اس طریق سے بھی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: ”گمشدہ بکری کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بکری تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی یا بھیڑیئے کی، تو اسے پکڑے رکھو“۔ اسی طرح ایوب اور یعقوب بن عطا نے عمرو بن شعیب سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے (مرسلاً) روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”تو تم اسے پکڑے رکھو“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللُّقَطَةِ/حدیث: 1712]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/ قطع السارق 8 (4960)، (تحفة الأشراف:8755)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/186) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن رواه النسائي (4960 وسنده حسن) وانظر الحديثين السابقين (1710، 1711)
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1712
1712. اردو حاشیہ: محدث یہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ عمرو بن شعیب کے تین تلامذہ عبیداللہ بن اخنس ایوب اور یعقوب بن عطاء صرف لفظ «فخذها» بیان کرتے ہیں۔اس پر مزید کوئی اضافہ نہیں کرتے جیسے کہ مندرجہ ذیل روایت میں ابن اسحق نے «فاجمعها حتى ياتيها باغيها» ایک مفصل جملہ ذکر کیا ہے۔(عون المعبود]
سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1712