تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1- حدیث نمبر سے حدیث تلاش کیجئے:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
سنن ترمذی میں عربی لفظ تلاش کریں:
سنن ترمذی میں اردو لفظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:


سنن ترمذي
كتاب الصلاة
کتاب: نماز کے احکام و مسائل
79. باب مَا جَاءَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَرْفَعْ إِلاَّ فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ
79. باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم صرف پہلی مرتبہ ہاتھ اٹھاتے تھے۔
حدیث نمبر: 257
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: " أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَبِهِ يَقُولُ: غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ.
علقمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ نے کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نماز نہ پڑھاؤں؟ تو انہوں نے نماز پڑھائی اور صرف پہلی مرتبہ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے،
۲- اس باب میں براء بن عازب رضی الله عنہما سے بھی حدیث آئی ہے،
۳- صحابہ کرام اور تابعین میں سے بہت سے اہل علم یہی کہتے ہیں اور یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا بھی قول ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 257]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الصلاة 119 (748)، سنن النسائی/الافتتاح 87 (1027)، والتطبیق 20 (1059)، (تحفة الأشراف: 9468)، مسند احمد (1/388، 442) (صحیح)»

وضاحت: ۱؎: جو لوگ رفع یدین کی مشروعیت کے منسوخ ہونے کے قائل ہیں انہوں نے اسی روایت سے استدلال کیا ہے، لیکن یہ حدیث ضعیف ہے، امام احمد اور امام بخاری نے عاصم بن کلیب کی وجہ سے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے، اور اگر اسے صحیح مان بھی لیا جائے تو یہ ان روایتوں کے معارض نہیں جن سے رکوع جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کا اثبات ہوتا ہے، اس لیے کہ رفع یدین مستحب ہے فرض یا واجب نہیں، دوسرے یہ کہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے اسے نہ کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اوروں کی روایت غلط ہو، عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے بہت سے مسائل مخفی رہ گئے تھے، ہو سکتا ہے یہ بھی انہیں میں سے ہو جیسے جنبی کے تیمم کا مسئلہ ہے یا (رکوع کے درمیان دونوں ہاتھوں کی) تطبیق کی منسوخی کا معاملہ ہے۔

قال الشيخ الألباني: صحيح صفة الصلاة - الأصل، المشكاة (809)

قال الشيخ زبير على زئي: إسناده ضعيف / د 748 ، ن 1059،1027

   سنن النسائى الصغرىرفع يديه أول مرة ثم لم يعد
   سنن النسائى الصغرىلم يرفع يديه إلا مرة واحدة
   جامع الترمذيلم يرفع يديه إلا في أول مرة
   سنن أبي داودلم يرفع يديه إلا مرة

سنن ترمذی کی حدیث نمبر 257 کے فوائد و مسائل
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 257  
اردو حاشہ:
1؎:
جو لوگ رفع الیدین کی مشروعیت کے منسوخ ہونے کے قائل ہیں انہوں نے اسی روایت سے استدلال کیا ہے،
لیکن یہ حدیث ضعیف ہے،
امام احمد اور امام بخاری نے عاصم بن کلیب کی وجہ سے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے،
اور اگر اسے صحیح مان بھی لیا جائے تو یہ ان روایتوں کے معارض نہیں جن سے رکوع جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کا اثبات ہوتا ہے،
اس لیے کہ رفع یدین مستحب ہے فرض یا واجب نہیں،
دوسرے یہ کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اسے نہ کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اوروں کی روایت غلط ہو،
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بہت سے مسائل مخفی رہ گئے تھے،
ہو سکتا ہے یہ بھی انہیں میں سے ہو جیسے جنبی کے تیمم کا مسئلہ ہے یا (رکوع کے درمیان دونوں ہاتھوں کی) تطبیق کی منسوخی کا معاملہ ہے۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 257   

