(حديث مرفوع) اخبرنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، قال: هشام بن زيد بن انس اخبرني، قال: سمعت انس بن مالك، يقول: انفجنا ارنبا ونحن بمر الظهران، فسعى القوم فلغبوا، فاخذتها وجئت بها إلى ابي طلحة، فذبحها وبعث بوركيها او فخذيها، شك شعبة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم"فقبلها".(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: هِشَامُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ أَخْبَرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: أَنْفَجْنَا أَرْنَبًا وَنَحْنُ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ، فَسَعَى الْقَوْمُ فَلَغِبُوا، فَأَخَذْتُهَا وَجِئْتُ بِهَا إِلَى أَبِي طَلْحَةَ، فَذَبَحَهَا وَبَعَثَ بِوَرِكَيْهَا أَوْ فَخِذَيْهَا، شَكَّ شُعْبَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"فَقَبِلَهَا".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مرالظہران نامی ایک جگہ میں ہم نے ایک خرگوش کا پیچھا کیا، لوگ (اس کے پیچھے) دوڑے اور جب تھک گئے میں نے قریب پہنچ کر اس کو پکڑ لیا اور اس کو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لایا، انہوں نے اسے ذبح کیا اور اس کے پیچھے کا یا دونوں رانوں کا گوشت (یہ شک سعید کو ہوا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیا جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرما لیا۔
وضاحت: (تشریح حدیث 2051) اس حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خرگوش کا گوشت قبول کر لیا، اگر حرام ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے قبول نہ کرتے، لہٰذا خرگوش کا کھانا اور شکار کرنا نیز ہدیہ قبول کرنا جائز ہوا۔