قرآن پاک لفظ هُمْ کے تحت آنے والی قرآنی آیات
نمبر لفظ آیت ترجمہ
101
هُمْ
فَكُبْكِبُوا فِيهَا هُمْ وَالْغَاوُونَ [26-الشعراء:94]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
پس وه سب اور کل گمراه لوگ جہنم میں اوندھے منھ ڈال دیے جائیں گے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
تو وہ اور گمراہ (یعنی بت اور بت پرست) اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دیئے جائیں گے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
پھر وہ اور تمام گمراہ لوگ اس میں اوندھے منہ پھینک دیے جائیں گے۔
102
هُمْ
الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ بِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ [27-النمل:3]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰة ادا کرتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
وہ جو نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
وہ جو نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پریقین بھی وہی رکھتے ہیں۔
103
هُمْ
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ فَإِذَا هُمْ فَرِيقَانِ يَخْتَصِمُونَ [27-النمل:45]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
یقیناً ہم نے ﺛمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا کہ تم سب اللہ کی عبادت کرو پھر بھی وه دو فریق بن کر آپس میں لڑنے جھگڑنے لگے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور ہم نے ثمود کی طرف اس کے بھائی صالح کو بھیجا کہ خدا کی عبادت کرو تو وہ دو فریق ہو کر آپس میں جھگڑنے لگے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور بلاشبہ یقینا ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو تو اچانک وہ دو گروہ ہو کر جھگڑ رہے تھے۔
104
هُمْ
أَمَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَأَنْزَلَ لَكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَنْبَتْنَا بِهِ حَدَائِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ مَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُنْبِتُوا شَجَرَهَا أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَعْدِلُونَ [27-النمل:60]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
بھلا بتاؤ تو؟ کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟ کس نے آسمان سے بارش برسائی؟ پھر اس سے ہرے بھرے بارونق باغات اگا دیئے؟ ان باغوں کے درختوں کو تم ہر گز نہ اگا سکتے، کیا اللہ کے ساتھ اور کوئی معبود بھی ہے؟ بلکہ یہ لوگ ہٹ جاتے ہیں (سیدھی راه سے)
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
بھلا کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور (کس نے) تمہارے لئے آسمان سے پانی برسایا۔ (ہم نے) پھر ہم ہی نے اس سے سرسبز باغ اُگائے۔ تمہارا کام تو نہ تھا کہ تم اُن کے درختوں کو اگاتے۔ تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور بھی معبود ہے؟ (ہرگز نہیں) بلکہ یہ لوگ رستے سے الگ ہو رہے ہیں
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
(کیا وہ شریک بہتر ہیں) یا وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمھارے لیے آسمان سے پانی اتارا، پھر ہم نے اس کے ساتھ رونق والے باغات اگائے، تمھارے بس میں نہ تھا کہ ان کے درخت اگاتے، کیا اللہ کے ساتھ کوئی (اور) معبود ہے؟ بلکہ یہ ایسے لوگ ہیں جو راستے سے ہٹ رہے ہیں۔
105
هُمْ
بَلِ ادَّارَكَ عِلْمُهُمْ فِي الْآخِرَةِ بَلْ هُمْ فِي شَكٍّ مِنْهَا بَلْ هُمْ مِنْهَا عَمُونَ [27-النمل:66]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
بلکہ آخرت کے بارے میں ان کا علم ختم ہوچکا ہے، بلکہ یہ اس کی طرف سے شک میں ہیں۔ بلکہ یہ اس سے اندھے ہیں
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
بلکہ آخرت (کے بارے) میں ان کا علم منتہی ہوچکا ہے بلکہ وہ اس سے شک میں ہیں۔ بلکہ اس سے اندھے ہو رہے ہیں
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
بلکہ ان کا علم آخرت کے بارے میں گم ہو گیا ہے، بلکہ وہ اس کے بارے میں شک میں ہیں، بلکہ وہ اس سے اندھے ہیں۔
106
هُمْ
بَلِ ادَّارَكَ عِلْمُهُمْ فِي الْآخِرَةِ بَلْ هُمْ فِي شَكٍّ مِنْهَا بَلْ هُمْ مِنْهَا عَمُونَ [27-النمل:66]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
بلکہ آخرت کے بارے میں ان کا علم ختم ہوچکا ہے، بلکہ یہ اس کی طرف سے شک میں ہیں۔ بلکہ یہ اس سے اندھے ہیں
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
بلکہ آخرت (کے بارے) میں ان کا علم منتہی ہوچکا ہے بلکہ وہ اس سے شک میں ہیں۔ بلکہ اس سے اندھے ہو رہے ہیں
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
بلکہ ان کا علم آخرت کے بارے میں گم ہو گیا ہے، بلکہ وہ اس کے بارے میں شک میں ہیں، بلکہ وہ اس سے اندھے ہیں۔
107
هُمْ
إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَقُصُّ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ أَكْثَرَ الَّذِي هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ [27-النمل:76]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
یقیناً یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے ان اکثر چیزوں کا بیان کر رہا ہے جن میں یہ اختلاف کرتے ہیں
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
بےشک یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے اکثر باتیں جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں، بیان کر دیتا ہے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
بے شک یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے اکثر وہ باتیں بیان کرتا ہے جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔
108
هُمْ
وَأَتْبَعْنَاهُمْ فِي هَذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ هُمْ مِنَ الْمَقْبُوحِينَ [28-القصص:42]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اور ہم نے اس دنیا میں بھی ان کے پیچھے اپنی لعنت لگا دی اور قیامت کے دن بھی وه بدحال لوگوں میں سے ہوں گے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور اس دنیا سے ہم نے اُن کے پیچھے لعنت لگادی اور وہ قیامت کے روز بھی بدحالوں میں ہوں گے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی اور قیامت کے دن وہ دور دفع کیے گئے لوگوں سے ہوں گے۔
109
هُمْ
الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِهِ هُمْ بِهِ يُؤْمِنُونَ [28-القصص:52]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
جس کو ہم نے اس سے پہلے کتاب عنایت فرمائی وه تو اس پر بھی ایمان رکھتے ہیں
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی تھی وہ اس پر ایمان لے آتے ہیں
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
وہ لوگ جنھیں ہم نے اس سے پہلے کتاب دی وہ اس پر ایمان لاتے ہیں۔
110
هُمْ
وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلَّذِينَ آمَنُوا اتَّبِعُوا سَبِيلَنَا وَلْنَحْمِلْ خَطَايَاكُمْ وَمَا هُمْ بِحَامِلِينَ مِنْ خَطَايَاهُمْ مِنْ شَيْءٍ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ [29-العنكبوت:12]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
کافروں نے ایماں والوں سے کہا کہ تم ہماری راه کی تابعداری کرو تمہارے گناه ہم اٹھا لیں گے، حاﻻنکہ وه ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی نہیں اٹھانے والے، یہ تو محض جھوٹے ہیں
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور جو کافر ہیں وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے طریق کی پیروی کرو ہم تمہارے گناہ اُٹھالیں گے۔ حالانکہ وہ اُن کے گناہوں کا کچھ بھی بوجھ اُٹھانے والے نہیں۔ کچھ شک نہیں کہ یہ جھوٹے ہیں
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور جن لوگوں نے کفر کیا انھوں نے ان لوگوں سے کہا جو ایمان لائے کہ تم ہمارے راستے پر چلو اور لازم ہے کہ ہم تمھارے گناہ اٹھا لیں، حالانکہ وہ ہرگز ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی اٹھانے والے نہیں، بے شک وہ یقینا جھوٹے ہیں۔