عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام نماز پوری کر لے اور آخری قعدہ میں بیٹھ جائے، پھر بات کرنے (یعنی سلام پھیرنے) سے پہلے اس کا وضو ٹوٹ جائے تو اس کی اور اس کے پیچھے جنہوں نے نماز مکمل کی، سب کی نماز پوری ہو گئی“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 617]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 188 (408)، (تحفة الأشراف: 8610) (ضعیف)» (اس کے راوی عبدالرحمن افریقی ضعیف ہیں، نیز یہ حدیث اگلی صحیح حدیث کے مخالف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف إسناده ضعيف ترمذي (408) الإ فريقي : ضعيف انوار الصحيفه، صفحه نمبر 35
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 617
617۔ اردو حاشیہ: یہ روایت سنداً ضعیف ہے، اس لیے قابل حجت نہیں۔ صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ تشہد اور سلام واجب ہے، اس لیے امام مقتدی کا سلام سے پہلے وضو ٹوٹ جائے تو نماز دہرائے، سلام کے وجوب کے لیے درج ذیل حدیث دلیل ہے۔
سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 617