(حديث مرفوع) اخبرنا محمد بن يوسف، حدثنا الاوزاعي، عن يحيى، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "المتعجل إلى الجمعة كالمهدي جزورا، ثم الذي يليه كالمهدي بقرة، ثم الذي يليه كالمهدي شاة، فإذا جلس الإمام على المنبر، طويت الصحف، وجلسوا يستمعون الذكر".(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الْمُتَعَجِّلُ إِلَى الْجُمُعَةِ كَالْمُهْدِي جَزُورًا، ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي بَقَرَةً، ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي شَاةً، فَإِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ، طُوِيَتْ الصُّحُفُ، وَجَلَسُوا يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کی نماز کے لئے جلدی جانے والے کی مثال اونٹ کی قربانی کرنے والے جیسی ہے، پھر جو اس کے بعد آئے وہ گائے کی قربانی کرنے والے جیسا، اور جو اس کے بعد آئے وہ بکری کی قربانی کرنے والے جیسا ہے، پھر جب امام منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو دفتر بند کر دیئے جاتے ہیں اور وہ (لکھنے والے فرشتے) بھی بیٹھ کر خطبہ سننے لگتے ہیں۔“
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1584]» اس روایت کی سند صحیح اور اصل حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 881]، [مسلم 850]، [أبوداؤد 351]، [ترمذي 499]، [نسائي 1387]، [أبويعلی 5994]، [ابن حبان 2774]، [الحميدي 963]، [مسند أحمد 239/2]