تخریج: «أخرجه أبوداود، اللقطة، باب التعريف باللقطة، حديث:1709، وابن ماجه، اللقطة، حديث:2505، والنسائي في الكبرٰي كما في تحفة الأشراف:11013، وأحمد:4 /162، 266، وابن حبان(الموارد)، حديث:1169.»
تشریح:
اس حدیث کی رو سے جب لقطہ ملے تو اس وقت گواہ بنانا واجب ہے۔
مگر امام شافعی رحمہ اللہ کے ہاں مستحب ہے۔
اس کا بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ خدانخواستہ یکے بعد دیگرے دو آدمی آ کر اس کی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں اور علامات اور نشانیاں بھی بتا دیتے ہیں تو اب یہ کس کو دے؟ اسی جھگڑے سے محفوظ رہنے کے لیے گواہ بنانا ضروری ہے کیونکہ پوری اور صحیح علامات تو صرف مالک اصلی ہی بتا سکے گا۔
اور یہ گواہوں کی موجودگی میں واپس دے کر اس جھگڑے کو ختم کر سکے گا۔
راویٔ حدیث: «حضرت عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ» عیاض کے
”عین
“ اور حمار کے
”حا
“ کے نیچے کسرہ ہے۔
مشہور صحابی ہیں۔
نسبتاً تمیمی مجاشعی ہیں۔
انھوں نے بصرہ کو جائے سکونت قرار دے لیا تھا اور پچاس ہجری کے آخر تک زندہ رہے۔