الحمدللہ ! احادیث کتب الستہ آف لائن ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔    

1- حدیث نمبر سے حدیث تلاش کیجئے:



صحيح مسلم
كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ
جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے
9. باب جَوَازِ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ فِي الْبَيَاتِ مِنْ غَيْرِ تَعَمُّدٍ:
9. باب: رات کو اگر چھاپا ماریں تو عورتوں اور بچوں کا قتل درست ہے بشرطیکہ عمداً نہ ہو۔
حدیث نمبر: 4551
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ : أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ : " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ لَهُ: لَوْ أَنَّ خَيْلًا أَغَارَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَأَصَابَتْ مِنْ أَبْنَاءِ الْمُشْرِكِينَ، قَالَ: " هُمْ مِنْ آبَائِهِمْ ".
عمرو بن دینار نے مجھے خبر دی کہ انہیں ابن شہاب نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے خبر دی، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اگر کچھ گھڑ سوار رات کو دھاوا بولیں اور مشرکوں کے (ساتھ ان کے کچھ) بیٹوں کو (بھی) قتل کر دیں (تو گناہ تو نہیں ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "وہ اپنے آباء ہی میں سے ہیں
حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا، اگر شہسوار یا گھڑ سوار دستہ رات کو حملہ کرے اور مشرکوں کے بیٹوں کو قتل کر دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنے آباء کے حکم میں ہیں۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 1745
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

حكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

   صحيح مسلمنصيب في البيات من ذراري المشركين قال هم منهم
   صحيح مسلمالذراري من المشركين يبيتون فيصيبون من نسائهم وذراريهم فقال هم منهم
   صحيح مسلمخيلا أغارت من الليل فأصابت من أبناء المشركين قال هم من آبائهم
   جامع الترمذيهم من آبائهم
   سنن ابن ماجهالدار من المشركين يبيتون فيصاب النساء والصبيان قال هم منهم