حدثنا بشر بن المفضل , قال: حدثنا سعد بن إسحاق بن كعب بن عجرة الانصاري , عن عمته زينب بنت كعب , ان فريعة بنت مالك بن سنان اخت ابي سعيد الخدري حدثتها , ان زوجها خرج في طلب اعلاج لهم , فادركهم بطرف القدوم , فقتلوه , فاتاها نعيه وهي في دار من دور الانصار , شاسعة عن دار اهلها , فكرهت العدة فيها , فاتت النبي صلى الله عليه وسلم , فقالت: يا رسول الله , اتاني نعي زوجي , وانا في دار من دور الانصار , شاسعة عن دور اهلي , إنما تركني في مسكن لا يملكه , ولم يتركني في نفقة ينفق علي , ولم ارث منه مالا , فإن رايت ان الحق بإخوتي واهلي , فيكون امرنا جميعا , فإنه احب إلي , فاذن لي ان الحق باهلي , فخرجت مسرورة بذلك , حتى إذا كنت في الحجرة او المسجد دعاني او امر بي فدعيت فقال لي:" كيف زعمت؟" , فاعدت عليه , فقال: " امكثي في مسكن زوجك الذي جاءك فيه نعيه حتى يبلغ الكتاب اجله" , قالت: فاعتددت فيه اربعة اشهر وعشرا .حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ , قَالَ: حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ الْأَنْصَارِيُّ , عَنْ عَمَّتِهِ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ , أَنَّ فُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ أُخْتَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ حَدَّثَتْهَا , أَنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْلَاجٍ لَهُمْ , فَأَدْرَكَهُمْ بِطَرَفِ الْقَدُومِ , فَقَتَلُوهُ , فَأَتَاهَا نَعْيُهُ وَهِيَ فِي دَارٍ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ , شَاسِعَةٍ عَنْ دَارِ أَهْلِهَا , فَكَرِهَتْ الْعِدَّةَ فِيهَا , فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَتَانِي نَعْيُ زَوْجِي , وَأَنَا فِي دَارٍ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ , شَاسِعَةٍ عَنْ دُورِ أَهْلِي , إِنَّمَا تَرَكَنِي فِي مَسْكَنٍ لَا يَمْلِكُهُ , وَلَمْ يَتْرُكْنِي فِي نَفَقَةٍ يُنْفَقُ عَلَيَّ , وَلَمْ أَرِثْ مِنْهُ مَالًا , فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ أَلْحَقَ بِإِخْوَتِي وَأَهِلِي , فَيَكُونَ أَمَرُنَا جَمِيعًا , فَإِنَّهُ أَحَبُّ إِلَيَّ , فَأَذِنَ لِي أَنْ أَلْحَقَ بِأَهْلِي , فَخَرَجْتُ مَسْرُورَةً بِذَلِكَ , حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي الْحُجْرَةِ أَوْ الْمَسْجِدِ دَعَانِي أَوْ أَمَرَ بِي فَدُعِيتُ فَقَالَ لِي:" كَيْفَ زَعَمْتِ؟" , فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ , فَقَالَ: " امْكُثِي فِي مَسْكَنِ زَوْجِكِ الَّذِي جَاءَكِ فِيهِ نَعْيُهُ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ" , قَالَتْ: فَاعْتَدَدْتُ فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا .
حضرت فریعہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میرے شوہر اپنے چند عجمی غلاموں کی تلاش میں روانہ ہوئے، وہ انہیں ”قدوم“ کے کنارے پر ملے، لیکن ان سب نے مل کر انہیں قتل کر دیا، مجھے اپنے خاوند کے مرنے کی خبر جب پہنچی تو میں اپنے اہل خانہ سے دور کے گھر میں تھی، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے عرض کیا کہ مجھے اپنے خاوند کے مرنے کی خبر ملی ہے اور میں اپنے اہل خانہ سے دور کے گھر میں رہتی ہوں، میرے خاوند نے نہ کوئی نفقہ چھوڑا ہے اور نہ ہی ورثہ کے لئے کوئی مال و دولت، نیز اس کا کوئی مکان بھی نہ تھا، اگر میں اپنے اہل خانہ اور بھائیوں کے پاس چلی جاؤں تو بعض معاملات میں مجھے سہولت ہو جائے گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چلی جاؤ“، لیکن جب میں مسجد یا حجرے سے نکلنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا کہ اسی گھر میں عدت گزارو جہاں تمہارے پاس تمہارے شوہر کی موت کی خبر آئی تھی یہاں تک کہ عدت پوری ہو جائے“، چنانچہ میں نے چار مہینے اور دس دن وہیں گزارے۔
حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جان بوجھ کر نماز کو ترک مت کیا کرو، اس لئے کہ جو شخص جان بوجھ کر نماز کو ترک کرتا ہے، اس سے اللہ اور اس کے رسول کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔“
حكم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، مكحول لم يسمع من أم أيمن
حضرت ام شریک رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چھپکلی مارنے کی اجازت لی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت دے دی، یاد رہے کہ حضرت ام شریک رضی اللہ عنہا کا تعلق بنو عامر بن لوئی سے ہے۔
حدثنا عبد الصمد , قال: حدثني ديلم ابو غالب القطان , قال: حدثني الحكم بن جحل , قال: حدثتني ام الكرام , انها حجت , قالت: فلقيت امراة بمكة كثيرة الحشم , ليس عليهن حلي إلا الفضة , فقلت لها: ما لي لا ارى على احد من حشمك حليا إلا الفضة؟ قالت: كان جدي عند رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا معه , علي قرطان من ذهب , فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " شهابان من نار" , فنحن اهل البيت , ليس احد منا يلبس حليا إلا الفضة .حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ: حَدَّثَنِي دَيْلَمٌ أَبُو غَالِبٍ الْقَطَّانُ , قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ جَحْلٍ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ الْكِرَامِ , أَنَّهَا حَجَّتْ , قَالَتْ: فَلَقِيتُ امْرَأَةً بِمَكَّةَ كَثِيرَةَ الْحَشَمِ , لَيْسَ عَلَيْهِنَّ حُلِيٌّ إِلَّا الْفِضَّةُ , فَقُلْتُ لَهَا: مَا لِي لَا أَرَى عَلَى أَحَدٍ مِنْ حَشَمِكِ حُلِيًّا إِلَّا الْفِضَّةَ؟ قَالَتْ: كَانَ جَدِّي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ , عَلَيَّ قُرْطَانِ مِنْ ذَهَبٍ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " شِهَابَانِ مِنْ نَارٍ" , فَنَحْنُ أَهْلَ الْبَيْتِ , لَيْسَ أَحَدٌ مِنَّا يَلْبَسُ حُلِيًّا إِلَّا الْفِضَّةَ .
ام کرام کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ وہ حج پر گئیں وہاں ایک عورت سے مکہ مکرمہ میں ملاقات ہوئی، جس کے ساتھ بہت سی خادمائیں تھیں لیکن ان میں سے کسی پر بھی چاندی کے علاوہ کوئی زیور نہ تھا، میں نے اس سے کہا کہ کیا بات ہے مجھے آپ کی خادمہ پر سوائے چاندی کے کوئی زیور نظر نہیں آ رہا، اس نے کہا: میرے دادا ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خاضر ہوئے، میں بھی ان کے ساتھ تھی اور میں نے سونے کی دو بالیاں پہن رکھی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ آگ کے دو شعلے ہیں، اس وقت سے ہمارے گھر میں کوئی عورت بھی چاندی کے علاوہ کوئی زیور نہیں پہنتی۔“
حدثنا يونس , قال: حدثنا عبد الله بن المؤمل , عن عمر بن عبد الرحمن , قال: حدثنا عطاء , عن حبيبة بنت ابي تجراة , قالت: دخلنا دار ابي حسين في نسوة من قريش , والنبي صلى الله عليه وسلم يطوف بين الصفا والمروة , قالت: وهو يسعى , يدور به إزاره من شدة السعي , وهو يقول لاصحابه: " اسعوا , فإن الله كتب عليكم السعي" .حَدَّثَنَا يُونُسُ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ , عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءٌ , عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي تَجْرَاةَ , قَالَتْ: دَخَلْنَا دَارَ أَبِي حُسَيْنٍ فِي نِسْوَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ , وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ , قَالَتْ: وَهُوَ يَسْعَى , يَدُورُ بِهِ إِزَارُهُ مِنْ شِدَّةِ السَّعْيِ , وَهُوَ يَقُولُ لِأَصْحَابِهِ: " اسْعَوْا , فَإِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَيْكُمْ السَّعْيَ" .
