مسند احمد کل احادیث 27647 :حدیث نمبر
مسند احمد
حدیث نمبر: 4815
Save to word اعراب
(حديث مرفوع) حدثنا روح ، حدثنا زكريا بن إسحاق ، حدثنا عمرو بن دينار ، انه سمع عبد الله بن عمر ، يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:" الشهر هكذا وهكذا وهكذا، وقبض إبهامه في الثالثة".(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا، وَقَبَضَ إِبْهَامَهُ فِي الثَّالِثَةِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مہینہ بعض اوقات اتنا، اتنا اور اتنا بھی ہوتا ہے۔ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس انگلیوں میں سے ایک انگوٹھا بند کر لیا (٢٩ دن)۔

حكم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1907، م: 1080
حدیث نمبر: 4816
Save to word اعراب
(حديث مرفوع) حدثنا روح ، حدثنا عبيد الله بن الاخنس ، عن نافع ، عن عبد الله بن عمر ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" الخيل في نواصيها الخير إلى يوم القيامة".(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت تک کے لئے گھوڑوں کی پیشانی میں خیر اور بھلائی رکھ دی گئی ہے۔

حكم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3644، م: 1871
حدیث نمبر: 4817
Save to word اعراب
(حديث مرفوع) حدثنا روح ، حدثنا ابن جريج ، عن سليمان بن موسى ، عن نافع ، عن ابن عمر ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:" الولاء لمن اعتق".(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولاء اسی کا حق ہے جو غلام کو آزاد کرے۔ (ولاء سے مراد غلام کا ترکہ ہے)۔

حكم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6759، وهذا إسناد ضعيف، ابن جريح مدلس وقد عنعن
حدیث نمبر: 4818
Save to word اعراب
(حديث مرفوع) حدثنا روح ، قال: حدثنا الاوزاعي ، عن المطلب بن عبد الله بن حنطب ، قال:" كان ابن عمر يتوضا ثلاثا"، يرفعه إلى النبي صلى الله عليه وسلم. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وكان ابن عباس " يتوضا مرة"، يرفعه إلى النبي صلى الله عليه وسلم.(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، قَالَ:" كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَتَوَضَّأُ ثَلَاثًا"، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ " يَتَوَضَّأُ مَرَّةً"، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مطلب بن عبداللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھوتے تھے اور اس کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرتے تھے جب کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ایک ایک مرتبہ دھوتے تھے اور وہ بھی اس کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرتے تھے۔

حكم دارالسلام: هو حديثان : حديث ابن عمر: وإسناده ضعيف، وروي موقوفا، وهو الصحيح، وقد سلف برقم: 4534، وحديث ابن عباس: صحيح لغيره، وقد سلف برقم: 1889
حدیث نمبر: 4819
Save to word اعراب
(حديث مرفوع) حدثنا روح ، حدثنا مالك ، عن نافع ، عن عبد الله بن عمر ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم" اناخ بالبطحاء التي بذي الحليفة، فصلى بها".(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَر ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ، فَصَلَّى بِهَا".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ کی وادی بطحاء میں اپنی اونٹنی کو بٹھایا اور وہاں نماز پڑھی۔

حكم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1532، م: 1257
حدیث نمبر: 4820
Save to word اعراب
(حديث مرفوع) حدثنا روح ، حدثنا شعبة ، عن موسى بن عقبة ، سمعت سالم بن عبد الله ، قال: كان ابن عمر يكاد يلعن البيداء، ويقول:" إنما اهل رسول الله صلى الله عليه وسلم من المسجد".(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَكَادُ يَلْعَنُ الْبَيْدَاءَ، وَيَقُولُ:" إِنَّمَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَسْجِدِ".
سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مقام بیداء کے متعلق لعنت فرماتے تھے اور کہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد ہی سے احرام باندھا ہے۔ (مقام بیداء سے نہیں جیسا کہ تم نے مشہور کر رکھا ہے)۔

حكم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1541، م: 1187
حدیث نمبر: 4821
Save to word اعراب
(حديث مرفوع) حدثنا روح ، حدثنا ابن جريج ، اخبرني نافع ، ان ابن عمر كان يقول: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول:" لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك والملك، لا شريك لك".(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا ہے، «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ» میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں، آپ کا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں، تمام تعریفیں اور تمام نعمتیں آپ کے لئے ہیں، حکومت بھی آپ ہی کی ہے، آپ کا کوئی شریک نہیں۔

