امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو شخص اناج خریدے نرخ مقرر کر کے میعاد معین پر، جب میعاد پوری ہو تو جس کے ذمہ اناج واجب ہے وہ کہے: میرے پاس اناج نہیں ہے، جو اناج میرے ذمہ ہے وہ میرے ہی ہاتھ بیچ ڈال اتنی میعاد پر۔ وہ شخص کہے: یہ جائز نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے اناج بیچنے کو جب تک قبضے میں نہ آئے، جس کے ذمہ پر اناج ہے وہ کہے: اچھا تو کوئی اور اناج میرے ہاتھ بیچ ڈال میعاد پر، تاکہ میں اسی اناج کو تیرے حوالے کردوں، تو یہ درست نہیں، کیونکہ وہ شخص اناج دے کر پھیر لے گا، اور بائع مشتری کو جو قیمت دے گا وہ گویا مشتری کی ہوگی جو اس نے بائع کو دی، اور یہ اناج درمیان میں حلال کرنے والا ہوگا، تو گویا اناج کی بیع ہوگی قبل قبضے کے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 1357B1]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ زید نے عمرو سے غلہ خریدا، عمرو کا غلہ بکر کے اوپر آتا تھا، تو عمرو نے زید سے کہا: جس قدر غلہ تو نے مجھ سے خریدا ہے اسی قدر غلہ میرے بکر پر آتا ہے، میں تیرا سامنا بکر سے کرا دیتا ہوں تو اس سے لے لے، تو اگر عمرو نے زید کے ہاتھ غلہ کو یونہی بیچا تھا تو یہ حوالہ درست نہیں، کیونکہ اناج کی بیع قبل قبضے کے لازم آتی ہے۔ اگر عمرو نے زید سے سلم کی تھی اور میعاد گزرنے پر اس اناج کا حوالہ بکر پر کر دیا تو درست ہے، کیونکہ یہ بیع نہیں ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 1357B2]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اناج کی بیع قبل قبضے کے ممنوع ہے، مگر اہلِ علم نے اجماع کیا ہے کہ شرکت اور تولیہ اور اقالہ اناج وغیرہ میں درست ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 1357B3]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ اس واسطے کہ اہلِ علم نے ان چیزوں میں رواج اور دستور کا اعتبار رکھا ہے، اور ان کو مثل بیع کے نہیں سمجھا۔ اس کی نظیر یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے ناقص کم وزن روپے دیئے پھر مسلم الیہ نے اس کو پورے وزن کے روپے ادا کردیئے تو یہ درست ہے، مگر ناقص روپوں کی بیع پورے وزن کے روپوں کے بدلے میں درست نہیں، اگر اس شخص نے سلم کرتے وقت ناقص کم وزن روپے دے کر پورے روپے لینے کی شرط کی تھی تو درست نہ ہوگا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 1357B4]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس کی نظیر یہ بھی کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع کیا اور عرایا کی اجازت دی۔ وجہ یہ ہے کہ مزابنہ کا معاملہ تجارت اور ہو شیاری کے طور پر ہوتا ہے، اور عرایا بطورِ احسان اور سلوک کے ہوتا ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 1357B5]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ درست نہیں کہ چوتھائی یا تہائی درہم یا اور کسی کسر کے بدلے میں اناج خریدے اس شرط پر کہ اس چوتھائی یا تہائی یا کسر کے عوض میں اناج دے گا وعدے پر، البتہ اس میں کچھ قباحت نہیں کہ چوتھائی یا تہائی درہم یا کسی کسر کے بدلے میں اناج خریدے وعدے پر، جب وعدہ گزرے تو ایک درہم حوالے کردے اور باقی کے بدلے میں کوئی اور چیز خرید کر لے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 1357B6]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس میں کچھ قباحت نہیں کسی کے پاس ایک درہم رکھوائے پھر تہائی یا چوتھائی یا کسر کے بدلے میں کوئی چیز خرید لے، جب کسرات کا نرخ معین ہو، اگر نرخ معین نہ ہو اور وہ یہ کہے کہ ہر روز کے نرخ کے حساب سے میں لیا کروں گا تو درست نہیں، کیونکہ اس میں دھوکا ہے، کبھی نرخ بڑھ جاتا ہے کبھی نرخ گھٹ جاتا ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 1357B7]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جس شخص نے اناج کا ڈھیر لگا کر بیچ ڈالا اور اس میں سے کچھ مستثنیٰ نہ کیا، بعد اس کے پھر اس میں سے کچھ خریدنا چاہے تو اسی قدر خرید سکتا ہے جتنے کا استثنیٰ درست ہے، یعنی تہائی تک یا تہائی سے کم، اگر تہائی سے زیادہ ہو گا تو مزابنہ کی مانند مکروہ ہوگا۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک اس حکم میں اختلاف نہیں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 1357B8]