ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت فرماتے تو اپنے دونوں ہاتھ دھوتے اور وضو فرماتے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو نماز کے لیے (ہوتا تھا) پھر غسل کرتے اپنے ہاتھ سے اپنے بالوں کا خلال کرتے تھے یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ لیتے کہ کھال تر ہو گئی ہے تو اس پر تین بار پانی بہاتے پھر اپنے باقی ماندہ بدن کو دھوتے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ(ایک مرتبہ) نماز کی اقامت کہی گئی اور صفتیں کھڑی کر کے درست کی گئیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف تشریف لائے تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے کی جگہ پر کھڑے ہو گئے تو اس وقت یاد کیا کہ جنبی ہیں، پھر ہم سے فرمایا: ”تم اپنی جگہ پر (کھڑے) رہو۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹ گئے اور غسل کیا اور اس کے بعد ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہی اور ہم سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھی۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی اسرائیل برہنہ غسل کیا کرتے تھے، ایک دوسرے کی طرف دیکھا کرتے تھے اور موسیٰ علیہ السلام تنہا غسل کیا کرتے تھے تو بنی اسرائیل نے کہا کہ واللہ! موسیٰ علیہ السلام کو ہم لوگوں کے ہمراہ غسل کرنے سے سوا اس کے کچھ مانع نہیں کہ وہ فتق (ایک قسم کی مردانہ بیماری) میں مبتلا ہیں۔ اتفاق سے ایک دن موسیٰ علیہ السلام غسل کرنے لگے اور اپنا لباس پتھر پر رکھ دیا، وہ پتھر ان کا لباس لے کر بھاگا اور موسیٰ علیہ السلام بھی اس کے تعاقب میں یہ کہتے ہوئے دوڑے کہ اے پتھر! میرے کپڑے دیدے اے حجر میرے کپڑے دیدے۔ یہاں تک کہ بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف دیکھ لیا اور کہا کہ واللہ موسیٰ علیہ السلام کو کچھ بیماری نہیں ہے اور (پتھر ٹھہر گیا) موسیٰ علیہ السلام نے اپنا لباس لے لیا اور پتھر کو مارنے لگے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! (موسیٰ علیہ السلام کی) مار سے (اس) پتھر پر چھ یا سات نشان (اب تک باقی) ہیں۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”اس حال میں کہ ایوب علیہ السلام برہنہ نہا رہے تھے، ان پر سونے کی ٹڈیاں برسنے لگیں تو ایوب علیہ السلام ان کو اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے تو انھیں ان کے پروردگار نے آواز دی کہ اے ایوب علیہ السلام! کیا میں نے تمہیں اس (سونے کی ٹڈی) سے جو تم دیکھ رہے ہو بےنیاز نہیں کر دیا؟ انھوں نے کہاں ہاں قسم تیری بزرگی کی (تو نے مجھے بےنیاز کر دیا ہے) لیکن میں تیری برکت (کے حصول) سے بےپرواہ و بےنیاز نہیں۔“
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں فتح (مکہ) کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی تو میں نے آپ کو غسل کرتے ہوئے پایا اور سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پردہ کیے ہوئے تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے عرض کی کہ میں ام ہانی ہوں۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مدینہ کی کسی گلی میں انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مل گئے اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جنبی تھے (وہ کہتے ہیں کہ) چنانچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کنی کترا گیا اور جا کر غسل کیا، پھر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ! تم کہاں (چلے گئے) تھے۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں جنبی تھا اور ناپاکی کی حالت میں میں نے آپ کے پاس بیٹھنا برا جانا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ مومن (کسی حال میں) نجس نہیں ہوتا۔“
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا ہم میں سے کوئی بحالت جنابت سو سکتا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! جب تم میں سے کوئی جنبی ہو تو وہ وضو کر کے سوئے۔“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرد جب اپنی عورت کے چاروں کونوں کے درمیان بیٹھ گیا پھر اس کے ساتھ (جماع کی) کوشش کرے تو یقیناً غسل واجب ہو گیا۔“