(مرفوع) اخبرنا هارون بن موسى الفروي، قال: حدثني ابو ضمرة، عن يونس، عن ابن شهاب، قال: اخبرني ابو سلمة، عن ابي هريرة، قال: نسي رسول الله صلى الله عليه وسلم فسلم في سجدتين , فقال له ذو الشمالين: اقصرت الصلاة ام نسيت يا رسول الله , قال: رسول الله صلى الله عليه وسلم:" اصدق ذو اليدين" , قالوا: نعم , فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فاتم الصلاة. (مرفوع) أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُوسَى الْفَرْوِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو ضَمْرَةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَسِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ فِي سَجْدَتَيْنِ , فَقَالَ لَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ: أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ" , قَالُوا: نَعَمْ , فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَمَّ الصَّلَاةَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نماز میں) بھول گئے، تو آپ نے دو ہی رکعت پر سلام پھیر دیا، تو آپ سے ذوالشمالین نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (لوگوں سے) پوچھا: ”کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں، (سچ کہہ رہے ہیں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، پھر آپ نے نماز پوری کی۔
(مرفوع) اخبرنا محمد بن رافع، قال: حدثنا عبد الرزاق، قال: انبانا معمر، عن الزهري، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن , وابي بكر بن سليمان بن ابي حثمة , عن ابي هريرة , قال: صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الظهر او العصر , فسلم في ركعتين وانصرف , فقال له ذو الشمالين ابن عمرو: انقصت الصلاة ام نسيت؟ قال النبي صلى الله عليه وسلم:" ما يقول ذو اليدين" , فقالوا: صدق يا نبي الله , فاتم بهم الركعتين اللتين نقص , (مرفوع) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , وَأَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ , فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ وَانْصَرَفَ , فَقَالَ لَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ ابْنُ عَمْرٍو: أَنُقِصَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ" , فَقَالُوا: صَدَقَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ , فَأَتَمَّ بِهِمُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ نَقَصَ ,
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ہم کو) ظہر یا عصر پڑھائی، تو آپ نے دو ہی رکعت میں سلام پھیر دیا، اور اٹھ کر جانے لگے، تو آپ سے ذوالشمالین بن عمرو نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (لوگوں سے) پوچھا: ”ذوالیدین کیا کہہ رہے ہیں؟“ لوگوں نے کہا: وہ سچ کہہ رہے ہیں، اللہ کے نبی! تو آپ نے ان دو رکعتوں کو جو باقی رہ گئی تھیں لوگوں کے ساتھ پورا کیا۔
ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے روایت ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت پڑھائی، تو ذوالشمالین نے آپ سے عرض کیا، آگے حدیث اسی طرح ہے۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے یہ خبر سعید بن مسیب نے ابوہریرہ کے واسطہ سے دی ہے، وہ (زہری) کہتے ہیں: نیز مجھے اس کی خبر ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث اور عبیدالرحمن بن عبداللہ نے بھی دی ہے۔
ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے روایت ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت پڑھائی، تو ذوالشمالین نے آپ سے عرض کیا، آگے حدیث اسی طرح ہے۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے یہ خبر سعید بن مسیب نے ابوہریرہ کے واسطہ سے دی ہے، وہ (زہری) کہتے ہیں: نیز مجھے اس کی خبر ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث اور عبیدالرحمن بن عبداللہ نے بھی دی ہے۔
سعید بن مسیب، ابوسلمہ، ابوبکر بن عبدالرحمٰن اور ابن ابی حثمہ چاروں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن نہ تو سلام سے پہلے سجدہ (سہو) کیا، اور نہ ہی اس کے بعد۔
تخریج الحدیث: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 13222)، وحدیث أبي سلمة، عن أبي ہریرة (تحفة الأشراف: 15228)، وحدیث أبي بکر عبدالرحمن، (تحفة الأشراف: 14869)، وحدیث أبي بکر بن سلیمان بن حثمة، (تحفة الأشراف: 14860)، وأربعتہم عن أبي ہریرة، (تحفة الأشراف: 13180) (شاذ) (محفوظ بات یہ ہے کہ آپ نے سلام کے بعد سجدۂ سہو کیا)»
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، الزهري مدلس وعنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 330
ابن سیرین ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھول ہو جانے کی صورت میں سلام پھیرنے کے بعد سجدہ (سہو) کیا۔
تخریج الحدیث: «حدیث ابن عون، عن ابن سیرین قد تقدم تخریجہ برقم: 1225، وحدیث خالد بن مہران الحذائ، عن ابن سیرین قد تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14665) (صحیح الإسناد)»
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ کو سہو ہو گیا، تو آپ نے دو سجدے (سہو کے) کیے، پھر سلام پھیرا ۱؎۔
وضاحت: ۱؎: یہ سلام سجدہ سہو سے نکلنے کے لیے تھا، کیونکہ دیگر تمام روایات میں یہ صراحت ہے کہ آپ نے سلام پھیرا، پھر سجدہ سہو کیا (پھر اس کے لیے سلام پھیرا) نماز میں رکعات کی کمی بیشی کے سبب جو سجدہ سہو آپ نے کئے ہیں، وہ سب سلام کے بعد میں ہیں، جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے، ہاں ان سجدوں کے بعد تشہد کے بارے میں تینوں احادیث ضعیف ہیں کما في التعلیقات السلفیۃ۔
(مرفوع) اخبرنا ابو الاشعث، عن يزيد بن زريع، قال: حدثنا خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن ابي المهلب، عن عمران بن حصين، قال: سلم رسول الله صلى الله عليه وسلم في ثلاث ركعات من العصر فدخل منزله , فقام إليه رجل , يقال له: الخرباق , فقال: يعني نقصت الصلاة يا رسول الله , فخرج مغضبا يجر رداءه , فقال:" اصدق" , قالوا: نعم , فقام فصلى تلك الركعة، ثم سلم، ثم سجد سجدتيها، ثم سلم. (مرفوع) أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ , فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ , يُقَالُ لَهُ: الْخِرْبَاقُ , فَقَالَ: يَعْنِي نَقَصَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَخَرَجَ مُغْضَبًا يَجُرُّ رِدَاءَهُ , فَقَالَ:" أَصَدَقَ" , قَالُوا: نَعَمْ , فَقَامَ فَصَلَّى تِلْكَ الرَّكْعَةَ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْهَا، ثُمَّ سَلَّمَ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی تین رکعت پر سلام پھیر دیا، پھر آپ اپنے حجرے میں چلے گئے، تو آپ کی طرف اٹھ کر خرباق نامی ایک شخص گئے اور پوچھا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے؟ تو آپ غصہ کی حالت میں اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے باہر تشریف لائے، اور پوچھا: ”کیا یہ سچ کہہ رہے ہیں؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ کھڑے ہوئے، اور (جو چھوٹ گئی تھی) اسے پڑھایا پھر سلام پھیرا، پھر اس رکعت کے (چھوٹ جانے کے سبب) دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔
تخریج الحدیث: «صحیح مسلم/المساجد 19 (574)، سنن ابی داود/الصلاة 195 (1018)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 134 (1215)، مسند احمد 4/427، 431، 440، (تحفة الأشراف: 10882)، ویأتي عند المؤلف برقم: 1332 (صحیح)»