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ غلام مصطفٰے ظهير امن پوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 748  
´جنہوں نے رکوع کے وقت رفع یدین کا ذکر نہیں کیا`
«. . . فَصَلَّى، فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً . . .»
. . . تو رفع یدین صرف ایک بار (نماز شروع کرتے وقت) کیا . . . [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة: 748]
فوائد و مسائل:
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بیان کرتے ہیں:
«أنه كان يرفع يديه فى أول تكبيرة، ثم لا يعود.»
آپ پہلی تکبیر میں رفع الیدین فرماتے تھے، پھر دوبارہ نہ کرتے۔ [مسند احمد:441،388/1، سنن ابي داود:748، سنن نسائي:1059، سنن ترمذي:257]
تبصرہ:
➊ یہ روایت ضعیف ہے،
اس میں سفیان ثوری ہیں، جو کہ بالاجماع مدلس ہیں، ساری کی ساری سندوں میں «عن» سے روایت کر رہے ہیں، سماع کی تصریح ثابت نہیں۔
مسلم اصول ہے کہ جب ثقہ مدلس بخاری و مسلم کے علاوہ «عن» یا «قال» کے الفاظ کے ساتھ حدیث بیان کرے تو وہ ضعیف ہوتی ہے۔
اس حدیث کے راوی امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ (م: 181ھ) نے امام ہشیم بن بشیر رحمہ اللہ (م: 183ھ) سے پوچھا، آپ تدلیس کیوں کرتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا:
«ان كبيريك قد دلسا الأعمش وسفيان.»
آپ کے دو بڑوں امام اعمش اور امام سفیان رحمہ اللہ علیہما نے بھی تدلیس کی ہے۔ [الكامل لابن عدي:95/1، 135/7 وسنده صحيح]

◈ امام عینی حنفی لکھتے ہیں:
«سفيان من المدلسين، والمدلس لا يحتج بعنعنته الا أن يثبت سماعه من طريق آخر.»
سفیان مدلس راویوں میں سے ہیں اور مدلس راوی کے عنعنہ سے حجت نہیں لی جاتی، الا یہ کہ دوسری سند میں اس کا سماع ثابت ہو جائے۔ [عمدة القاري:112/3]

➋ یہ ضعیف روایت عام ہے، جبکہ رکوع کو جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کے متعلق احادیث خاص ہیں، خاص کو عام پر مقدم کیا جاتا ہے، لہٰذا یہ حدیث عدم رفع الیدین کے ثبوت پر دلیل نہیں بن سکتی۔

➌ مانعین رفع الیدین یہ بتائیں کہ وہ اس حدیث کو پس پشت ڈالتے ہوئے خود وتروں اور عیدین میں پہلی تکبیر کے علاوہ کیوں رفع الیدین کرتے ہیں؟

حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ محدیثین کرام کی نظر میں:
◈ امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«لم يثبت عندي حديث ابن مسعود.»
میرے نزدیک حدیث ابن مسعود ثابت نہیں۔ [سنن الترمذي: تحت حديث256، سنن الدارقطني:393/1، السنن الكبريٰ للبيهي:79/2، وسنده صحيح]

◈ امام ابوداود رحمہ اللہ اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
«وليس هو بصحيح على هذا اللفظ.» یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ صحیح نہیں۔

◈ امام ابوحاتم الرازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«هذا خطأ.» یہ غلطی ہے۔ [العلل:96/1]

◈ امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«وليس قول من قال: ثم لم يعد محفوظا.»
جس راوی نے دوبارہ رفع یدین نہ کرنے کے الفاظ کہے ہیں، اس کی روایت محفوظ نہیں۔ [العلل:173/5]

◈ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«هو فى الحقيقة أضعف شئ يعول عليه، لأن له عللا تبطله.»
درحقیقت یہ ضعیف ترین چیز ہے جس پر اعتماد کیا جات ہے، کیونکہ اس میں کئی علتیں ہیں جو اسے باطل قرار دیتی ہیں۔ [التلخيص الحبير لابن حجر:222/1]

