قرآن پاک لفظ أَنْ کے تحت آنے والی قرآنی آیات
نمبر لفظ آیت ترجمہ
491
أَنْ
لَوْلَا أَنْ تَدَارَكَهُ نِعْمَةٌ مِنْ رَبِّهِ لَنُبِذَ بِالْعَرَاءِ وَهُوَ مَذْمُومٌ [68-القلم:49]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اگر اسے اس کے رب کی نعمت نہ پالیتی تو یقیناً وه برے حالوں میں چٹیل میدان میں ڈال دیا جاتا
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اگر تمہارے پروردگار کی مہربانی ان کی یاوری نہ کرتی تو وہ چٹیل میدان میں ڈال دیئے جاتے اور ان کا حال ابتر ہو جاتا
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اگر یہ نہ ہوتا کہ اسے اس کے رب کی نعمت نے سنبھال لیا تو یقینا وہ چٹیل زمین پر اس حال میں پھینکا جاتا کہ وہ مذمت کیا ہوا ہوتا۔
492
أَنْ
أَيَطْمَعُ كُلُّ امْرِئٍ مِنْهُمْ أَنْ يُدْخَلَ جَنَّةَ نَعِيمٍ [70-المعارج:38]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
کیا ان میں سے ہر ایک کی توقع یہ ہے کہ وه نعمتوں والی جنت میں داخل کیا جائے گا؟
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
کیا ان میں سے ہر شخص یہ توقع رکھتا ہے کہ نعمت کے باغ میں داخل کیا جائے گا
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
کیا ان میں سے ہر آدمی طمع رکھتا ہے کہ اسے نعمت والی جنت میں داخل کیا جائے گا؟
493
أَنْ
عَلَى أَنْ نُبَدِّلَ خَيْرًا مِنْهُمْ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ [70-المعارج:41]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اس پر کہ ان کے عوض ان سے اچھے لوگ لے آئیں اور ہم عاجز نہیں ہیں
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
(یعنی) اس بات پر (قادر ہیں) کہ ان سے بہتر لوگ بدل لائیں اور ہم عاجز نہیں ہیں
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اس پر کہ ان کی جگہ ان سے بہتر لوگ لے آئیں اور ہم ہرگز عاجز نہیں ہیں۔
494
أَنْ
إِنَّا أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ أَنْ أَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ [71-نوح:1]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
یقیناً ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ اپنی قوم کو ڈرا دو (اور خبردار کر دو) اس سے پہلے کہ ان کے پاس دردناک عذاب آ جائے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ پیشتر اس کے کہ ان پر درد دینے والا عذاب واقع ہو اپنی قوم کو ہدایت کر دو
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
بے شک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا کہ اپنی قوم کو ڈرا، اس سے پہلے کہ ان پر ایک درد ناک عذاب آ جائے۔
495
أَنْ
إِنَّا أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ أَنْ أَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ [71-نوح:1]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
یقیناً ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ اپنی قوم کو ڈرا دو (اور خبردار کر دو) اس سے پہلے کہ ان کے پاس دردناک عذاب آ جائے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ پیشتر اس کے کہ ان پر درد دینے والا عذاب واقع ہو اپنی قوم کو ہدایت کر دو
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
بے شک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا کہ اپنی قوم کو ڈرا، اس سے پہلے کہ ان پر ایک درد ناک عذاب آ جائے۔
496
أَنْ
وَأَنَّا ظَنَنَّا أَنْ لَنْ تَقُولَ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا [72-الجن:5]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اور ہم تو یہی سمجھتے رہے کہ ناممکن ہے کہ انسانوں اور جنات اللہ پر جھوٹی باتیں لگائیں
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور ہمارا (یہ) خیال تھا کہ انسان اور جن خدا کی نسبت جھوٹ نہیں بولتے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور یہ کہ ہم نے گمان کیا کہ انسان اور جن اللہ پر ہرگز کوئی جھوٹ نہیں بولیں گے۔
497
أَنْ
وَأَنَّهُمْ ظَنُّوا كَمَا ظَنَنْتُمْ أَنْ لَنْ يَبْعَثَ اللَّهُ أَحَدًا [72-الجن:7]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اور (انسانوں) نے بھی تم جنوں کی طرح گمان کر لیا تھا کہ اللہ کسی کو نہ بھیجے گا (یا کسی کو دوباره زنده نہ کرے گا)
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور یہ کہ ان کا بھی یہی اعتقاد تھا جس طرح تمہارا تھا کہ خدا کسی کو نہیں جلائے گا
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور یہ کہ ان (انسانوں) نے گمان کیا جس طرح تم نے گمان کیا کہ اللہ کسی کو کبھی نہیں اٹھائے گا۔
498
أَنْ
وَأَنَّا ظَنَنَّا أَنْ لَنْ نُعْجِزَ اللَّهَ فِي الْأَرْضِ وَلَنْ نُعْجِزَهُ هَرَبًا [72-الجن:12]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اور ہم نے سمجھ لیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کو زمین میں ہرگز عاجز نہیں کرسکتے اور نہ ہم بھاگ کر اسے ہرا سکتے ہیں
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور یہ کہ ہم نے یقین کرلیا ہے کہ ہم زمین میں (خواہ کہیں ہوں) خدا کو ہرا نہیں سکتے اور نہ بھاگ کر اس کو تھکا سکتے ہیں
