تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1- حدیث نمبر سے حدیث تلاش کیجئے:
کتاب سنن ترمذي تفصیلات سوانح حیات: امام ترمذی رحمہ اللہ كتاب الصلاة
کتاب: نماز کے احکام و مسائل
163. باب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَتَطَوَّعُ جَالِسًا
163. باب: بیٹھ کر نفل نماز پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا
أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حَدَّثَنَا
هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا
خَالِدٌ وَهُوَ: الْحَذَّاءُ ، عَنْ
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ
عَائِشَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَطَوُّعِهِ، قَالَتْ: " كَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا، فَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَائِمٌ، وَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ جَالِسٌ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ جَالِسٌ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ رات تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور دیر تک بیٹھ کر پڑھتے جب آپ کھڑے ہو کر قرأت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی کھڑے کھڑے کرتے اور جب بیٹھ کر قرأت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی بیٹھ کر ہی کرتے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 375] تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 16 (730)، سنن ابی داود/ الصلاة 290 (1251)، سنن النسائی/قیام اللیل 18 (1647، 1648)، (تحفة الأشراف: 16207)، مسند احمد (6/30) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1228)
● سنن النسائى الصغرى إذا صلى قائما ركع قائما وإذا صلى قاعدا ركع قاعدا ● سنن النسائى الصغرى إذا افتتح الصلاة قائما ركع قائما إذا افتتح الصلاة قاعدا ركع قاعدا ● صحيح مسلم إذا قرأ قائما ركع قائما وإذا قرأ قاعدا ركع قاعدا ● صحيح مسلم إذا افتتح الصلاة قائما ركع قائما إذا افتتح الصلاة قاعدا ركع قاعدا ● صحيح مسلم إذا صلى قائما ركع قائما وإذا صلى قاعدا ركع قاعدا ● جامع الترمذي إذا قرأ وهو قائم ركع وسجد وهو قائم وإذا قرأ وهو جالس ركع وسجد وهو جالس ● سنن أبي داود إذا صلى قائما ركع قائما وإذا صلى قاعدا ركع قاعدا ● سنن ابن ماجه إذا قرأ قائما ركع قائما وإذا قرأ قاعدا ركع قاعدا