وعن عبد العزيز بن رفيع قال: سالت انس بن مالك. قلت: اخبرني بشيء عقلته عن رسول الله صلى الله عليه وسلم: اين صلى الظهر يوم التروية؟ قال: بمنى. قلت: فاين صلى العصر يوم النفر؟ قال: بالابطح. ثم قال افعل كما يفعل امراؤك وَعَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ قَالَ: سألتُ أنسَ بنَ مالكٍ. قُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ عَقَلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يومَ الترويةِ؟ قَالَ: بمنى. قلت: فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ؟ قَالَ: بِالْأَبْطَحِ. ثُمَّ قَالَ افْعَلْ كَمَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ
عبدالعزیز بن رفیع بیان کرتے ہیں، میں نے انس رضی اللہ عنہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا، میں نے کہا: اگر آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی بات یاد کی ہو تو مجھے بتائیں کہ آپ نے ترویہ (آٹھ ذوالحجہ) کے دن ظہر کی نماز کہاں پڑھی تھی؟ انہوں نے فرمایا: منیٰ میں، پھر پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منیٰ سے واپس آتے ہوئے عصر کی نماز کہاں پڑھی تھی؟ فرمایا: وادی ابطح میں، پھر فرمایا: جیسے تمہارے امرا کریں ویسے تم کرو۔ متفق علیہ۔
تحقيق و تخريج الحدیث: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله: «متفق عليه، رواه البخاري (1653) و مسلم (1309/336)»
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: نزول الابطح ليس بسنة إنما نزله رسول الله صلى الله عليه وسلم لانه كان اسمح لخروجه إذا خرج وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: نُزُولُ الْأَبْطَحِ لَيْسَ بِسُنَّةٍ إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّهُ كَانَ أسمح لِخُرُوجِهِ إِذا خرج
عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں، ابطح میں قیام کرنا سنت نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو وہاں اس لیے قیام فرمایا تھا کہ وہاں سے (مدینہ کے لیے) روانہ ہونا زیادہ آسان تھا۔ متفق علیہ۔
تحقيق و تخريج الحدیث: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله: «متفق عليه، رواه البخاري (1765) و مسلم (1311/339)»
وعنها قالت: احرمت من التنعيم بعمرة فدخلت فقضيت عمرتي وانتظرني رسول الله صلى الله عليه وسلم بالابطح حتى فرغت فامر الناس بالرحيل فخرج فمر البيت فطاف به قبل صلاة الصبح ثم خرج إلى المدينة. هذا الحديث ما وجدته برواية الشيخين بل برواية ابي داود مع اختلاف يسير في آخره وَعَنْهَا قَالَتْ: أَحْرَمْتُ مِنَ التَّنْعِيمِ بِعُمْرَةٍ فَدَخَلْتُ فَقَضَيْتُ عُمْرَتِي وَانْتَظَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم بالأبطحِ حَتَّى فَرَغْتُ فَأَمَرَ النَّاسَ بِالرَّحِيلِ فَخَرَجَ فَمَرَّ ِالْبَيْتِ فَطَافَ بِهِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ. هَذَا الْحَدِيثُ مَا وَجَدْتُهُ بِرِوَايَةِ الشَّيْخَيْنِ بَلْ بِرِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ مَعَ اخْتِلَاف يسير فِي آخِره
عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں، میں نے مقام نتعیم سے عمرہ کے لیے احرام باندھا، میں (مکہ میں) داخل ہوئی اور اپنا عمرہ ادا کیا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابطح کے مقام پر میرا انتظار فرمایا حتی کہ میں عمرہ سے فارغ ہو گئی تو آپ نے لوگوں کو کوچ کا حکم فرمایا۔ آپ وہاں سے نکلے اور بیت اللہ کا طواف صبح کی نماز سے پہلے کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ کےلیے روانہ ہوئے۔ میں نے صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت کے حوالے سے یہ حدیث نہیں پائی، بلکہ آخر پر تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ ابوداؤد کی روایت میں پایا۔ صحیح، رواہ ابوداؤد۔
تحقيق و تخريج الحدیث: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله: «صحيح، رواه أبو داود (2005 و سنده صحيح) [و انظر صحيح البخاري (1560) و مسلم (1211/123)]»
