رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ان کے پاس تھے، اتنے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرد کی آواز سنی جو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر جانے کی اجازت چاہتا تھا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بولیں: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کون شخص ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں جانا چاہتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سمجھتا ہوں کہ فلاں شخص ہے۔“ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی چچا کا نام لیا۔ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میرا رضاعی چچا زندہ ہوتا تو کیا میرے سامنے آتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، رضاعت حرام کرتی ہے جیسے نسب حرام کرتا ہے۔“[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 1250]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2644، 2646، 3105، 4796، 5099، 5103، 5111، 5239، 6156، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1444، 1445، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4109، 4219، 4220، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3315، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5411، 5412، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2055، 2057، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1147، 1148، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2293، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1937، 1948، 1949، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 950،، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12732، وأحمد فى «مسنده» برقم: 24688، والحميدي فى «مسنده» برقم: 231، 232، فواد عبدالباقي نمبر: 30 - كِتَابُ الرَّضَاعِ-ح: 1»