قرآن پاک لفظ لَهُ کے تحت آنے والی قرآنی آیات
نمبر لفظ آیت ترجمہ
121
لَهُ
أَنِ اقْذِفِيهِ فِي التَّابُوتِ فَاقْذِفِيهِ فِي الْيَمِّ فَلْيُلْقِهِ الْيَمُّ بِالسَّاحِلِ يَأْخُذْهُ عَدُوٌّ لِي وَعَدُوٌّ لَهُ وَأَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِنِّي وَلِتُصْنَعَ عَلَى عَيْنِي [20-طه:39]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
کہ تو اسے صندوق میں بند کرکے دریا میں چھوڑ دے، پس دریا اسے کنارے ﻻ ڈالے گا اور میرا اور خود اس کا دشمن اسے لے لے گا، اور میں نے اپنی طرف کی خاص محبت ومقبولیت تجھ پر ڈال دی۔ تاکہ تیری پرورش میری آنکھوں کے سامنے کی جائے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
(وہ یہ تھا) کہ اسے (یعنی موسیٰ کو) صندوق میں رکھو پھر اس (صندوق) کو دریا میں ڈال دو تو دریا اسے کنارے پر ڈال دے گا (اور) میرا اور اس کا دشمن اسے اٹھا لے گا۔ اور (موسیٰ) میں نے تم پر اپنی طرف سے محبت ڈال دی ہے (اس لئے کہ تم پر مہربانی کی جائے) اور اس لئے کہ تم میرے سامنے پرورش پاؤ
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
یہ کہ تو اسے صندوق میں ڈال، پھر اسے دریا میں ڈال دے، پھر دریا اسے کنارے پرڈال دے ، اسے ایک میرا دشمن اور اس کا دشمن اٹھالے گا اور میں نے تجھ پر اپنی طرف سے ایک محبت ڈال دی اور تاکہ تیری پرورش میری آنکھوں کے سامنے کی جائے۔
122
لَهُ
فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَيِّنًا لَعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى [20-طه:44]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اسے نرمی سے سمجھاؤ کہ شاید وه سمجھ لے یا ڈر جائے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور اس سے نرمی سے بات کرنا شاید وہ غور کرے یا ڈر جائے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
پس اس سے بات کرو، نرم بات، اس امید پر کہ وہ نصیحت حاصل کرلے، یا ڈر جائے۔
123
لَهُ
قَالَ آمَنْتُمْ لَهُ قَبْلَ أَنْ آذَنَ لَكُمْ إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِي عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ فَلَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلَافٍ وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ فِي جُذُوعِ النَّخْلِ وَلَتَعْلَمُنَّ أَيُّنَا أَشَدُّ عَذَابًا وَأَبْقَى [20-طه:71]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
فرعون کہنے لگا کہ کیا میری اجازت سے پہلے ہی تم اس پرایمان لے آئے؟ یقیناً یہی تمہارا وه بڑا بزرگ ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا ہے، (سن لو) میں تمہارے پاؤں الٹے سیدھے کٹوا کر تم سب کو کھجور کے تنوں میں سولی پر لٹکوا دوں گا، اور تمہیں پوری طرح معلوم ہوجائے گا کہ ہم میں سے کس کی مار زیاده سخت اور دیرپا ہے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
(فرعون) بولا کہ پیشتر اس کے میں تمہیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔ بےشک وہ تمہارا بڑا (یعنی استاد) ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔ سو میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں (جانب) خلاف سے کٹوا دوں گا اور کھجور کے تنوں پر سولی چڑھوا دوں گا (اس وقت) تم کو معلوم ہوگا کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیر تک رہنے والا ہے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
کہا تم اس پر اس سے پہلے ایمان لے آئے کہ میں تمھیں اجازت دوں، یقینا یہ تو تمھارا بڑا ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے، پس یقینا میں ہر صورت تمھارے ہاتھ اور تمھارے پائوں مخالف سمت سے بری طرح کاٹوں گا اور ضرور ہر صورت تمھیں کھجور کے تنوں پر بری طرح سولی دوں گا اور یقینا تم ضرور جان لو گے کہ ہم میں سے کون عذاب دینے میں زیادہ سخت اور زیادہ باقی رہنے والا ہے۔
124
لَهُ
إِنَّهُ مَنْ يَأْتِ رَبَّهُ مُجْرِمًا فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَى [20-طه:74]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
بات یہی ہے کہ جو بھی گنہگار بن کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوگا اس کے لئے دوزخ ہے، جہاں نہ موت ہوگی اور نہ زندگی
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
جو شخص اپنے پروردگار کے پاس گنہگار ہو کر آئے گا تو اس کے لئے جہنم ہے۔ جس میں نہ مرے گا نہ جیئے گا
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
بے شک حقیقت یہ ہے کہ جو اپنے رب کے پاس مجرم بن کر آئے گا تو یقینا اسی کے لیے جہنم ہے، نہ وہ اس میں مرے گا اور نہ جیے گا۔