تنبیہ:
اگر کوئی کہے کہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔
تو اس کا جواب یہ ہے کہ حنفی مذہب کی معتبر کتابوں میں لکھا ہے:
ابن دحیہ نے اپنی کتاب العلم المشہور میں کہا ہے کہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں کتنی ہی «موضوع» (من گھڑت) اور ضعیف سندوں والی احادیث کو «حسن» کہہ دیا ہے۔ [نصب الراية للزيلعي:217/2، البناية للعيني:869/2، مقالات الكوثري:311، صفائح اللجين از احمد رضا خان بريلوي:29]
   ماہنامہ السنہ جہلم ، شمارہ نمبر 12، حدیث/صفحہ نمبر: 2   

  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1027  
´تکبیر تحریمہ کے بعد رفع یدین نہ کرنے کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ بتاؤں؟ چنانچہ وہ کھڑے ہوئے اور پہلی بار اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، پھر انہوں نے دوبارہ ایسا نہیں کیا ۱؎۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1027]
1027۔ اردو حاشیہ: یہ روایت رکوع کے رفع الیدین کے نسخ کی دلیل کے طور پر پیش کی جاتی ہے، مگر یہاں چند باتیں قابل غور ہیں:
➊ اس روایت میں رکوع کے رفع الیدین کا ذکر ہی نہیں تو مسنوخ کیسے؟ اگر کہا جائے: پھر نہ کیا سے یہ مفہوم اخذ ہوتا ہے تو عرض ہے کہ قنوت وتر کا رفع الیدین اس سے کیسے بچ گیا؟ تکبیرات عیدین کیوں اس کی زد میں نہ آئیں؟
➋ اس روایت کی اسنادی حیثیت اتنی قوی نہیں جتنی رفع الیدین کے ثبوت کی احادیث کی ہے۔ اس حدیث کو اکثر محدثین نے ضعیف کہا ہے جب کہ رفع الیدین کرنے کی بخاری اور مسلم کی مستند روایات ہیں۔ پھر وہ تعداد میں بہت زیادہ ہیں۔ کیا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ایک ضعیف روایت لے کر کثیر صحابہ کی روایات چھوڑنا کسی بھی لحاظ سے مناسب ہے؟ تفصیل کے لیے دیکھیے: [ذخیرۃ العقبیٰ شرح سنن النسائي: 52-50/13]
➌ کثیر صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم سے رفع الیدین کرنے کا ثبوت ملتا ہے جبکہ ان سے اس کی نفی منقول ہے۔ کس کو ترجیح ہونی چاہیے؟ یقیناًً اصولی طور پر اثبات نفی پر مقدم ہوتا ہے۔ یا ممکن ہے ابن مسعود رضی اللہ عنہ بھول گئے ہوں جس طرح وہ چند باتیں اور بھول گئے تھے، مثلاً: معوذتین قرآن کا جز ہیں یا نہیں؟ اور امام کے ساتھ دو مقتدی ہوں تو کیسے کھڑے ہوں؟ رکوع کے دوران میں ہاتھ کہاں اور کیسے رکھے جائیں؟ اور مسائل میں احناف بھی ان کی بات نہیں مانتے۔ تو کیا مناسب نہیں کہ رفع الیدین کو بھی ان مسائل میں شامل کر لیا جائے کیونکہ ان کا موقف کثیر صحابہ کے موافق نہیں۔
➍ اس حدیث کی مناسب تاویل بھی ہو سکتی ہے، مثلاً: پہلی رکعت کے شروع میں رفع الیدین کیا۔ دوسری رکعت کے شروع میں نہیں کیا۔ عید کی طرح بار بار نہیں کیا وغیرہ، تاکہ یہ روایت اصح اور کثیر روایات کے مطابق ہو سکے۔
➎ اگر بالفرض اس حدیث کو صحیح بھی مانا جائے، تاویل بھی نہ کی جائے اور عمل بھی کیا جائے تو زیادہ سے زیادہ یہ ہو گا کہ کبھی کبھار رفع الیدین نہ بھی کیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔ معمول رفع الیدین ہی کا ہوتاکہ سب حدثیوں پر عمل ہو۔ اس روایت سے نسخ تو قطعاً ثابت نہیں ہوتا۔ مندرجہ بالا معقول باتوں کو چھوڑ کر نسخ ہی باور کرانے پر تلے رہنا، جب کہ مولانا انور شاہ کشمیری نے بھی نسخ کی تردید کی ہے، یقیناًً انتہائی نامعقولیت ہے جس کا کوئی جواز نہیں کیا جا سکتا۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1027   

