہ سے مراد یا تو وہ ٹھہرنا ہے جو ایک وقت سے دوسرے وقت تک ہوتا ہے مثلاً صبح کو دودھ دوہ کر پھر شام کو دوہتے ہیں تو صبح سے شام تک لڑے یہ مطلب ہے اور صحیح یہ ہے کہ وہ ٹھہرنا مراد ہے جو دودھ دوہنے میں تھوڑی دیر ٹھہر جاتے ہیں تاکہ اور دودھ تھن میں اتر آئے، پھر دوہتے ہیں یہ چار پانچ منٹ ہوتے ہیں، تو مطلب یہ ہو گا کہ جو کوئی اتنی دیر تک بھی اللہ کی راہ میں کافروں سے لڑا تو اس کے لئے جنت واجب ہو گئی۔ سبحان اللہ جہاد کی فضیلت کا کیا کہنا۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک لڑائی میں حاضر ہوا، تو عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے میرے نفس! میرا خیال ہے کہ تجھے جنت میں جانا ناپسند ہے، میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تجھے جنت میں خوشی یا ناخوشی سے جانا ہی پڑے گا ۱؎۔
وضاحت: ۱؎: یعنی اللہ کی راہ میں شہید ہو گا اور شہادت جنت میں جانے کا سبب بنے گی، مگر نفس کو ناپسند ہے اس لئے کہ دنیا کی لذتوں کو چھوڑنا پڑتا ہے، عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے جیسے قسم کھائی تھی ویسا ہی ہو ا وہ جنگ موتہ میں شہید ہوئے جہاں جعفر بن ابی طالب اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی شہید ہوئے اور اوپر ایک حدیث میں گزرا کہ اللہ کے بعض بندے ایسے ہیں کہ اگر اللہ کے بھروسہ پر قسم کھا بیٹھیں تو اللہ تعالیٰ بھی ان کو سچا کرے، عبد اللہ بن رواحہ بھی ایسے ہی بندوں میں تھے، رضی اللہ عنہ وارضاہ۔
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس میں مجاہد کا خون بہا دیا جائے، اور جس کے گھوڑے کو بھی زخمی کر دیا جائے“۱؎۔
تخریج الحدیث: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10757، ومصباح الزجاجة: 990)، وقد أخرحہ: مسند احمد (4/114) (صحیح)» (سند میں محمد بن ذکوان اور شہر بن حوشب ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طریق سے یہ صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: یعنی پوری شہادت ہو خود بھی مارا جائے، اور گھوڑا بھی، یا اللہ تو ہمیں بھی راہ حق، اور خدمت دین میں شہادت نصیب فرما، اور موت کی تکالیف سے اور ہر ایک بیماری اور درد کے صدمہ سے بچا۔ آمین۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے راستے میں زخمی ہونے والا شخص (اور اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کے راستے میں کون زخمی ہو رہا ہے) قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا زخم بالکل اسی دن کی طرح تازہ ہو گا جس دن وہ زخمی ہوا تھا، رنگ تو خون ہی کا ہو گا، لیکن خوشبو مشک کی سی ہو گی۔
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کفار کے) گروہوں پر بد دعا کی، اور یوں فرمایا: ”اے اللہ! کتاب کے نازل فرمانے والے، جلد حساب لینے والے، گروہوں کو شکست دے، اے اللہ! انہیں شکست دے، اور جھنجوڑ کر رکھ دے“(کہ وہ پریشان و بے قرار ہو کر بھاگ کھڑے ہوں)۱؎۔
وضاحت: ۱؎: جب جنگ میں کافروں کی فوجیں بہت ہوں تو یہی دعا پڑھنی چاہئے، نبی اکرم ﷺ نے یہ دعا جنگ احزاب میں کی تھی، یعنی غزوہ خندق میں جب کفار و مشرکین کے گروہ دس ہزار کی تعداد میں مدینہ منورہ پر چڑھ آئے تھے اور مسلمانوں کو گھیرے میں لے لیا تھا۔
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے شہادت کا طالب ہو، اللہ تعالیٰ اسے شہیدوں کے مرتبے پر پہنچا دے گا، گرچہ وہ اپنے بستر ہی پر فوت ہوا ہو“۱؎۔
