سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان میں بھی جہاد کے لئے نکلے تھے اور فتح مکہ کا واقعہ تو خیر رمضان ہی میں پیش آیا تھا، ان دونوں موقعوں پر ہم نے دوران سفر روزے نہیں رکھے تھے۔ (بلکہ بعد میں قضاء کی تھی)۔
حكم دارالسلام: حديث قوي، عبدالله بن لهيعة سيء الحفظ، لكن رواه عنه قتيبة بن سعيد، ورواية قتيبة عنه صالحة معتبر بها
(حديث مرفوع) حدثنا ابو سعيد مولى بني هاشم، حدثنا المثنى بن عوف العنزي بصري ، قال: انبانا الغضبان بن حنظلة ، ان اباه حنظلة بن نعيم وفد إلى عمر، فكان عمر إذا مر به إنسان من الوفد، ساله ممن هو، حتى مر به ابي، فساله ممن انت؟ فقال: من عنزة، فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول:" حي من هاهنا مبغي عليهم منصورون".(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ عَوْفٍ الْعَنَزِيُّ بَصْرِيٌّ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْغَضْبَانُ بْنُ حَنْظَلَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ حَنْظَلَةَ بْنَ نُعَيْمٍ وَفَدَ إِلَى عُمَرَ، فَكَانَ عُمَرُ إِذَا مَرَّ بِهِ إِنْسَانٌ مِنَ الْوَفْدِ، سَأَلَهُ مِمَّنْ هُوَ، حَتَّى مَرَّ بِهِ أَبِي، فَسَأَلَهُ مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَقَالَ: مِنْ عَنَزَةَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" حَيٌّ مِنْ هَاهُنَا مَبْغِيٌّ عَلَيْهِمْ مَنْصُورُونَ".
غضبان بن حنظلہ کہتے ہیں کہ ان کے والد حنظلہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک وفد لے کر حاضر ہوئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس وفد کے جس آدمی کے پاس سے بھی گزرتے اس کے متعلق یہ ضرور پوچھتے کہ اس کا تعلق کہاں سے ہے؟ چنانچہ جب میرے والد کے پاس پہنچے تو ان سے بھی یہی پوچھا کہ آپ کا تعلق کہاں سے ہے؟ انہوں نے بتایا: قبیلہ عنزہ سے، تو فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس قبیلے کے لوگ مظفر و منصور ہوتے ہیں۔
حكم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة الغضبان بن حنظلة وأبيه
معمر (جو کہ ایک مشہور محدث ہیں) نے ایک مرتبہ سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ علیہ سے دوران سفر روزہ رکھنے کا حکم دریافت کیا تو انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ حدیث انہیں سنائی کہ ہم نے ماہ رمضان میں دو مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں شرکت کی ہے، ایک غزوہ بدر کے موقع پر اور ایک فتح مکہ کے موقع پر اور دونوں مرتبہ ہم نے روزے نہیں رکھے۔
حكم دارالسلام: حديث قوي، عبدالله بن لهيعة سيء الحفظ، لكن رواه عنه قتيبة بن سعيد، ورواية قتيبة عنه صالحة معتبر بها
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے اپنی امت کے متعلق سب سے زیادہ خطرہ اس منافق سے ہے جو زبان دان ہو۔“
(حديث مرفوع) حدثنا ابو سعيد ، حدثنا عبد العزيز بن محمد ، حدثنا صالح بن محمد بن زائدة ، عن سالم بن عبد الله : انه كان مع مسلمة بن عبد الملك في ارض الروم، فوجد في متاع رجل غلول، فسال سالم بن عبد الله، فقال: حدثني عبد الله ، عن عمر ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال:" من وجدتم في متاعه غلولا، فاحرقوه، قال: واحسبه قال: واضربوه"، قال: فاخرج متاعه في السوق، قال: فوجد فيه مصحفا، فسال سالما، فقال: بعه، وتصدق بثمنه".(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّهُ كَانَ مَعَ مَسْلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ فِي أَرْضِ الرُّومِ، فَوُجِدَ فِي مَتَاعِ رَجُلٍ غُلُولٌ، فَسَأَلَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ وَجَدْتُمْ فِي مَتَاعِهِ غُلُولًا، فَأَحْرِقُوهُ، قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: وَاضْرِبُوهُ"، قَالَ: فَأَخْرَجَ مَتَاعَهُ فِي السُّوقِ، قَالَ: فَوَجَدَ فِيهِ مُصْحَفًا، فَسَأَلَ سَالِمًا، فَقَالَ: بِعْهُ، وَتَصَدَّقْ بِثَمَنِهِ".