  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1059  
´رفع یدین نہ کرنے کی رخصت کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ پڑھاؤں؟ چنانچہ انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی، تو انہوں نے صرف ایک بار رفع یدین کیا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1059]
1059۔ اردو حاشیہ: یہ روایت ضعیف ہے۔ مزید دیکھیے، حدیث: 1027۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1059   

  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، ابوداود 748  
رفع یدین کو منسوخ یا متروک سمجھنا باطل ہے
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف منسو ب ایک روایت میں آیا ہے کہ انہوں نے صرف تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کیا۔ [سنن ترمذي: 257، سنن ابي داود: 748 وغيرهما]
اس کی سند سفیان ثوری (مدلس) کی تدلیس (عن) کی وجہ سے ضعیف ہے۔
دیکھئے میری کتاب: نور العینین اور میرا مضمون: امام سفیان ثوری کی تدلیس اور طبقۂ ثانیہ؟
ماسٹر امین اوکاڑوی نے کہا: کیونکہ اس میں سفیان مدلس… [تجليات صفدر ج5 ص470]
سرفراز خان صفدر نے کہا: مدلس راوی عن سے روایت کرے تو وہ حجت نہیں… [خزائن السنن ج1 ص1]
اگر کوئی کہے کہ سفیان ثوری کی روایتیں صحیح بخاری میں بھی موجود ہیں، تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہر مدلس کی صحیحن (صحیح بخاری و صحیح مسلم) میں ہر روایت صحیح ہے۔ دیکھئے خزائن السنن (ج1 ص1) لیکن صحیحین کے باہر دوسری کتابوں میں اس مدلس کے سماع کی تصریح یا معتبر متابعت ہونا ضروری ہے۔
مدلس کی عن والی ضعیف روایت کو شیخ احمد شاکر اور البانی وغیرہما کا صحیح قرار دینا اصولِ حدیث کے خلاف ہونے کی وجہ سے غلط ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔ [صحيح بخاري ج 1 ص102 ح736 ملخصا]
اس کے راوی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔ [صحيح بخاري: 739]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے شاگرد ان کے بیٹے سالم رحمہ اللہ بھی رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔ [حديث السراج 34/2۔ 35 ح115، و سنده صحيح]
یاد رہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری زندگی میں آپ کے ساتھ نماز پڑھی تھی۔ دیکھئے: [صحيح بخاري 116 صحيح مسلم 2537]
معلوم ہوا کہ رفع یدین کو منسوخ یا متروک سمجھنا باطل ہے۔
۔۔۔ اصل مضمون دیکھیں۔۔۔
فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام) ج2 ص77
   فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)، حدیث/صفحہ نمبر: 77   