125
لَهُ
فَأَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَهُ خُوَارٌ فَقَالُوا هَذَا إِلَهُكُمْ وَإِلَهُ مُوسَى فَنَسِيَ [20-طه:88]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
پھر اس نے لوگوں کے لئے ایک بچھڑا نکال کھڑا کیا یعنی بچھڑے کا بت، جس کی گائے کی سی آواز بھی تھی پھر کہنے لگے کہ یہی تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا بھی، لیکن موسیٰ بھول گیا ہے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
تو اس نے ان کے لئے ایک بچھڑا بنا دیا (یعنی اس کا) قالب جس کی آواز گائے کی سی تھی۔ تو لوگ کہنے لگے کہ یہی تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا بھی معبود ہے۔ مگر وہ بھول گئے ہیں
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
پس اس نے ان کے لیے ایک بچھڑا نکالا، جو محض جسم تھا، اس کے لیے گائے کی آواز تھی، تو انھوں نے کہا یہی تمھارا معبود اور موسیٰ کا معبود ہے، سو وہ بھول گیا۔
126
لَهُ
يَوْمَئِذٍ يَتَّبِعُونَ الدَّاعِيَ لَا عِوَجَ لَهُ وَخَشَعَتِ الْأَصْوَاتُ لِلرَّحْمَنِ فَلَا تَسْمَعُ إِلَّا هَمْسًا [20-طه:108]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
جس دن لوگ پکارنے والے کے پیچھے چلیں گے جس میں کوئی کجی نہ ہوگی اور اللہ رحمنٰ کے سامنے تمام آوازیں پست ہو جائیں گی سوائے کھسر پھسر کے تجھے کچھ بھی سنائی نہ دے گا
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اس روز لوگ ایک پکارنے والے کے پیچھے چلیں گے اور اس کی پیروی سے انحراف نہ کرسکیں گے اور خدا کے سامنے آوازیں پست ہوجائیں گی تو تم آواز خفی کے سوا کوئی آواز نہ سنو گے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اس دن وہ پکارنے والے کے پیچھے چلے آئیں گے، جس کے لیے کوئی کجی نہ ہوگی اور سب آوازیں رحمان کے لیے پست ہو جائیں گی، سو تو ایک نہایت آہستہ آواز کے سوا کچھ نہیں سنے گا۔
127
لَهُ
يَوْمَئِذٍ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَنُ وَرَضِيَ لَهُ قَوْلًا [20-طه:109]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اس دن سفارش کچھ کام نہیں آئے گی مگر جسے رحمنٰ حکم دے اور اس کی بات کو پسند فرمائے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اس روز (کسی کی) سفارش کچھ فائدہ نہ دے گی مگر اس شخص کی جسے خدا اجازت دے اور اس کی بات کو پسند فرمائے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اس دن سفارش نفع نہ دے گی مگر جس کے لیے رحمان اجازت دے اور جس کے لیے وہ بات کرنا پسند فرمائے۔
128
لَهُ
يَوْمَئِذٍ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَنُ وَرَضِيَ لَهُ قَوْلًا [20-طه:109]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اس دن سفارش کچھ کام نہیں آئے گی مگر جسے رحمنٰ حکم دے اور اس کی بات کو پسند فرمائے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اس روز (کسی کی) سفارش کچھ فائدہ نہ دے گی مگر اس شخص کی جسے خدا اجازت دے اور اس کی بات کو پسند فرمائے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اس دن سفارش نفع نہ دے گی مگر جس کے لیے رحمان اجازت دے اور جس کے لیے وہ بات کرنا پسند فرمائے۔
129
لَهُ
وَلَقَدْ عَهِدْنَا إِلَى آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا [20-طه:115]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
ہم نے آدم کو پہلے ہی تاکیدی حکم دیا تھا لیکن وه بھول گیا اور ہم نے اس میں کوئی عزم نہیں پایا
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور ہم نے پہلے آدم سے عہد لیا تھا مگر وہ (اسے) بھول گئے اور ہم نے ان میں صبر وثبات نہ دیکھا
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور بلاشبہ یقینا ہم نے آدم کو اس سے پہلے تاکید کی، پھر وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں ارادے کی کچھ پختگی نہ پائی۔
130
لَهُ
وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى [20-طه:124]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اور (ہاں) جو میری یاد سے روگردانی کرے گا اس کی زندگی تنگی میں رہے گی، اور ہم اسے بروز قیامت اندھا کر کے اٹھائیں گے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور جو میری نصیحت سے منہ پھیرے گا اس کی زندگی تنگ ہوجائے گی اور قیامت کو ہم اسے اندھا کرکے اٹھائیں گے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور جس نے میری نصیحت سے منہ پھیرا تو بے شک اس کے لیے تنگ گزران ہے اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا کر کے اٹھائیں گے۔