وعن ابن عباس قال: كان الناس ينصرفون في كل وجه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا ينفرن احدكم حتى يكون آخر عهده بالبيت إلا انه خفف عن الحائض» وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَنْصَرِفُونَ فِي كُلِّ وَجْهٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْفِرَنَّ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ إِلَّا أَنَّهُ خُفِّفَ عَنِ الْحَائِضِ»
ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، لوگ (منیٰ سے فارغ ہو کر) کسی بھی طریق سے واپس چلے جاتے تھے، (یہ صورتحال دیکھ کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص مکہ سے نہ جائے حتی کہ اس کا آخری وقت بیت اللہ کے پاس ہو، (طواف وداع کرے) البتہ حیض والی عورت کو مستثنیٰ قرار دیا۔ “ متفق علیہ۔
تحقيق و تخريج الحدیث: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله: «متفق عليه، رواه البخاري (1755) و مسلم (1327/379)»
وعن عائشة قالت: حاضت صفية ليلة النفر فقالت: ما اراني إلا حابستكم. قال النبي صلى الله عليه وسلم: «عقرى حلقى اطافت يوم النحر؟» قيل: نعم. قال: «فانفري» وَعَن عائشةَ قَالَتْ: حَاضَتْ صَفِيَّةُ لَيْلَةَ النَّفْرِ فَقَالَتْ: مَا أُرَانِي إِلَّا حَابِسَتَكُمْ. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَقْرَى حَلْقَى أَطَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ؟» قيل: نعم. قَالَ: «فانفري»
عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں، کوچ (کے دن) کی رات صفیہ رضی اللہ عنہ کو حیض آ گیا، تو انہوں نے عرض کیا، میرا خیال ہے کہ (طوافِ وداع کی وجہ سے) میں نے تمہیں روک دیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”(عرب کے محاورے کے مطابق) بے اولاد، سر مُنڈی یا حلق میں بیماری والی، (اس سے بددعا مراد نہیں، بلکہ جیسے کہا جاتا ہے: تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں ویسے ہی یہ الفاظ ہیں) کیا اس نے قربانی کے دن طواف افاضہ کیا تھا؟“ آپ کو بتایا گیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”پھر (مدینہ کی طرف) کوچ کرو۔ “ متفق علیہ۔
تحقيق و تخريج الحدیث: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله: «متفق عليه، رواه البخاري (1771. 1772) و مسلم (387 / 1211)»
عن عمرو بن الاحوص قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في حجة الوداع: «اي يوم هذا؟» قالوا: يوم النحر الاكبر. قال: «فإن دماءكم واموالكم واعراضكم بينكم حرام كحرمة يومكم هذا في بلدكم هذا الا لا يجني جان على نفسه ولا يجني جان على ولده ولا مولود على والده الا وإن الشيطان قد ايس ان يعبد في بلدكم هذا ابدا ولكن ستكون له طاعة فيما تحتقرون من اعمالكم فسيرضى به» . رواه ابن ماجه والترمذي وصححه عَنْ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟» قَالُوا: يَوْمُ النَّحْر الْأَكْبَرِ. قَالَ: «فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ بَيْنَكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَلا لَا يجني جانٍ عَلَى نَفْسِهِ وَلَا يَجْنِي جَانٍ عَلَى وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ عَلَى وَالِدِهِ أَلَا وَإِنَّ الشَّيْطَانَ قد أَيسَ أَنْ يُعْبَدَ فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَبَدًا وَلَكِنْ ستكونُ لهُ طاعةٌ فِيمَا تحتقرونَ مِنْ أَعْمَالِكُمْ فَسَيَرْضَى بِهِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالتِّرْمِذِيّ وَصَححهُ
عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر فرماتے ہوئے سنا: ”آج کون سا دن ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا: حج اکبر کا دن ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں تمہارے درمیان اس شہر میں، تمہارے اس دن کی حرمت کی طرح حرام ہیں، سن لو! کوئی ظالم اپنی جان پر ظلم نہ کرے، سن لو! کوئی ظالم اپنی اولاد پر ظلم نہ کرے نہ بچہ اپنے والد پر ظلم کرے، سن لو! شیطان اس بات سے ہمیشہ کے لیے مایوس ہو چکا ہے کہ اس کی تمہارے اس شہر میں عبادت ہو، لیکن تمہارے ایسے امور میں جنہیں تم معمولی سمجھتے ہو، اس کی اطاعت ہو گی تو وہ اس پر ہی راضی ہو جائے گا۔ “ ابن ماجہ، ترمذی۔ اور انہوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ اسناد حسن، رواہ الترمذی و ابن ماجہ۔