  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، ابوداود748  
سمرقندی صاحب کی روایت
اسناد دین میں سے ہیں (اور) اگر سند نہ ہوتی تو جس کے جو دل میں آتا کہتا۔
مشہور ثقہ امام عبداللہ بن المبارک المروزی رحمہ اللہ نے فرمایا:
«الْإِسْنَادُ مِنَ الدِّينِ، وَلَوْلَا الْإِسْنَادُ لَقَالَ مَنْ شَاءَ مَا شَاءَ»
اسناد دین میں سے ہیں (اور) اگر سند نہ ہوتی تو جس کے جو دل میں آتا کہتا۔
[صحيح مسلم، ترقيم دارالسلام: 32، ماهنامه منهاج القرآن لاهور ج 20 شماره: 11، نومبر 2006ء ص 22]
اس سنہری قول سے معلوم ہوا کہ بے سند بات مردود ہوتی ہے۔
ادارہ منہاج القرآن کے بانی محمد طاہر القادری صاحب اس کی تشریح میں فرماتے ہیں:
پس روایت حدیث، علم حدیث، علم تفسیر اور مکمل دین کا مدار اسناد پر ہے۔ سند کے بغیر کوئی چیز قبول نہ کی جاتی تھی۔
[ماهنامه منهاج القرآن ج 20 شماره: 11 ص 23]
اس تمہید کے بعد عرض ہے کہ علاء الدین محمد بن احمد بن ابی احمد السمرقندی نے تحفۃ الفقہاء نامی کتاب میں لکھا ہے:
«والصحيح مذهبنا لما روي عن ابن عباس أنه قال: إن العشرة الذين بشر لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم بالجنة ما كانوا يرفعون أيديهم إلا لإ فتتاح الصلٰوة. قال السمرقندي: وخلاف هٰؤلاء الصحابة قبيح»
اور صحیح ہمارا (حنفی) مذہب ہے، اس وجہ سے کہ جو ابن عباس (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا گیا ہے کہ انھوں نے فرمایا: بے شک عشرہ مبشرہ جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی خوش خبری دی، وہ شروع نماز کے سوا رفع یدین نہیں کرتے تھے۔ سمرقندی نے کہا: اور ان صحابہ کی مخالفت بُری (حرکت) ہے۔
[ج 1 ص 132، 133، دوسرا نسخه ص 66، 67]
سمرقندی کے بعد تقریباً یہی عبارت علاء الدین ابوبکر بن مسعود الکاسانی (متوفی 587ھ) نے بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع [ج 1 ص 207] میں اور بدر الدین محمود بن احمد العینی (متوفی 855ھ) نے بحوالہ بدائع الصنائع اپنی کتاب عمدۃ القاری [ج5 ص272] میں نقل کر رکھی ہے۔ ملا کاسانی نے بدائع الصنائع کے شروع میں یہ اشارہ کر دیا ہے کہ انھوں نے اپنے استاد محمد بن احمد بن ابی احمد السمرقندی سے لے کر اپنی کتاب مرتب کی ہے۔ [ج 1 ص 2]
معلوم ہوا کہ اس روایت کا دارومدار سمرقندی مذکور پر ہے۔ سمرقندی صاحب 553 ہجری میں فوت ہوئے۔ دیکھئے: [معجم المؤلفين ج 3 ص 67 ت 11750]
یعنی وہ پانچویں یا چھٹی صدی ہجری میں پیدا ہوئے تھے۔ فقیر محمد جہلمی تقلیدی نے انھیں حدیقۂ ششم (چھٹی صدی کے فقہاء و علماء کے بیان) میں ذکر کیا ہے۔ [حدائق الحنفيه ص 267]
سمرقندی مذکور سے لے کر صدیوں پہلے 68 ھ میں فوت ہونے والے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ تک کوئی سند اور حوالہ موجود نہیں ہے، لہٰذا یہ روایت بے سند اور بے حوالہ ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔
تنبیہ بلیغ: ایسی بے سند وبے حوالہ روایت کو «أخرجه السمرقندي فى تحفة الفقهاء» إلخ، اس کی تخریج سمرقندی نے تحفۃ الفقہاء میں کی ہے الخ، کہہ کر سادہ لوح عوام کو دھوکا نہیں دینا چاہئے۔ لوگ تو یہ سمجھیں گے کہ سمرقندی کوئی بہت بڑا محدث ہوگا جس نے یہ روایت اپنی سند کے ساتھ اپنی کتاب تحفۃ الفقہاء میں نقل کر رکھی ہے۔ حالانکہ سمرقندی کا محدث ہونا ہی ثابت نہیں ہے بلکہ وہ ایک تقلیدی فقیہ تھا جس نے یہ روایت بغیر کسی سند اور حوالے کے «رُوي» کے گول مول لفظ سے لکھ رکھی ہے۔ اب عوام میں کس کے پاس وقت ہے کہ اصل کتاب کھول کر تحقیق کرتا پھرے۔!
عام طور پر غیر ثابت اور ضعیف روایت کے لئے صیغۂ تمریض «رُوِيَ» وغیرہ کے الفاظ بیان کئے جاتے ہیں، دیکھئے: [مقدمة ابن الصلاح مع شرح العراقي ص 136 نوع 22]
