قرآن پاک لفظ هُوَ کے تحت آنے والی قرآنی آیات
نمبر لفظ آیت ترجمہ
181
هُوَ
وَاللَّهُ يَقْضِي بِالْحَقِّ وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ لَا يَقْضُونَ بِشَيْءٍ إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ [40-غافر:20]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اور اللہ تعالیٰ ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے گا اس کے سوا جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں وه کسی چیز کا بھی فیصلہ نہیں کرسکتے، بیشک اللہ تعالیٰ خوب سنتا خوب دیکھتا ہے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور خدا سچائی کے ساتھ حکم فرماتا ہے اور جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کچھ بھی حکم نہیں دے سکتے۔ بےشک خدا سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور اللہ حق کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے اور وہ لوگ جنھیں وہ اس کے سوا پکارتے ہیں کسی بھی چیز کا فیصلہ نہیں کرتے۔ بے شک اللہ ہی تو سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔
182
هُوَ
وَقَالَ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيمَانَهُ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ وَإِنْ يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ وَإِنْ يَكُ صَادِقًا يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ [40-غافر:28]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اور ایک مومن شخص نے، جو فرعون کے خاندان میں سے تھا اور اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا، کہا کہ کیا تم ایک شحض کو محض اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وه کہتا ہے میرا رب اللہ ہے اور تمہارے رب کی طرف سے دلیلیں لے کر آیا ہے، اگر وه جھوٹا ہو تو اس کا جھوٹ اسی پر ہے اور اگر وه سچا ہو، تو جس (عذاب) کا وه تم سے وعده کر رہا ہے اس میں سے کچھ نہ کچھ تو تم پر آ پڑے گا، اللہ تعالیٰ اس کی رہبری نہیں کرتا جو حد سے گزر جانے والے اور جھوٹے ہیں
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور فرعون کے لوگوں میں سے ایک مومن شخص جو اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھتا تھا کہنے لگا کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا پروردگار خدا ہے اور وہ تمہارے پروردگار (کی طرف) سے نشانیاں بھی لے کر آیا ہے۔ اور اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس کے جھوٹ کا ضرر اسی کو ہوگا۔ اور اگر سچا ہوگا تو کوئی سا عذاب جس کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے تم پر واقع ہو کر رہے گا۔ بےشک خدا اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو بےلحاظ جھوٹا ہے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور فرعون کی آل میں سے ایک مومن آدمی نے کہا جو اپنا ایمان چھپاتا تھا، کیا تم ایک آدمی کو اس لیے قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے ’’میرا رب اللہ ہے ‘‘حالانکہ یقینا وہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے واضح دلیلیں لے کر آیا ہے اور اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ اسی پر ہے اور اگر وہ سچا ہے تو تمھیں اس کا کچھ حصہ پہنچ جائے گا جس کا وہ تم سے وعدہ کر رہا ہے۔ بے شک اللہ اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے بڑھنے والا، سخت جھوٹا ہو۔
183
هُوَ
وَلَقَدْ جَاءَكُمْ يُوسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا زِلْتُمْ فِي شَكٍّ مِمَّا جَاءَكُمْ بِهِ حَتَّى إِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ يَبْعَثَ اللَّهُ مِنْ بَعْدِهِ رَسُولًا كَذَلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُرْتَابٌ [40-غافر:34]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اور اس سے پہلے تمہارے پاس (حضرت) یوسف دلیلیں لے کر آئے، پھر بھی تم ان کی ﻻئی ہوئی (دلیل) میں شک و شبہ ہی کرتے رہے یہاں تک کہ جب ان کی وفات ہو گئی تو کہنے لگے ان کے بعد تو اللہ کسی رسول کو بھیجے گا ہی نہیں اسی طرح اللہ گمراه کرتا ہے ہر اس شخص کو جو حد سے بڑھ جانے واﻻ شک و شبہ کرنے واﻻ ہو