حضرت حبیبہ بنت ابی تجراہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم لوگ قریش کی کچھ خواتین کے ساتھ دار ابوحسین میں داخل ہوئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم صفا مروہ کے درمیان سعی فرما رہے تھے اور دوڑنے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ازار گھوم گھوم جاتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سعی کرتے جا رہے تھے اور صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرماتے جا رہے تھے کہ سعی کرو، کیونکہ اللہ نے تم پر سعی کو واجب قرار دیا ہے۔
حكم دارالسلام: حسن بطرقه وشاهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن المؤمل، وقد اضطرب فيه
حضرت حبیبہ بنت ابی تجراہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم لوگ قریش کی کچھ خواتین کے ساتھ دار ابوحسین میں داخل ہوئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم صفا مروہ کے درمیان سعی فرما رہے تھے اور دوڑنے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ازار گھوم گھوم جاتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سعی کرتے جا رہے تھے اور صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرماتے جا رہے تھے کہ سعی کرو، کیونکہ اللہ نے تم پر سعی کو واجب قرار دیا ہے۔
حكم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف على انقطاع فيه، فبين عطاء و عبدالله بن المؤمل عمرو بن عبدالرحمن
حضرت ام کرز رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چھوٹے بچے کو لایا گیا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاپ کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس پر پانی کے چھینٹے مار دیئے گئے، پھر ایک بچی کو لایا گیا، اس نے پیشاپ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دھونے کا حکم دیا۔
حكم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عمرو بن شعيب لم يسمع من أم كرز
حدثنا حجاج , عن ابن جريج , وعبد الرزاق , قال: اخبرنا ابن جريج , قال: اخبرني عطاء , عن حبيبة بنت ميسرة بن ابي خثيم , عن ام بني كرز الكعبية , انها سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن العقيقة , فقال: " عن الغلام شاتان مكافاتان , وعن الجارية شاة" , قلت لعطاء: ما المكافاتان؟ قال: المثلان , قال حجاج في حديثه: والضان احب إلي من المعز , وذكر انها احب إلي من إناثها , قال: ونحب ان يجعله سوادها منه.حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ , وَعَبْدِ الرَّزَّاقِ , قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ , عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ مَيْسَرَةَ بْنِ أَبِي خُثَيْمٍ , عَنْ أُمِّ بَنِي كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ , أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَقِيقَةِ , فَقَالَ: " عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ , وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ" , قُلْتُ لِعَطَاءٍ: مَا الْمُكَافَأَتَانِ؟ قَالَ: الْمِثْلَانِ , قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ: وَالضَّأْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الْمَعْزِ , وَذَكَرَ أَنَّهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ إِنَاثِهَا , قَالَ: وَنُحِبُّ أَنْ يَجْعَلَهُ سَوَادَهَا مِنْهُ.
حضرت ام کرز رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے عقیقہ کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: تو انہوں نے فرمایا: ”لڑکے کی طرف سے عقیقہ میں دو بکریاں کی جائیں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری۔“
حكم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حبيبة بنت ميسرة