الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 86
´بوسہ لینے سے وضو کے نہ ٹوٹنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اپنی بیویوں میں سے کسی ایک کا بوسہ لیا، پھر آپ نماز کے لیے نکلے اور وضو نہیں کیا، عروہ کہتے ہیں کہ میں نے (اپنی خالہ ام المؤمنین عائشہ سے) کہا: وہ آپ ہی رہی ہوں گی؟ تو وہ ہنس پڑیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 86]
اردو حاشہ:
1؎:
یعنی آپ نے سابق وضو ہی پرنماز پڑھی،
بوسہ لینے سے نیا وضو نہیں کیا،
اس میں اس بات پر دلیل ہے کہ عورت کے چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا اور یہی قول راجح ہے۔
2؎:
لیکن امام شوکانی نے نیل الأوطار میں اور علامہ البانی نے صحیح أبی داود (رقم 171- 172) میں متابعات اور شواہد کی بنیاد پر اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے،
نیز دیگر بہت سے ائمہ نے بھی اس حدیث کی تصحیح کی ہے (تفصیل کے لیے دیکھئے مذکورہ حوالے)
3؎:
”لا شئی کے مشابہ“ ہے یعنی ضعیف ہے۔
نوٹ:
(سند میں حبیب بن ابی ثابت اور عروہ کے درمیان انقطاع ہے جیسا کہ مؤلف نے صراحت کی ہے،
لیکن متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے)
سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 86