صحيح الادب المفرد
حصہ دوئم: احادیث 250 سے 499
178.  باب المستبان شيطانان يتهاتران ويتكاذبان 
حدیث نمبر: 330
330/428 عن عياض بن حمار قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إن الله أوحي إليّ أن تواضعوا حتى لا يبغي أحدٌ على أحد، ولا يفخر أحد على أحد". فقلت: يا رسول الله! أرأيت لو أن رجلاً سبني في ملأ؛ هم أنقص مني، فرددت عليه، هل علي في ذلك جناح؟ قال:" المستبان شيطانان يتهاتران(1) ويتكاذبان".
عیاض بن حمار نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: بیشک اللہ نے میری طرف وحی نازل کی ہے کہ عاجزی اختیار کرو، یہاں تک کہ کوئی دوسرے پر ظلم نہ کرے اور کوئی دوسرے پر فخر کا اظہار نہ کرے۔ اس پر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ اگر کوئی مجھے بھرے مجمع میں گالی دے اور وہ مجھ سے بھی کم درجے کا ہو، تو میں اسے جواب دوں تو کیا اس کا بھی مجھ پر گناہ ہو گا؟ فرمایا: دو گالی گلوچ کرنے والے دونوں شیطان ہیں جو بیہودہ کلام بکتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 330]
تخریج الحدیث: (صحيح)

حدیث نمبر: 331
331/428م قال عياض: وكنت حرباً لرسول الله صلى الله عليه وسلم فأهديت إليه ناقة، قبل أن أسلم، فلم يقبلها، وقال:" إني أكره زبد المشركين".
عیاض کہتے ہیں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرتا تھا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ کے طور پر ایک اونٹنی بھیجی اس سے پہلے کہ میں مسلمان ہو جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول نہ کی اور فرمایا: میں مشرکین کے عطیات ناپسند کرتا ہوں۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 331]
تخریج الحدیث: (صحيح)