تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1- حدیث نمبر سے حدیث تلاش کیجئے:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
سنن ترمذی میں عربی لفظ تلاش کریں:
سنن ترمذی میں اردو لفظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:


سنن ترمذي
كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
کتاب: فضائل و مناقب
1. باب فِي فَضْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
1. باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 3613
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَثَلِي فِي النَّبِيِّينَ كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى دَارًا فَأَحْسَنَهَا وَأَكْمَلَهَا وَأَجْمَلَهَا وَتَرَكَ مِنْهَا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِالْبِنَاءِ وَيَعْجَبُونَ مِنْهُ , وَيَقُولُونَ: لَوْ تَمَّ مَوْضِعُ تِلْكَ اللَّبِنَةِ، وَأَنَا فِي النَّبِيِّينَ مَوْضِعُ تِلْكَ اللَّبِنَةِ ".
ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء میں میری مثال ایک ایسے آدمی کی ہے جس نے ایک گھر بنایا اور اسے بہت اچھا بنایا، مکمل اور نہایت خوبصورت بنایا، لیکن اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، لوگ اس میں پھرتے تھے اور اس کی خوبصورتی کو دیکھ کر تعجب کرتے تھے اور کہتے تھے، کاش اس اینٹ کی جگہ بھی پوری ہو جاتی، تو میں نبیوں میں ایسے ہی ہوں جیسی خالی جگہ کی یہ اینٹ ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3613]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 32)، و مسند احمد (5/137) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح تخريج فقه السيرة (141)

   جامع الترمذيمثلي في النبيين كمثل رجل بنى دارا فأحسنها وأكملها وأجملها وترك منها موضع لبنة فجعل الناس يطوفون بالبناء ويعجبون منه ويقولون لو تم موضع تلك اللبنة وأنا في النبيين موضع تلك اللبنة إذا كان يوم القيامة كنت إمام النبيين وخطيبهم وصاحب شفاعتهم غير فخر

حدیث نمبر: 3613M
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ كُنْتُ إِمَامَ النَّبِيِّينَ وَخَطِيبَهُمْ وَصَاحِبَ شَفَاعَتِهِمْ غَيْرُ فَخْرٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
اور اسی سند سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے آپ نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہو گا تو میں نبیوں کا امام اور ان کا خطیب ہوں گا اور ان کی شفاعت کرنے والا ہوں گا اور (اور اس پر مجھے) کوئی گھمنڈ نہیں ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3613M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح)»

وضاحت: ۱؎: یہ حدیث منجملہ ان احادیث کے ہے جن سے قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ آپ ہی آخری نبی ہیں، آپ کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہے، تو فرمایا کہ میں وہ آخری اینٹ ہوں اب اس اینٹ کے جگہ پر جانے کے بعد کسی اور اینٹ کی ضرورت ہی کیا رہ گئے شاعر نے اس حدیث کی کیا خوب ترجمانی کی ہے: قصر ہدیٰ کے آخری پتھر ہیں مصطفی۔

قال الشيخ الألباني: صحيح تخريج فقه السيرة (141)

قال الشيخ زبير على زئي: (3613ب) إسناده ضعيف / جه 4314
عبدالله بن محمد بن عقيل ضعيف (تقدم: 997) و أحاديث البخاري (3340 ، 3361 ، 4712) و مسلم (194) وغيرهما تغني عنه . و انظر الحديث السابق (الأصل :2434) وسنده صحيح متفق عليه