لہٰذا جس روایت کی کوئی سند سرے سے موجود ہی نہ ہو اور پھر بعض الناس اسے «رُوي» وغیرہ الفاظ سے بیان کریں تو ایسی روایت موضوع، بے اصل اور مردود ہی ہوتی ہے۔
سمرقندی و کاسانی کی پیش کردہ یہ بے سند و بے حوالہ روایت متن اور اصولِ روایت و اصولِ درایت کے لحاظ سے بھی مردود ہے۔
دلیل اول: امام ابو بکر بن ابی شیبہ رحمہ اللہ (متوفی 235ھ) فرماتے ہیں:
«حدثنا هشيم قال: أخبرنا أبو جمرة قال: رأيت ابن عباس يرفع يديه إذا افتتح الصلٰوة وإذا ركع وإذا رفع رأسه من الركوع»
ہمیں ہشیم نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابو جمرہ نے خبر دی، کہا: میں نے ابن عباس (رضی اللہ عنہ) کو دیکھا آپ شروع نماز اور رکوع کرتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کرتے تھے۔
[مصنف ابن ابي شيبه ج 1 ص 235 ح 2431]
اس روایت کی سند حسن لذاتہ یا صحیح ہے۔
معلوم ہوا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بذاتِ خود رکوع سے پہلے اور بعد والا رفع یدین کرتے تھے لہٰذا یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ انھوں نے رفع یدین کے خلاف کوئی روایت بیان کر رکھی ہو۔ «من ادعي خلافه فعليه أن يأتى بالدليل.»
دلیل دوم: عشرۂ مبشرہ میں سے اول صحابی سیدنا ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔ دیکھئے امام بیہقی کی کتاب السنن الکبریٰ [ج 2 ص 73] «وقال: رواته ثقات» اس کے راوی ثقہ (قابلِ اعتماد) ہیں۔
تنبیہ: اس روایت کی سند بالکل صحیح ہے اور اس پر بعض الناس کی جرح مردود ہے۔ دیکھئے میری کتاب نورالعینین فی مسئلۃ رفع الیدین [ص 119 تا 121]
دلیل سوم: سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے بھی رکوع سے پہلے اور بعد والا رفع یدین مروی ہے۔ دیکھئے نصب الرایہ [ج 1 ص 416] ومسند الفاروق لابن کثیر [ج 1 ص 165، 166] وشرح سنن الترمذی لابن سید الناس [قلمي ج 2 ص 217] وسندہ حسن، نیز دیکھئے نورالعینین [ص 195 تا 204] اس روایت کی سند حسن ہے اور یہ روایت شواہد کے ساتھ صحیح لغیرہ ہے۔
دلیل چہارم: سیدنا ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر عشرۂ مبشرہ میں سے کسی ایک صحابی سے بھی رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع یدین کا ترک، ممانعت یا منسوخیت قطعاً ثابت نہیں ہے۔
تنبیہ: طاہر القادری صاحب نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ترک رفع یدین کی تین روایات لکھی ہیں۔ المنہاج السوی طبع چہارم [ص 228، 229 ح 258، 260، 261] یہ تینوں روایات اُصولِ حدیث کی رُو سے ضعیف ہیں۔ دیکھئے: نورالعینین [ص 231، 234، 236]
ان میں سے پہلی روایت کے راوی محمد بن جابر پر خود امام دارقطنی و امام بیہقی نے جرح کر رکھی ہے۔ اہلِ سنت کے جلیل القدر امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اس روایت کے بارے میں فرماتے ہیں: «هٰذا حديث منكر» یہ حدیث منکر ہے۔ [المسائل: رواية عبدالله بن احمد ج1ص 242 ت 327]
ابھی تک ماہنامہ الحدیث حضرو اور نورالعینین کی محولہ تنقید و جرح کا کوئی جواب ہمارے پاس نہیں آیا۔ والحمد للہ
خلاصۃ التحقیق: محمد طاہر القادری صاحب کی مسؤلہ روایتِ مذکورہ بےسند اور بےحوالہ ہونے کی وجہ سے بے اصل، باطل اور مردود ہے۔ «وما علينا إلا البلاغ»
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
فتاویٰ علمیہ المعروف توضیح الاحکام (جلد 1 صفحہ 363 تا 366) للشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
   فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)، حدیث/صفحہ نمبر: 366   