حكم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1184، ابن جريج صرح بالتحديث هنا، فانتفت شبهة تدليسه
حدیث نمبر: 4822
Save to word اعراب
(حديث مرفوع) حدثنا روح ، وعفان ، قالا: حدثنا حماد بن سلمة ، عن حميد قال عفان في حديثه: اخبرنا حميد، عن بكر بن عبد الله ، عن ابن عمر انه قال: قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم مكة واصحابه ملبين، وقال عفان: مهلين بالحج، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" من شاء ان يجعلها عمرة، إلا من كان معه الهدي"، قالوا: يا رسول الله، ايروح احدنا إلى مني وذكره يقطر منيا؟ قال:" نعم"، وسطعت المجامر، وقدم علي بن ابي طالب من اليمن، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" بم اهللت؟" قال: اهللت بما اهل به النبي صلى الله عليه وسلم قال روح: فإن لك معنا هديا، قال حميد: فحدثت به طاوسا، فقال: هكذا فعل القوم، قال عفان: اجعلها عمرة.(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ وَأَصْحَابُهُ مُلَبِّينَ، وَقَالَ عَفَّانُ: مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ شَاءَ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً، إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيَرُوحُ أَحَدُنَا إِلَى مِنًي وَذَكَرُهُ يَقْطُرُ مَنِيًّا؟ قَالَ:" نَعَمْ"، وَسَطَعَتْ الْمَجَامِرُ، وَقَدِمَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مِنَ الْيَمَنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِمَ أَهْلَلْتَ؟" قَالَ: أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَوْحٌ: فَإِنَّ لَكَ مَعَنَا هَدْيًا، قَالَ حُمَيْدٌ: فَحَدَّثْتُ بِهِ طَاوُسًا، فَقَالَ: هَكَذَا فَعَلَ الْقَوْمُ، قَالَ عَفَّانُ: اجْعَلْهَا عُمْرَةً.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ حج کا تلبیہ پڑھتے ہوئے مکہ مکرمہ آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: جو شخص چاہتا ہے، اس احرام کو عمرہ کا احرام بنا لے، سوائے اس شخص کے جس کے پاس ہدی کا جانور ہو، لوگوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ!! کیا ہم منٰی کے میدان میں اس حال میں جائیں گے کہ ہماری شرمگاہ سے آب حیات کے قطرے ٹپکتے ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! پھر انگیٹھیاں خوشبو اڑانے لگیں، اسی اثنا میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی یمن سے آ گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تم نے کس چیز کا احرام باندھا؟ انہوں نے عرض کیا اس نیت سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جو احرام ہے وہی میرا بھی احرام ہے۔ روح اس سے آگے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس آپ کے ہدی کے جانور ہیں۔ حمید کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث طاؤس سے بیان کی تو وہ کہنے لگے کہ لوگوں نے اسی طرح کیا تھا، اور عفان کہتے ہیں کہ آگے یہ ہے کہ اسے عمرہ کا احرام بنا لو۔

حكم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4353، م: 1232
حدیث نمبر: 4823
Save to word اعراب
(حديث مرفوع) حدثنا روح ، حدثنا ابن جريج ، حدثني موسى بن عقبة ، عن نافع ، عن ابن عمر ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:" من شرب الخمر في الدنيا لم يشربها في الآخرة، إلا ان يتوب".(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ، إِلَّا أَنْ يَتُوبَ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص دنیا میں شراب پیئے اور اس سے توبہ نہ کرے تو وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا اور وہاں اسے شراب نہیں پلائی جائے گی۔

حكم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5575، م: 2003
حدیث نمبر: 4824
Save to word اعراب
حدثنا روح ، حدثنا مالك ، عن نافع ، عن ابن عمر ، عن النبي صلى الله عليه وسلم، بمثله.حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

حكم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5575، م: 2003

Previous    124    125    126    127    128    129    130    131    132    Next    

https://islamicurdubooks.com/ 2005-2024 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to https://islamicurdubooks.com will be appreciated.