سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میرا رضاعی چچا میرے پاس آیا اور مجھ سے اندر آنے کی اجازت مانگی، میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھے بغیر اجازت نہ دوں گی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے، تو پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تیرا چچا ہے، تو اس کو آنے کی اجازت دے دے۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھ کو تو عورت نے دودھ پلایا تھا، مرد کا اس سے کیا تعلق؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تیرا چچا ہے، بے شک تیرے پاس آئے گا۔“ اور یہ گفتگو اس وقت کی ہے جب آیتِ حجاب اُتر چکی تھی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جو رشتے نسب سے حرام ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہیں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 1251]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 4796، 5099، 5103، 5111، 5239، 6156، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1445، والنسائي فى «المجتبيٰ» برقم: 3319، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2057، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1148، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1949، وأحمد فى «مسنده» برقم: 26138، والحميدي فى «مسنده» برقم: 232، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13937، والطبراني فى «الصغير» برقم: 243، 746، فواد عبدالباقي نمبر: 30 - كِتَابُ الرَّضَاعِ-ح: 2»