  محترم ابوحمزہ عبدالخالق صدیقی حفظ الله، فوائد و مسائل، ابوداود 748  
مانعین رفع الیدین کے بنیادی دلائل میں سے سرفہرست سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث مبارک ہے۔ جس میں ہے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
«ألا أصلي بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم، فصلى، فلم يرفع يديه الا فى اول مرة.»
«سنن ترمذي، ابواب الصلاة، رقم: 257 ـ سنن أبو داؤد، رقم: 748. مشكاة، رقم: 809.
»
کیا میں تمھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھاؤں؟ پس آپ نے نماز پڑھی اور صرف پہلی مرتبہ ہاتھ اٹھائے۔
اس روایت کو کئی ایک ائمہ محدثین رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔ مثلاً:
➊ امام عبدالله بن مبارك (شاگرد امام ابو حنيفه) [سنن: ترمذي: 2/ 38، التحقيق لابن الجوزي: 1/ 278]
➋ امام شافعی [الزرقـانـي عـلى الموطا: 1/ 158۔ فتح البارى 2 / 175]
➌ امام احمد بن حنبل [التمهيد: 219/9ـ العلل ومعرفة الرجال: 116/1، 117]
➍ امام ابو حاتم رازی [علل الحديث: 96/1]
➎ امام دار قطنی [العلل 172/5]
➏ امام ابن حبان [التلخيص: 222/1]
➐ امام ابو داؤد [سنن أبى داؤد: 199/1]
➑ امام يحيى بن آدم [التلخيص: 222/1]
➒ امام بزار [التمهيد: 220/9، 221]
➓ امام محمد بن وضاح [التمهيد: 221/9]
⓫ امام بخاری [التلخيص: 1/ 222۔ جزء رفع اليدين، 113۔ المجموع: 3/ 403]
⓬ امام ابن القطان الفاسي [نصب الرايه: 1/ 395]
⓭ امام ابن ملقن [البدر المنير]
⓮ امام حاکم [تهذيب السنن: 449/2]
⓯ امام نووی [المجموع: 403/3]
⓰ امام دارمی [تهذيب السنن: 449/2]
⓱ امام بیهقی [مختصر خلافيات: 379/1]
⓲ امام مروزی [نصب الرايه: 1 / 395]
⓳ امام ابن قدامه [المغنى: 295/1]
(20) امام ابن عبدالبر [التمهيد: 9/ 220، 221۔ مرعاة: 323/2]
(21) امام ابن قيم [المنار المنيف، ص 49]
علماء اصول کا مشہور قول ہے:
«الترمذى يتساهل فى التحسين.»
[فتح البارى: 62/9]
ترمذی حدیث کو حسن کہنے میں متساہل ہیں۔
   میں رفع یدین کیوں کروں، حدیث/صفحہ نمبر: 999