تحقيق و تخريج الحدیث: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله: «إسناده حسن، رواه ابن ماجه (3055) و الترمذي (2159)»
وعن رافع بن عمرو والمزني قال: رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب الناس بمنى حين ارتفع الضحى على بغلة شهباء وعلي يعبر عنه والناس بين قائم وقاعد. رواه ابو داود وَعَن رافعِ بنِ عمروٍ والمُزَني قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ بِمِنًى حِينَ ارْتَفَعَ الضُّحَى عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ وَعَلِيٌّ يُعَبِّرُ عَنْهُ وَالنَّاسُ بَين قَائِم وقاعد. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
رافع بن عمرو مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منیٰ میں چاشت کے بعد سیاہی مائل سفید خچر پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے سنا، جبکہ علی رضی اللہ عنہ آپ کی طرف سے لوگوں تک بات پہنچا رہے تھے جبکہ لوگ کچھ کھڑے تھے اور کچھ بیٹھے ہوئے تھے۔ اسنادہ صحیح، رواہ ابوداؤد۔
تحقيق و تخريج الحدیث: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله: «إسناده صحيح، رواه أبو داود (1956)»
وعن عائشة وابن عباس رضي الله عنهم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اخر طواف الزيارة يوم النحر إلى الليل. رواه الترمذي وابو داود وابن ماجه وَعَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ طَوَافَ الزِّيَارَةِ يَوْمَ النَّحْرِ إِلَى اللَّيْلِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه
عائشہ رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کے دن طواف زیارت کو رات تک مؤخر فرمایا۔ سندہ ضعیف، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ۔
تحقيق و تخريج الحدیث: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله: «سنده ضعيف، رواه الترمذي (920 و قال: حسن) و أبو داود (2000) و ابن ماجه (3059) [و البخاري قبل ح 1732 تعليقًا] ٭ أبو الزبير مدلس و عنعن و تابعه محمد بن طارق و لکنه عن طاووس مرسل.»
وعن ابن عباس: ان النبي صلى الله عليه وسلم لم يرمل في السبع الذي افاض فيه. رواه ابو داود وابن ماجه وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَرْمُلْ فِي السَّبْعِ الَّذِي أَفَاضَ فِيهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طواف افاضہ کے ساتوں چکروں میں رمل نہیں فرمایا۔ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ۔
تحقيق و تخريج الحدیث: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله: «إسناده حسن، رواه أبو داود (2001) و ابن ماجه (3060)»
وعن عائشة ان النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا رمى احدكم جمرة العقبة فقد حل له كل شيء إلا النساء» . رواه في شرح السنة وقال: إسناده ضعيف وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا رَمَى أَحَدُكُمْ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَقَدْ حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ» . رَوَاهُ فِي شرح السّنة وَقَالَ: إِسْنَاده ضَعِيف
عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی جمرہ عقبی کو کنکریاں مار لے تو بیویوں کے (ساتھ جماع کے) سوا اس کے لیے ہر چیز حلال ہو جاتی ہے۔ “ شرح السنہ۔ اور انہوں نے فرمایا: اس کی سند ضعیف ہے۔ سندہ ضعیف، رواہ شرح السنہ۔
تحقيق و تخريج الحدیث: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله: «سنده ضعيف، رواه البغوي في شرح السنة (210/7 بعد ح 1962 بلاسند) [و أبو داود (1978)] ٭ الحجاج بن أرطاة ضعيف مدلس و انظر الحديث الآتي (2675)»