(مرفوع) اخبرنا العباس بن محمد، قال: حدثنا يونس بن محمد، قال: حدثنا حماد بن سلمة، عن سليمان التيمي , وثابت، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:" اتيت على موسى عليه السلام عند الكثيب الاحمر وهو قائم يصلي" , قال ابو عبد الرحمن: هذا اولى بالصواب عندنا من حديث معاذ بن خالد والله تعالى اعلم. (مرفوع) أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ , وَثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَتَيْتُ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام عِنْدَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا أَوْلَى بِالصَّوَابِ عِنْدَنَا مِنْ حَدِيثِ مُعَاذِ بْنِ خَالِدٍ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
سلیمان تیمی اور ثابت دونوں انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں «الكثيب الأحمر»”سرخ ٹیلے“ کے پاس موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ ۱؎ ہمارے نزدیک معاذ بن خالد کی حدیث سے زیادہ درست ہے، واللہ اعلم۔
وضاحت: ۱؎: یعنی اس سند کا «عن سلیمان وثابت» حرف عطف کے ساتھ ہونا «عن سلیمان عن ثابت» ہونے کے مقابلہ میں زیادہ صحیح ہے۔
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1633
1633۔ اردو حاشیہ: معاذ بن خالد کی روایت میں حضرت سلیمان تیمی کو حضرت ثابت کا شاگرد ظاہر کیا گیا ہے جبکہ درست بات یہ ہے کہ یہ دونوں ساتھی ہیں اور دونوں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث بیان کر رہے ہیں جیسا کہ حدیث نمبر 1633 سے واضح ہو رہا ہے۔
سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1633