سیدنا سالم رحمہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ وہ مسلمہ بن عبدالملک کے ساتھ ارض روم میں تھے کہ ایک آدمی کے سامان سے چوری کا مال غنیمت نکل آیا، لوگوں نے سیدنا سالم رحمہ اللہ علیہ سے اس مسئلے کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے اپنے والد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث نقل کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جس شخص کے سامان میں سے تمہیں چوری کا مال غنیمت مل جائے، اس سامان کو آگ لگا دو“ اور شاید یہ بھی فرمایا کہ اس شخص کی پٹائی کرو۔ چنانچہ لوگوں نے اس کا سامان نکال کر بازار میں لا کر رکھا، اس میں سے ایک قرآن شریف بھی نکلا، لوگوں نے سالم سے اس کے متعلق پوچھا: تو انہوں نے فرمایا کہ اسے بیچ کر اس کی قیمت صدقہ کر دو۔
حكم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف صالح بن محمد بن زائدة
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے، «مِنَ الْبُخْلِ، وَالْجُبْنِ، وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَسُوءِ الْعُمُرِ» بخل سے، بزدلی سے، دل کے فتنہ سے، عذاب قبر سے اور بری عمر سے۔
(حديث مرفوع) حدثنا ابو سعيد ، حدثنا ابن لهيعة ، قال: سمعت عطاء بن دينار ، عن ابي يزيد الخولاني ، انه سمع فضالة بن عبيد ، يقول سمعت عمر بن الخطاب ، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول:" الشهداء ثلاثة: رجل مؤمن جيد الإيمان لقي العدو، فصدق الله حتى قتل، فذلك الذي يرفع إليه الناس اعناقهم يوم القيامة، ورفع رسول الله صلى الله عليه وسلم راسه حتى وقعت قلنسوته، او قلنسوة عمر، ورجل مؤمن جيد الإيمان لقي العدو، فكانما يضرب جلده بشوك الطلح، اتاه سهم غرب، فقتله، هو في الدرجة الثانية، ورجل مؤمن جيد الإيمان، خلط عملا صالحا، وآخر سيئا، لقي العدو، فصدق الله حتى قتل، فذلك في الدرجة الثالثة".(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الْخَوْلَانِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ، يَقُولُ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الشُّهَدَاءُ ثَلَاثَةٌ: رَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَيِّدُ الْإِيمَانِ لَقِيَ الْعَدُوَّ، فَصَدَقَ اللَّهَ حَتَّى قُتِلَ، فَذَلِكَ الَّذِي يَرْفَعُ إِلَيْهِ النَّاسُ أَعْنَاقَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ حَتَّى وَقَعَتْ قَلَنْسُوَتُهُ، أَوْ قَلَنْسُوَةُ عُمَرَ، وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَيِّدُ الْإِيمَانِ لَقِيَ الْعَدُوَّ، فَكَأَنَّمَا يُضْرَبُ جِلْدُهُ بِشَوْكِ الطَّلْحِ، أَتَاهُ سَهْمٌ غَرْبٌ، فَقَتَلَهُ، هُوَ فِي الدَّرَجَةِ الثَّانِيَةِ، وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَيِّدُ الْإِيمَانِ، خَلَطَ عَمَلًا صَالِحًا، وَآخَرَ سَيِّئًا، لَقِيَ الْعَدُوَّ، فَصَدَقَ اللَّهَ حَتَّى قُتِلَ، فَذَلِكَ فِي الدَّرَجَةِ الثَّالِثَةِ".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: شہداء تین طرح کے ہوتے ہیں۔ وہ مسلمان آدمی جس کا ایمان مضبوط ہو، دشمن سے اس کا آمنا سامنا ہوا اور اس نے اللہ کی بات کو سچا کر دکھایا یہاں تک کہ شہید ہو گیا، یہ تو وہ آدمی ہے جس کی طرف قیامت کے دن لوگ گردنیں اٹھا اٹھا کر دیکھیں گے اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر بلند کر کے دکھایا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ٹوپی گر گئی۔ وہ مسلمان آدمی جس کا ایمان مضبوط ہو، دشمن سے آمنا سامنا ہوا اور ایسا محسوس ہو کہ اس کے جسم پر کسی نے کانٹے چبھا دئیے ہوں، اچانک کہیں سے ایک تیر آیا اور وہ شہید ہو گیا، یہ دوسرے درجے میں ہو گا۔ وہ مسلمان آدمی جس کا ایمان تو مضبوط ہو لیکن اس نے کچھ اچھے اور کچھ برے دونوں طرح کے عمل کیے ہوں، دشمن سے جب اس کا آمنا سامنا ہوا تو اس نے اللہ کی بات کو سچا کر دکھایا، یہاں تک کہ شہید ہو گیا، یہ تیسرے درجے میں ہو گا۔
حكم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبى يزيد الخولاني
(حديث مرفوع) حدثنا ابو سعيد ، حدثنا عبد الله بن لهيعة ، حدثنا عمرو بن شعيب ، عن ابيه ، عن جده ، عن عمر ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال:" لا يقاد والد من ولد". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" يرث المال من يرث الولاء".(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يُقَادُ وَالِدٌ مِنْ وَلَدٍ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَرِثُ الْمَالَ مَنْ يَرِثُ الْوَلَاءَ".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”باپ سے اس کی اولاد کا قصاص نہیں لیا جائے گا۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مال کا وارث وہی ہو گا جو ولاء کا وارث ہو گا۔“
حكم دارالسلام: حديث حسن، عبدالله بن لهيعة- وإن كان سيء الحفظ - قد توبع
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ باپ سے اس کی اولاد کا قصاص نہیں لیا جائے گا۔