(مرفوع) حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا ابن ابي عدي ، عن ابن عون ، عن هلال بن ابي زينب ، عن شهر بن حوشب ، عن ابي هريرة ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ذكر الشهداء عند النبي صلى الله عليه وسلم، فقال:" لا تجف الارض من دم الشهيد حتى تبتدره زوجتاه كانهما ظئران اضلتا فصيليهما في براح من الارض، وفي يد كل واحدة منهما حلة خير من الدنيا وما فيها". (مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ذُكِرَ الشُّهَدَاءُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَا تَجِفُّ الْأَرْضُ مِنْ دَمِ الشَّهِيدِ حَتَّى تَبْتَدِرَهُ زَوْجَتَاهُ كَأَنَّهُمَا ظِئْرَانِ أَضَلَّتَا فَصِيلَيْهِمَا فِي بَرَاحٍ مِنَ الْأَرْضِ، وَفِي يَدِ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا حُلَّةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شہیدوں کا ذکر آیا، تو آپ نے فرمایا: ”زمین شہید کا خون خشک بھی نہیں کر پاتی کہ اس کی دونوں بیویاں ان دائیوں کی طرح اس پر جھپٹتی ہیں، جنہوں نے غیر آباد مقام میں اپنے بچے کھو دئیے ہوں، ہر بیوی کے ہاتھ میں ایسا جوڑا ہوتا ہے جو دنیا اور دنیا کی تمام نعمتوں سے بہتر ہے“۔
تخریج الحدیث: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13500، ومصباح الزجاجة: 992)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/297، 427) (ضعیف جدا)» (ہلال بن أبی زینب مجہول اور شہر بن حوشب ضعیف ہیں، شعبہ نے شہر سے روایت ترک کر دی تھی)
(مرفوع) حدثنا هشام بن عمار ، حدثنا إسماعيل بن عياش ، حدثني بحير بن سعد ، عن خالد بن معدان ، عن المقدام بن معد يكرب ، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:" للشهيد عند الله عز وجل ست خصال: يغفر له في اول دفعة من دمه، ويرى مقعده من الجنة، ويجار من عذاب القبر، ويامن من الفزع الاكبر، ويحلى حلة الإيمان، ويزوج من الحور العين، ويشفع في سبعين إنسانا من اقاربه". (مرفوع) حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يكَرِبَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لِلشَّهِيدِ عِنْدَ اللَّهِ عز وجل سِتُّ خِصَالٍ: يَغْفِرُ لَهُ فِي أَوَّلِ دُفْعَةٍ مِنْ دَمِهِ، وَيُرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَيُجَارُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَيَأْمَنُ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ، وَيُحَلَّى حُلَّةَ الْإِيمَانِ، وَيُزَوَّجُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ، وَيُشَفَّعُ فِي سَبْعِينَ إِنْسَانًا مِنْ أَقَارِبِهِ".
مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے یہاں شہید کے لیے چھ بھلائیاں ہیں: ۱- خون کی پہلی ہی پھوار پر اس کی مغفرت ہو جاتی ہے، اور جنت میں اس کو اپنا ٹھکانا نظر آ جاتا ہے ۲- عذاب قبر سے محفوظ رہتا ہے، ۳- حشر کی بڑی گھبراہٹ سے مامون و بےخوف رہے گا، ۴- ایمان کا جوڑا پہنایا جاتا ہے، ۵- حورعین سے نکاح کر دیا جاتا ہے، ۶- اس کے اعزہ و اقرباء میں سے ستر آدمیوں کے بارے میں اس کی سفارش قبول کی جاتی ہے“۔
تخریج الحدیث: «سنن الترمذی/فضائل الجہاد 25 (1663)، (تحفة الأشراف: 11556)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/131) (صحیح)»
(قدسي) حدثنا إبراهيم بن المنذر الحزامي ، حدثنا موسى بن إبراهيم الحرامي الانصاري ، سمعت طلحة بن خراش ، سمعت جابر بن عبد الله ، يقول: لما قتل عبد الله بن عمرو بن حرام يوم احد، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" يا جابر، الا اخبرك ما قال الله عز وجل لابيك؟ قلت: بلى، قال:" ما كلم الله احدا إلا من وراء حجاب وكلم اباك كفاحا، فقال: يا عبدي تمن علي اعطك، قال: يا رب تحييني فاقتل فيك ثانية، قال: إنه سبق مني انهم إليها لا يرجعون، قال: يا رب فابلغ من ورائي"، فانزل الله عز وجل هذه الآية ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله امواتا سورة آل عمران آية 169 الآية كلها. (قدسي) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَرَامِيُّ الْأَنْصَارِيُّ ، سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ خِرَاشٍ ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: لَمَّا قُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ يَوْمَ أُحُدٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا جَابِرُ، أَلَا أُخْبِرُكَ مَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِأَبِيكَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ:" مَا كَلَّمَ اللَّهُ أَحَدًا إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ وَكَلَّمَ أَبَاكَ كِفَاحًا، فَقَالَ: يَا عَبْدِي تَمَنَّ عَلَيَّ أُعْطِكَ، قَالَ: يَا رَبِّ تُحْيِينِي فَأُقْتَلُ فِيكَ ثَانِيَةً، قَالَ: إِنَّهُ سَبَقَ مِنِّي أَنَّهُمْ إِلَيْهَا لَا يُرْجَعُونَ، قَالَ: يَا رَبِّ فَأَبْلِغْ مَنْ وَرَائِي"، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَةَ وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا سورة آل عمران آية 169 الْآيَةَ كُلَّهَا.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب جنگ احد میں (ان کے والد) عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ قتل کر دئیے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جابر! اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد سے جو فرمایا ہے کیا میں تمہیں وہ نہ بتاؤں“؟ میں نے کہا: کیوں نہیں! ضرور بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جب بھی کسی سے بات کی تو پردہ کے پیچھے سے لیکن تمہارے والد سے آمنے سامنے بات کی، اور کہا: اے میرے بندے! مجھ سے اپنی خواہش کا اظہار کرو، میں تجھے عطا کروں گا، انہوں نے کہا: اے میرے رب! تو مجھے دوبارہ زندہ کر دے کہ میں دوبارہ تیرے راستے میں مارا جاؤں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس بات کا پہلے ہی فیصلہ ہو چکا ہے کہ دنیا میں دوبارہ لوٹایا نہیں جائے گا، انہوں نے کہا: اے میرے رب! میرے پسماندگان کو (میرا حال) پہنچا دے، تو یہ آیت نازل ہوئی: «ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا»(سورۃ آل عمران: ۱۶۹)”جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے انہیں تم مردہ مت سمجھو“۱؎۔
تخریج الحدیث: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2257 (ألف)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر القرآن (3010)، تقدم برقم: 190 (حسن)»
وضاحت: ۱؎: اس سے بدھ مت والوں اور ہندؤں کا مذہب باطل ہوتا ہے، ان کے نزدیک سب آدمی اپنے اپنے اعمال کے موافق سزا اور جزا پا کر پھر دنیا میں جنم لیتے ہیں، مگر جوپرم ہنس یعنی کامل فقیر اللہ کی ذات میں غرق ہو جاتا ہے اس کا جنم نہیں ہوتا۔
(مرفوع) حدثنا علي بن محمد ، حدثنا ابو معاوية ، حدثنا الاعمش ، عن عبد الله بن مرة ، عن مسروق ، عن عبد الله في قوله: ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله امواتا بل احياء عند ربهم يرزقون سورة آل عمران آية 169، قال: اما إنا سالنا عن ذلك فقال:" ارواحهم كطير خضر تسرح في الجنة في ايها شاءت ثم تاوي إلى قناديل معلقة بالعرش، فبينما هم كذلك إذ اطلع عليهم ربك اطلاعة، فيقول: سلوني ما شئتم، قالوا: ربنا ماذا نسالك ونحن نسرح في الجنة في ايها شئنا، فلما راوا انهم لا يتركون من ان يسالوا، قالوا: نسالك ان ترد ارواحنا في اجسادنا إلى الدنيا حتى نقتل في سبيلك، فلما راى انهم لا يسالون إلا ذلك تركوا". (مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ فِي قَوْلِهِ: وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ سورة آل عمران آية 169، قَالَ: أَمَا إِنَّا سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ:" أَرْوَاحُهُمْ كَطَيْرٍ خُضْرٍ تَسْرَحُ فِي الْجَنَّةِ فِي أَيِّهَا شَاءَتْ ثُمَّ تَأْوِي إِلَى قَنَادِيلَ مُعَلَّقَةٍ بِالْعَرْشِ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ اطَّلَعَ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ اطِّلَاعَةً، فَيَقُولُ: سَلُونِي مَا شِئْتُمْ، قَالُوا: رَبَّنَا مَاذَا نَسْأَلُكَ وَنَحْنُ نَسْرَحُ فِي الْجَنَّةِ فِي أَيِّهَا شِئْنَا، فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُمْ لَا يُتْرَكُونَ مِنْ أَنْ يَسْأَلُوا، قَالُوا: نَسْأَلُكَ أَنْ تَرُدَّ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا إِلَى الدُّنْيَا حَتَّى نُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ، فَلَمَّا رَأَى أَنَّهُمْ لَا يَسْأَلُونَ إِلَّا ذَلِكَ تُرِكُوا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: «ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا بل أحياء عند ربهم يرزقون» کے بارے میں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے) سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شہداء کی روحیں سبز چڑیوں کی شکل میں جنت میں جہاں چاہیں چلتی پھرتی ہیں، پھر شام کو عرش سے لٹکی ہوئی قندیلوں میں بسیرا کرتی ہیں، ایک بار کیا ہوا کہ روحیں اسی حال میں تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف جھانکا پھر فرمانے لگا: تمہیں جو چاہیئے مانگو، روحوں نے کہا: ہم جنت میں جہاں چاہتی ہیں چلتی پھرتی ہیں، اس سے بڑھ کر کیا مانگیں؟ جب انہوں نے دیکھا کہ بغیر مانگے خلاصی نہیں تو کہنے لگیں: ہمارا سوال یہ ہے کہ تو ہماری روحوں کو دنیاوی جسموں میں لوٹا دے کہ ہم پھر تیرے راستے میں قتل کئے جائیں، اللہ تعالیٰ نے جب دیکھا کہ وہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں مانگ رہی ہیں تو چھوڑ دیا ۱؎۔
وضاحت: ۱؎: یعنی جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل کئے جائیں ان کو مردہ مت سمجھو بلکہ وہ اپنے مالک کے پاس زندہ ہیں، ان کو روزی ملتی ہے، اس آیت سے شہیدوں کی زندگی اور ان کی روزی ثابت ہوئی، اور دوسری آیتوں اور حدیثوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حقیقت میں بدن سے روح کے نکلنے کا نام موت ہے، نہ یہ کہ روح کا فنا ہو جانا پس جب روح باقی ہے اور فنا نہیں ہوئی، تو زندگی بھی باقی ہے، البتہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ دنیا کی سی زندگی ہے، بلکہ شاید دنیاوی زندگی سے زیادہ قوی اور طاقتور ہو، اگر کوئی اعتراض کرے کہ جب سب لوگ زندہ ہیں تو پھر شہداء کی کیا خصوصیت ہے؟ حالانکہ اس آیت سے ان کی خصوصیت نکلتی ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ شہداء کی خصوصیت اور ان کا امتیاز یہ ہے کہ وہ زندہ بھی ہیں اور اللہ کے پاس معظم و مکرم بھی، ان کو جنت کے پھل روز کھانے کو ملتے ہیں، یہ سب باتیں اوروں کے لئے نہ ہوں گی، مگر دوسری حدیث میں ہے کہ مومنوں کی روحیں چڑیوں کے لباس میں جنت میں چلتی پھرتی ہیں، اس میں سارے مومن داخل ہو گئے، اور ایک حدیث میں ہے کہ قبر میں جنت کی طرف ایک راستہ مومن کے لئے کھول دیا جائے گا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت تک مومن کی روح وہیں رہے گی، غرض روح کے مسکن کے باب میں علماء کے بہت اقوال ہیں جن کو امام ابن القیم رحمہ اللہ نے تفصیل سے «حادی الأرواح إلی بلاد الأفراح» میں ذکر کیا ہے، اور سب سے زیادہ راجح قول یہی ہے کہ مومنوں کی روحیں جنت میں ہیں، اور کافروں کی جہنم میں، واللہ اعلم۔