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور یہ کہ ہم نے یقین کر لیا کہ بے شک ہم کبھی اللہ کو زمین میں عاجز نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی بھاگ کر کبھی اسے عاجز کر سکیں گے۔
499
أَنْ
لِيَعْلَمَ أَنْ قَدْ أَبْلَغُوا رِسَالَاتِ رَبِّهِمْ وَأَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَأَحْصَى كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا [72-الجن:28]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
تاکہ ان کے اپنے رب کے پیغام پہنچا دینے کا علم ہو جائے اللہ تعالیٰ نے ان کے آس پاس (کی تمام چیزوں) کا احاطہ کر رکھا ہے اور ہر چیز کی گنتی شمار کر رکھا ہے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
تاکہ معلوم فرمائے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغام پہنچا دیئے ہیں اور (یوں تو) اس نے ان کی سب چیزوں کو ہر طرف سے قابو کر رکھا ہے اور ایک ایک چیز گن رکھی ہے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
تاکہ جان لے کہ انھوں نے واقعی اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیے ہیں اور اس نے ان تمام چیزوں کااحاطہ کر رکھا ہے جو ان کے پاس ہیں اور ہر چیز کو گن کر شمار کر رکھا ہے۔
500
أَنْ
إِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُومُ أَدْنَى مِنْ ثُلُثَيِ اللَّيْلِ وَنِصْفَهُ وَثُلُثَهُ وَطَائِفَةٌ مِنَ الَّذِينَ مَعَكَ وَاللَّهُ يُقَدِّرُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ عَلِمَ أَنْ لَنْ تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضَى وَآخَرُونَ يَضْرِبُونَ فِي الْأَرْضِ يَبْتَغُونَ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ وَآخَرُونَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ مِنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِنْدَ اللَّهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ أَجْرًا وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [73-المزمل:20]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
آپ کا رب بخوبی جانتا ہے کہ آپ اور آپ کے ساتھ کے لوگوں کی ایک جماعت قریب دو تہائی رات کے اور آدھی رات کے اور ایک تہائی رات کے تہجد پڑھتی ہے اور رات دن کا پورا اندازه اللہ تعالیٰ کو ہی ہے، وه (خوب) جانتا ہے کہ تم اسے ہرگز نہ نبھا سکو گے پس اس نے تم پر مہربانی کی لہٰذا جتنا قرآن پڑھنا تمہارے لیے آسان ہو اتنا ہی پڑھو، وه جانتا ہے کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوں گے، بعض دوسرے زمین میں چل پھر کر اللہ تعالیٰ کا فضل (یعنی روزی بھی) تلاش کریں گے اور کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کی راه میں جہاد بھی کریں گے، سو تم بہ آسانی جتنا قرآن پڑھ سکو پڑھو اور نماز کی پابندی رکھو اور زکوٰة دیتے رہا کرو اور اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دو۔ اور جو نیکی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ تعالیٰ کے ہاں بہتر سے بہتر اور ﺛواب میں بہت زیاده پاؤ گے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے رہو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے کہ تم اور تمہارے ساتھ کے لوگ (کبھی) دو تہائی رات کے قریب اور (کبھی) آدھی رات اور (کبھی) تہائی رات قیام کیا کرتے ہو۔ اور خدا تو رات اور دن کا اندازہ رکھتا ہے۔ اس نے معلوم کیا کہ تم اس کو نباہ نہ سکو گے تو اس نے تم پر مہربانی کی۔ پس جتنا آسانی سے ہوسکے (اتنا) قرآن پڑھ لیا کرو۔ اس نے جانا کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوتے ہیں اور بعض خدا کے فضل (یعنی معاش) کی تلاش میں ملک میں سفر کرتے ہیں اور بعض خدا کی راہ میں لڑتے ہیں۔ تو جتنا آسانی سے ہوسکے اتنا پڑھ لیا کرو۔ اور نماز پڑھتے رہو اور زکوٰة ادا کرتے رہو اور خدا کو نیک (اور خلوص نیت سے) قرض دیتے رہو۔ اور جو عمل نیک تم اپنے لئے آگے بھیجو گے اس کو خدا کے ہاں بہتر اور صلے میں بزرگ تر پاؤ گے۔ اور خدا سے بخشش مانگتے رہو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
بلاشبہ تیرا رب جانتا ہے کہ تو رات کے دو تہائی کے قریب اور اس کا نصف اور اس کا تیسرا حصہ قیام کرتا ہے اور ان لوگوں کی ایک جماعت بھی جو تیرے ساتھ ہیں اور اللہ رات اور دن کا اندازہ رکھتا ہے۔ اس نے جان لیا کہ تم ہرگز اس کی طاقت نہیں رکھو گے، سو اس نے تم پر مہربانی فرمائی تو قرآن میں سے جو میسر ہو پڑھو۔ اس نے جان لیا کہ یقینا تم میں سے کچھ بیمار ہوں گے اور کچھ دوسرے زمین میں سفر کریں گے، اللہ کا فضل تلاش کریں گے اور کچھ دوسرے اللہ کی راہ میں لڑیں گے، پس اس میں سے جو میسر ہو پڑھو اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور اللہ کو قرض دو، اچھا قرض دینا اور جو نیکی بھی تم اپنی جانوں کے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں پائو گے کہ وہ بہتر اور ثواب میں کہیں بڑی ہے اور اللہ سے بخشش مانگو، بلاشبہ اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