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور پہلے یوسف بھی تمہارے پاس نشانیاں لے کر آئے تھے تو جو وہ لائے تھے اس سے تم ہمیشہ شک ہی میں رہے۔ یہاں تک کہ جب وہ فوت ہوگئے تو تم کہنے لگے کہ خدا اس کے بعد کبھی کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا۔ اسی طرح خدا اس شخص کو گمراہ کر دیتا ہے جو حد سے نکل جانے والا اور شک کرنے والا ہو
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور بلاشبہ یقینا اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلیلیں لے کر آیا تو تم اس کے بارے میں شک ہی میں رہے، جو وہ تمھارے پاس لے کر آیا، یہاں تک کہ جب وہ فوت ہو گیا تو تم نے کہا اس کے بعد اللہ کبھی کوئی رسول نہ بھیجے گا۔ اسی طرح اللہ ہر اس شخص کو گمراہ کرتا ہے جو حد سے بڑھنے والا، شک کرنے والا ہو۔
184
هُوَ
إِنَّ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي آيَاتِ اللَّهِ بِغَيْرِ سُلْطَانٍ أَتَاهُمْ إِنْ فِي صُدُورِهِمْ إِلَّا كِبْرٌ مَا هُمْ بِبَالِغِيهِ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ [40-غافر:56]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
جو لوگ باوجود اپنے پاس کسی سند کے نہ ہونے کے آیات الٰہی میں جھگڑا کرتے ہیں ان کے دلوں میں بجز نری بڑائی کے اور کچھ نہیں وه اس تک پہنچنے والے ہی نہیں، سو تو اللہ کی پناه مانگتا ره بیشک وه پورا سننے واﻻ اور سب سے زیاده دیکھنے واﻻ ہے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
جو لوگ بغیر کسی دلیل کے جو ان کے پاس آئی ہو خدا کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں ان کے دلوں میں اور کچھ نہیں (ارادہٴ) عظمت ہے اور وہ اس کو پہنچنے والے نہیں تو خدا کی پناہ مانگو۔ بےشک وہ سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
بے شک وہ لوگ جو اللہ کی آیات میں کسی دلیل کے بغیر جھگڑتے ہیں جو ان کے پاس آئی ہو، ان کے سینوں میںایک بڑائی کے سواکچھ نہیں، جس تک وہ ہرگز پہنچنے والے نہیں ہیں، سو اللہ کی پنا ہ مانگ۔ بے شک وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔
185
هُوَ
ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ [40-غافر:62]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
یہی اللہ ہے تم سب کا رب ہر چیز کا خالق اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر کہاں تم پھرے جاتے ہو
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
یہی خدا تمہارا پروردگار ہے جو ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر تم کہاں بھٹک رہے ہو؟
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
یہی ہے اللہ تمھارا رب، ہر چیز کا پیدا کرنے والا، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پھر تم کہاں بہکائے جاتے ہو۔
186
هُوَ
هُوَ الْحَيُّ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ [40-غافر:65]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
وه زنده ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں پس تم خالص اس کی عبادت کرتے ہوئے اسے پکارو، تمام خوبیاں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
وہ زندہ ہے (جسے موت نہیں) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تو اس کی عبادت کو خالص کر کر اسی کو پکارو۔ ہر طرح کی تعریف خدا ہی کو (سزاوار) ہے جو تمام جہان کا پروردگار ہے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
وہی زندہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، سواسے پکارو، اس حال میں کہ اسی کے لیے دین کو خالص کرنے والے ہو، سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
187
هُوَ
هُوَ الْحَيُّ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ [40-غافر:65]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
وه زنده ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں پس تم خالص اس کی عبادت کرتے ہوئے اسے پکارو، تمام خوبیاں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
