سنن دارمي کل احادیث 3535 :حدیث نمبر

سنن دارمي
حدود کے مسائل
7. باب مَا لاَ يُقْطَعُ فِيهِ مِنَ الثِّمَارِ:
7. پھل فروٹ کی چوری میں ہاتھ نہ کاٹے جانے کا بیان
حدیث نمبر: 2346
Save to word اعراب
(حديث مرفوع) اخبرنا سعيد بن منصور، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن يحيى بن سعيد، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن ابي ميمون، عن رافع بن خديج، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: "لا قطع في كثر". قال ابو محمد: القول ما قال ابو اسامة.(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَبِي مَيْمُونٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: "لَا قَطْعَ فِي كَثَرٍ". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: الْقَوْلُ مَا قَالَ أَبُو أُسَامَةَ.
اس حدیث کا ترجمہ بھی اوپر گذر چکا ہے۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: ابواسامہ (ان کا نام حماد بن اسامہ ہے) نے جو کہا وہی صحیح ہے۔

وضاحت:
(تشریح احادیث 2342 سے 2346)
مذکورہ بالا تمام روایات سے یہ ثابت ہوا کہ آدمی اگر ضرورت بھر پھل اور میوے کھا لے تو اس کا ہاتھ کاٹا نہیں جائے گا، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا یہی قول ہے کہ کھجور، میوے، ترکاریاں، لکڑی یا گھاس کی چوری میں قطع ید نہیں ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا: اگر یہ چیزیں محفوظ مقام پر ہیں جیسے باغ کے اندر یا مکان میں اور کسی نے وہاں سے ان تمام چیزوں کی چوری کی تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔
اہلِ حدیث کا بھی مذہب یہی ہے کہ میوہ اور پھل فروٹ اور کھجور کے گابھا کی چوری میں قطع ید نہیں ہے جب تک کہ یہ چیزیں سوکھنے کے لئے محفوظ مقام میں نہ رکھی جائیں، اور شرط یہ ہے کہ چور صرف کھا لے، گود میں بھر کر نہ لے جائے، اگر ایسا کرے گا تو اس کی قیمت کا ڈبل جرمانہ ادا کرنا ہوگا اور سزا بھی ملے گی۔
(وحیدی)۔

تخریج الحدیث: «إسناده فيه مجهول، [مكتبه الشامله نمبر: 2355]»
اس حدیث کی تخریج اوپر گذرچکی ہے۔ اس میں ابومیمون غیر معروف ہیں لیکن حدیث صحیح ہے۔ حاکم و بیہقی نے بھی اسے روایت کیا ہے۔

قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده فيه مجهول


https://islamicurdubooks.com/ 2005-2024 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to https://islamicurdubooks.com will be appreciated.