وہ زندہ ہے (جسے موت نہیں) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تو اس کی عبادت کو خالص کر کر اسی کو پکارو۔ ہر طرح کی تعریف خدا ہی کو (سزاوار) ہے جو تمام جہان کا پروردگار ہے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
وہی زندہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، سواسے پکارو، اس حال میں کہ اسی کے لیے دین کو خالص کرنے والے ہو، سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
188
هُوَ
هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ يُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوا أَشُدَّكُمْ ثُمَّ لِتَكُونُوا شُيُوخًا وَمِنْكُمْ مَنْ يُتَوَفَّى مِنْ قَبْلُ وَلِتَبْلُغُوا أَجَلًا مُسَمًّى وَلَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ [40-غافر:67]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
وه وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پھر نطفے سے پھر خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا پھر تمہیں بچہ کی صورت میں نکالتا ہے، پھر (تمہیں بڑھاتا ہے کہ) تم اپنی پوری قوت کو پہنچ جاؤ پھر بوڑھے ہو جاؤ، تم میں سے بعض اس سے پہلے ہی فوت ہو جاتے ہیں، (وه تمہیں چھوڑ دیتا ہے) تاکہ تم مدت معین تک پہنچ جاؤ اور تاکہ تم سوچ سمجھ لو
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
وہی تو ہے جس نے تم کو (پہلے) مٹی سے پیدا کیا۔ ہھر نطفہ بنا کر پھر لوتھڑا بنا کر پھر تم کو نکالتا ہے (کہ تم) بچّے (ہوتے ہو) پھر تم اپنی جوانی کو پہنچتے ہو۔ پھر بوڑھے ہوجاتے ہو۔ اور کوئی تم میں سے پہلے ہی مرجاتا ہے اور تم (موت کے) وقت مقرر تک پہنچ جاتے ہو اور تاکہ تم سمجھو
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
وہی ہے جس نے تمھیں کچھ مٹی سے پیدا کیا، پھر ایک قطرے سے، پھر ایک جمے ہوئے خون سے، پھر وہ تمھیں ایک بچہ بنا کر نکالتا ہے، پھر تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچ جاؤ، پھر تاکہ تم بوڑھے ہو جاؤ اورتم میںسے بعض وہ ہے جو اس سے پہلے قبض کر لیا جاتا ہے اور تاکہ تم ایک مقرر وقت کو پہنچ جاؤ اور تاکہ تم سمجھو۔
189
هُوَ
هُوَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ فَإِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ [40-غافر:68]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
وہی ہے جو جلاتا ہے اور مار ڈالتا ہے، پھر جب وه کسی کام کا کرنا مقرر کرتا ہے تو اسے صرف یہ کہتا ہے کہ ہو جا پس وه ہو جاتا ہے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
وہی تو ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے۔ پھر جب وہ کوئی کام کرنا (اور کسی کو پیدا کرنا) چاہتا ہے تو اس سے کہہ دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ جاتا ہے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
وہی ہے جو زندگی بخشتا ہے اور موت دیتاہے، پھر جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے صرف یہ کہتا ہے کہ ’’ہو جا ‘‘تو وہ ہو جاتا ہے۔
190
هُوَ
فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ [41-فصلت:15]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اب عاد نے تو بے وجہ زمین میں سرکشی شروع کر دی اور کہنے لگے کہ ہم سے زور آور کون ہے؟ کیا انہیں یہ نظر نہ آیا کہ جس نے انہیں پیدا کیا ہے وه ان سے (بہت ہی) زیاده زور آور ہے، وه (آخر تک) ہماری آیتوں کا انکار ہی کرتے رہے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
جو عاد تھے وہ ناحق ملک میں غرور کرنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم سے بڑھ کر قوت میں کون ہے؟ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا جس نے ان کو پیدا کیا وہ ان سے قوت میں بہت بڑھ کر ہے۔ اور وہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے رہے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
پھر جو عاد تھے وہ زمین میں کسی حق کے بغیر بڑے بن بیٹھے اور انھوں نے کہا ہم سے قوت میں کون زیادہ سخت ہے؟ اور کیا انھوںنے نہیںدیکھا کہ وہ اللہ جس نے انھیں پیدا کیا، قوت میں ان سے کہیں زیادہ سخت ہے اور وہ ہماری آیات کا انکار کیا کرتے تھے۔